حفظان صحت وبا تدابیر 135

دہلی کا مختصرترین سفر

Spread the love

حکیم محمد شیراز

لکچرر شعبہ معالجات، کشمیر یونیورسٹی ، سری نگر، کشمیر۔9797750472

کسے خبر تھی کہ راقم کو ناگہانی طور سے دلی کی سیاحت کا موقع ملنے والا ہے۔مسلمانان ہند کی عظمت کا نشانِ عالیشان اور پایہ تخت ہندوستان دہلی ایک ایسی عظیم یادگار کا حامل ہے، جو نہ صرف مسلمانوں کے زرّیں دور کی امین ہے بلکہ ان کے زوال کا مظہر بھی ۔بقول شاعر:

اے جہان آباد! اے گہوارہ علم و ہنر

ہیں سراپا نالہ خاموش تیرے بام و در

ذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمر

یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر

4جنوری2021ءکی بات ہے، دہلی سے سری نگر کی فلائیٹ تھی۔ جموں پہنچ کر پتہ چلا کہ اس وقت وادی میں شدید برف باری ہو رہی ہے۔ فضائی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ ہوائی جہاز واپس دلی جائے گا اور دو دن بعد روانہ ہو گا۔ زندگی میں کئی بار میرے راستے میں چھوٹی بڑی رکاوٹیں آئیں اور گزر گئیں۔۔ اب میرے سامنے ایک نئی رکاوٹ تھی۔ جس کا حل کمال دانشمندی سے نکالنا تھا اس لیے کہ اہل خانہ ساتھ تھے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب مزاج ایسا بن گیا ہے کہ ………..

چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے

اگر آسانیا ں ہوں زندگی دشوار ہو جائے

بلکہ ان رکاوٹوں کو میں اپنی ترقیوں کا پیش خیمہ سمجھتا ہوں۔ ہر پریشانی میں مجھے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملا۔ بلکہ یہی سمجھ میں آیا کہ :

تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب!

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

غرض اس طرح دلی میں دو روز قیام کا خدادا جواز مل گیا۔ اہل خانہ کو ساتھ لے کر ایک صاف و شفاف ہوٹل میں قیام کیا گیا۔ دو دنوں میں دہلی و مضافات کی سیاحت کا نظام بنا یا گیا۔ سیاحت میرا ذوق ہے، میرا جنون ہے۔ خصوصاً من جانب اللہ اگر اس کا انتظام ہو جائے تو یہ میرے لیے نعمت کبریٰ ہے۔ سیاحت بھی اگر تاریخی مقاما ت کی ہو تو یہ میرے لیے نور علی نور ہے۔
یوں تو کئی بار آفیشیل مقاصد کے تحت دلی آنے جانے کا موقع ملا۔ مگر سیاحت کا موقع اب ہاتھ آیا تھا۔اس لیے اس موقع کو غنیمت جانا۔
بہر کیف ۵ جنوری کو ہماری پہلی منزل تھی قطب مینار و ملحقہ عمارتیں۔

واضح رہے کہ ہندوستان کی تاریخ جاننے کے سلسلے میں تاریخِ فرشتہ(ابو القاسم فرشتہ، مترجم محمد مدثر بھٹی)، سلطنت مغلیہ کا عروج و زوال، تاریخ مغلیہ دور حکومت(خافی خاں) وغیرہ زیر مطالعہ رہ چکی ہیں۔ اس نسبت سے کسی گائیڈ کی ضرورت تو نہیں تھی مگر ایک رہبر خود درخواست کر رہا تھا کہ اس کی رہبری حاصل کی جائے۔ اسوہ رسول ﷺ یہ ہے کہ کسی سائل کو رد نہ کیا جائے، کے تحت اس کی رہبری حاصل کی گئی۔ مگر الحمد للہ! بہت سی تاریخی باتیں جو وہ رہبر بھی نہ جانتا تھا، اسے گوش و گزار کی گئیں۔ پہلی عمارت جو سامنے آئی، اس کا نام ہے مسجد قوت الاسلام۔

مسجد قوت الاسلام

یہ مسجد بھی کینہ پروروں و بت پرستوں کی زد میں کئی زمانہ سے ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس مسجد کا خاصہ حصہ منہدم ہو چکا ہے۔ مگر بت پرستوں کی تسکین محض اتنی بات پر کیسے ہو سکتی ہے۔ آج کل اسے بھی بابری مسجد کی طرح متنا زعہ بنانے کی کوششیں زوروں پر ہیں۔ مسجد کی ایک دیوار پر حسب ذیل کتبہ نظر آیا
آئرن پلر:
مسجد کے احاطہ میں لوہے کا ایک ستون ہے۔ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ چندر گپت دوم بادشاہ کا تعمیر کردہ ہے۔ اس کی تعمیر 375-415CEہے۔ مستند مآخذ کے مطابق اسے کہیں اور سے اٹھا کر یہاں نصب کیا گیا ہے۔ بعض روایات کے مطابق اس کا اصلی مقام متھراہے، بعض کے مطابق ادیاگری غار ہے، بعض کے مطابق الہ آباد ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔یہ وہی سازش ہے، جو بابری مسجد کے ساتھ رچی گئی۔ جس کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں۔

اس مسجد کی تعمیر و توسیع میںقطب الدین ایبک، شمس الدین التمش کے ساتھ ساتھ علاوالدین خلجی کا نام نامی اسم گرامی بھی شامل ہے۔ اس مسجد کی تعمیر میں عجیب فن مہارت کا استعمال کیا گیا ہے، جو کم از کم اس زمانہ کے لحاظ سے حیرت انگیز ہے، جسے ہم ’Key and Lock‘ سسٹم کہہ سکتے ہیں۔ جس کی عکس بندی میں راقم نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔
اس کے علاوہ مسجد کے آس پاس کچھ ایسے ستون بھی نظر آئے جو سنسکرت تہذیب کے غماز ہیں۔ اللہ پاک ہی اس کی حقیقت سے بہتر طور پر واقف ہے۔

مسجد قوت الاسلام تاریخ کے آئینے میں:

ہندوستان میں سرکش راجاوں کے خلاف فتح حاصل ہونے کے بعد دہلی میں اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ یہ قطب الدین ایبک کے دور کی تعمیرات میں سب سے اعلی مقام رکھتی ہے۔ بندگان توحید کے ذریعہ خدائے واحد بزرگ و برتر کے لیے اس کی تعمیر کا آغاز 1190ء کی دہائی میں ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ہندوستان کی سب سے پہلی مسجد ہے۔ عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دی گئی یہ عظیم مسجد آج کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے۔

حکیم الامت علامہ اقبال نے اپنے مجموعہ کلام ’’ضرب کلیم‘‘ میں ایک نظم ’’قوت اسلام مسجد‘‘ کے عنوان سے لکھی ہے:

مسجد قوت الاسلام

ہے مرے سینہ بے نور میں اب کیا باقی
لا الہ’ مردہ و افسردہ و بے ذوقِ نمود
چشمِ فطرت بھی نہ پہچان سکے گی مجھ کو
کہ ایازی سے دگرگوں ہے مقامِ محمود
کیوں مسلماں نہ خجل ہو تری سنگینی سے
کہ غلامی سے ہوا مثلِ ز ±جاج اس کا وجود
ہے تری شان کے شایاں اسی مومن کی نماز
جس کی تکبیر میں ہر معرکہ بود و نبود
اب کہاں میرے نفس میں وہ حرارت، وہ گداز
بے تب و تابِ دروں میری صلوٰۃ و درود
ہے مری بانگِ اذاں میں نہ بلندی، نہ شکوہ
کیا گوارا ہے تجھے ایسے مسلماں کا سجود؟

چو نکہ یہ مسجد ویران ہے۔نیز ہر خاص و عام کے لیے آماج گاہ ہے۔دل میں آیا کہ کیوں نہ کچھ دیر کے لیے اس سر زمین کو رکوع و سجود سے آباد کیا جائے۔ظہر کا وقت ہو رہا تھا ، بس کیا تھا۔۔۔

قبلہ رُو ہو کہ زمیں بوس ہوئی قوم حجاز

کوئی کیا جانے کے ایسی جگہوں پر نماز کا کیا لطف ہوتا ہے۔بے اختیار اقبال کے یہ اشعار ذہن میں آ گئے:

ہے یہی میری نماز، ہے یہی میرا وضو
میری نواو ں میں ہے میرے جگر کا لہو
صحبتِ اہلِ صفا، نور و حضور و سرور
سر خوش و پرسوز ہے لالہ لبِ آب ±جو
راہِ محبّت میں ہے کون کسی کا رفیق
ساتھ مرے رہ گئی ایک مری آرزو
میرا نشیمن نہیں درگہِ میر و وزیر
میرا نشیمن بھی تو، شاخِ نشیمن بھی تو
تجھ سے گریباں مرا مطلعِ صبحِ نشور
تجھ سے مرے سینے میں آتشِ ’اللہ ھو‘
تجھ سے مری زندگی سوز و تب و درد و داغ
تو ہی مری آرزو، تو ہی مری جستجو
پاس اگر تو نہیں، شہر ہے ویراں تمام
تو ہے تو آباد ہیں ا جڑے ہوئے کاخ و کو
پھر وہ شرابِ کہن مجھ کو عطا کر کہ مَیں
ڈھونڈ رہا ہوں ا سے توڑ کے جام و سبو
چشمِ کرم ساقیا! دیر سے ہیں منتظر
جلوَتیوں کے سبو، خلوَتیوں کے ک دو
تیری خدائی سے ہے میرے جنوں کو گِلہ
اپنے لیے لامکاں، میرے لیے چار سو!
فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا
حرفِ تمنّا، جسے کہہ نہ سکیں ر و برو

13 ویں صدی میں التمش کے دور حکومت میں اس میں توسیع کر کے حجم میں تین گنا اضافہ کیا گیا۔ بعد ازاں اس میں علاء الدین خلجی کے ذریعہ مزید تین گنا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اور عظیم مینار تعمیر کیا گیا، جس کا نام علاءالدین خلجی کے نام پر علائی مینار رکھا گیا۔ مگر سلطان کی وفات کے بعد کسی اور نے علائی مینار کی تعمیر کی طرف توجہ نہ دی۔ اس لیے یہ نامکمل تعمیر کردہ مینارآج بھی احاطہ میں موجود ہے ۔مسجد قوت الاسلام کے قریب شمس الدین التتمش کا مزار بھی واقع ہے نیز علاو الدین خلجی کا مزار بھی واقع ہے۔ مسجد میں خط کوفی میں خطاطی کے بہترین نمونے موجود ہیں۔ مسجد کے مغرب میں التمش کا مزار ہے جو 1235ء میں تعمیر کیا گیا۔ راقم نے دو لمحہ ان عظیم بادشاہوں کے مرقد کے قریب گزارا۔ نیز ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کیں۔ تاریخی شواہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دو بزرگ متقی، پرہیز گار اور دین و اسلام کے خدمت گزار سپاہی تھے۔ انھوں نے یہاں ایک مدرسہ بھی قائم کیا، جس کے کلاس روم آج بھی موجود ہیں۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہر دو بادشاہوں کی مختصر تفصیلات بھی سامنے آ جائیں۔

شمس الدین التمش:

مدفن: قطب کمپلیکس
زوجہ: قطب بیگم
اولاد: ناصر الدین محمود، رضیہ سلطانہ، معز الدین بہرام شاہ، رکن الدین فیروز
مناصب:سلطان سلطنت دہلی
برسر عہدہ
مئی 1211 – 28 اپریل 1236
پیشہ: سیاست دان

شمس الدین التمش (وفات: 28 اپریل 1236ء) سلطنت دہلی اور خاندانِ غلاماں کا تیسرا حکمران اور بادشاہ، جو قطب الدین ایبک کا غلام تھا اور اس نے ہونہار دیکھ کر اسے اپنا داماد بنا لیا تھا۔1211ءمیں قطب الدین ایبک کے نااہل بیٹے آرام شاہ کو تخت سے اتار کر خود حکمران بن گیا۔ اس وقت وہ بہار کا صوبیدار تھا۔ تخت نشین ہوتے ہی ا سے ان صوبیداروں کی سرکوبی کرنی پڑی جو خود مختار بن بیٹھے تھے۔ خطہ پنجاب اور غزنی میں تاج الدین، سندھ میں ناصر الدین قباچہ اور بنگال میں خلجیوں نے سر اٹھایا۔ اس نے سب کو مطیع کیا۔ 1226ءسے 1234ء تک کے درمیانی مدت میں راجپوتوں سے جنگ کرکے رنتھمبور، منڈو، گوالیار اور ا جین فتح کیے۔

1221ءمیں منگول سردار چنگیز خان خوارزم شاہی سلطنت کے بادشاہ جلال الدین خوارزم کا تعاقب کرتے ہوئے دریائے سندھ تک آ پہنچا، لیکن دریا سے پہلے تمام علاقے کو تباہ برباد کرکے واپس چلا گیا اور ہندوستان اس خوف ناک آفت سے بچ گیا۔ التمش نے قطب مینار اور قوت اسلام مسجد کو مکمل کرایا، جنہیں قطب الدین ایبک اپنی زندگی میں نامکمل چھوڑ گیا تھا۔ سلطان التمش نے اپنی بیٹی رضیہ سلطانہ کو اپنا جانشیں مقرر کیا۔

علاءالدین خلجی:

آج کل اسلام دشمن اور فرقہ پرست طاقتیں علاء الدین خلجی کو بدنام کرنے میں مصروف ہیں۔جب کہ سلطان ایک عادل ، متقی اور نظم و ضبط کے پابند بادشاہ تھے۔ علاءالدین خلجی کا پیدائشی نام علی گرشاسپ خلجی تھا اور وہ ہندوستان میں خلجی خاندان کے دوسرے سلطان تھے۔ وہ خلجی خاندان کے سب سے طاقتور سلطان تھے۔

علاءالدین خلجی کے زمانے میں منگولوں کے حملے کا شدید خطرہ تھا اور اس وجہ سے علاءالدین خلجی کو ایک بڑی فوج کی اشد ضرورت تھی۔ فوجی اخراجات کو قابو میں رکھنے کے لیے اس نے بازار میں ہر چیز کی قیمت مقرر کر دی اور اور اس پر سختی سے عمل کروایا۔ اس زمانے کے روپے کو تنکہ کہتے تھے اور وزن کے اعتبار سے ایک تنگہ ایک روپے کے بالکل برابر ہوتا تھا یعنی 96 رتی کا ہوتا تھا۔ ایک تنگہ تانبے کے بنے 50 جتال کے برابر ہوتا تھا۔ روزمرہ استعمال کی چیزیں سستی ہونے سے لوگ خوشحال ہو گئے اور علاء الدین خلجی کے مرنے کے بعد بھی عرصہ تک اس کے عہد کو یاد کیا کرتے تھے۔ علاء الدین خلجی نے دلال (middle man) کا کردار بالکل ختم کر دیا تھا اور ذخیرہ اندوزی کی سخت ترین سزا مقرر کی تھی۔ جاسوسی کاایک ایسا نظام مرتب کیا تھا کہ بادشاہ کو منڈی کی خبریں براہ راست پہنچائی جاتی تھیں۔
تاریخ فرشتہ میں درج ہے کہ علاءالدین خلجی کے ہاں جاسوسی کا ایسا مربوط نظام تھا کہ کسی بھی امیر وزیر کی خوابگاہوں میں ہونے والی گفتگو بھی بادشاہ من و عن بیان کر دیا کرتا تھا جس پر ہر ہر شخص حیران و پریشان ہوا کرتا تھا۔

علاءالدین خلجی وہ واحد مسلم حکمران ہے جس کے پاس دنیا کی سب سے بڑی فوج رہی، نقل ہے کہ خلجی کے پاس 30 لاکھ سے زیادہ فوج تھی۔ علاءالدین خلجی نے مارکیٹ کمیٹیاں بنائیں اور ہر چیز کے نرخ مقرر کئے۔ اس نے مارکیٹ میں نرخ کا نظام چیک کرنے کے لیے کارندے مقرر کر رکھے تھے اور خود بھی بھیس بدل کر بازاروں میں گھوما کرتا اور زائد نرخ پر فروخت اور ذخیرہ اندوزی کی صورت میں سخت سزائیں دیتا تھا۔ اس کے دور میں شراب نوشی پر پابندی تھی اور کسی امیر وزیر کو اپنے گھر میں کسی قسم کی کوئی دعوت یا شادی بیاہ کے لیے بھی بادشاہ سے اجازت لینا پڑتی تھی۔ اس سب کا مقصد صرف اپنی حکومت کا استحکام و طول تھا۔

قطب مینار:

یہ ایک مینار ہے بلکہ مسلمان سلاطین کی فتح کا ایک نشان ہے جو فضائے دہلی میں بے درنگ لہرا رہا ہے۔مینار وہ ہوتا ہے جو عموماً کسی مسجد سے ملحق بنایا جاتا ہے۔ یہ ہندوستا ن کی ”مسجد قوت الاسلام“ سے قریب ہے۔ اس کی تعمیر، در حقیقت ایک اجتمائی تعمیر ہے، جس میں مینار، مسجد اور دیگر تعمیرات ہیں، اس مجمع کو ’’قطب کامپلیکس‘‘ کہتے ہیں۔ جو حسب ذیل عمارتوں پر مشتمل ہے:

۱۔قطب مینار
۲۔مسجد قوت الاسلام
۳۔مدرسہ علاءالدین خلجی
۴۔مقبرہ علاءالدین خلجی
۵۔مقبرہ شمس الدین التمش

یہ مینار اور اس سے ملحقہ عمارات اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہیں۔ دلی میں مہرولی کے علاقہ میں واقع ہے۔ اس کی اونچائی72.5میٹر ہے۔ یہ دنیا کا واحد بلند ترین مینار ہے، جو سرخ اینٹوں سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس مینار کی فلک بوسی اقبال کے اس شعر کے مترادف ہے:

چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں

اس مینار کا بنیادی و زمینی قطر 47فٹ ہے ، جو بلندی پر پہنچتے پہنچتے 2.7میٹر رہ جاتا ہے۔ اس مینار میں 379 زینے ہیں جو انسان کو بلندی کی جانب لے جاتے ہیں۔

قطب مینار تاریخ کے جھروکے سے:

اس مینار کا بانی قطب الدین ایبک کو کہا جاتا ہے۔ قطب الدین ایبک ، محمد غوری کے غلام تھے۔محمد غوری کی وفات کے بعد قطب الدین نے ہندوستان میں سلطنت غلاماں کی بنیا د ڈالی اور ساتھ ہی1199ءاس مینار کے پہلے منزلہ کی تعمیر کا کام شروع کروایا۔ افغانستان کے جامی مینار سے متاثر ہوکر قطب الدین ایبک نے اس مینار کی تعمیر کے لئے حکم نامہ جاری کیا۔ قطب الدین ایبک کے دور میں اس کی تعمیر شروع کی گئی، لیکن اس کے دور میں یہ صرف بنیادی منزل کا کام مکمل ہوسکا۔ ایبک کے جانشین شمس الدین التمش نے اسکے مزید تین منازل تعمیر کروائے۔ بعد میں فیروزشاہ تغلق نے پانچویں اور آخری منزل کی تعمیر کروائی۔

وفادار غلام کی حیثیت سے قطب الدین ایبک نے اس پر کچھ ایسے کتبے درج کروائے تھے جو محمد غوری کی یاد گار تھے۔ بعد ازاں آنے والے حکمران اس میں مزید منزلوں کا اضافہ کرتے گئے اور بالآخر 1368ء میں یہ مینار 72 اعشاریہ 5 میٹر (238 فٹ) تک بلند ہو گیا۔ اور ہندی-اسلامی طرز تعمیر کا شاندار نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ مینار دنیا کا واحد’’آزادانہ مینار‘‘ ہے، یعنی اس مینار کو کسی اور عمارت یا سہارے کے بغیر کھڑا کیا گیا ہے۔

قطب مینار محض ایک مینارہ نہیں ہے، بلکہ دراصل شمالی ہندوستانی سرزمین پر قائم ہونے والی سب سے پہلی مسجد کا مینارہ ہے جو اسلام کی شان و شوکت کا عظیم مظہر اور سرزمینِ ہند پر اللہ و رسول کا کلمہ بلند کرنے کی ایک اہم نشانی ہے۔ اس کا ثبوت اس مسجد کے درودیوار اور خود قطب مینار کے چاروں طرف خط زخارف میں کندہ کی ہوئی وہ عربی و فارسی تحریریں ہیں جو امتدادِزمانہ اور حوادث دہر کے باوجود محو نہیں ہو سکی ہیں۔ قطب مینار کے پہلے دروازہ پر پہونچتے ہی آپ کو اس کے دروازہ پر جو تحریر منقش دکھائی دے گی وہ اللہ کے رسولﷺکی مشہور حدیث ہے ”من بنی للہ مسجدا بنی اللہ لہ بیتا فی الجن“۔
اگر اس مینار کو ہوائی جہاز کی بلندی سے دیکھا جائے تو یہ ایک کنول کے پھول کا منظر پیش کرتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مینار پر آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کنندہ ہیں، جیسا کہ آثار الصنادید (مصنف:سر سید احمد خاں) سے بھی واضح ہے۔

قطب الدین ایبک:

قطب الدین ایبک ہندوستان میں ایک مستقل سلطنت قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔ برصغیر پاک و ہند کا یہ پہلا فرمانروا ترکی الاصل تھا۔ بچپن میں حاکم نیشا پور قاضی فخر الدین عبدالعزیز کوفی نے اسے خریدا اور اسکے زیر سایہ قطب الدین نے تعلیم و تربیت کے علاوہ شہسواری اور تیر اندازی کی تربیت حاصل کی۔ قاضی فخر الدین کی وفات کے بعد اسکے بیٹوں نے قطب الدین کو فروخت کر دیا۔ ایبک ایک بہادر سپاہی اور معاملہ فہم آدمی تھا گھڑسواری میں ماہر اور چوگان (پولو) کا بہت ہی عمدہ کھلاڑی تھا، اس کے دائیں ہاتھ میں 6 انگلیاں تھیں۔ وہ غزنی میں سلطان شہاب الدین محمود غوری کے ہاتھ فروخت ہوا۔ محمد غوری کی نرینہ اولاد نہ تھی۔ وہ اپنے ترکی غلاموں کو اولاد کی طرح پالتا اور انہیں تعلیم و تربیت سے بہرہ ور کرتا اور جو صاحب کمال نظر آتے اسے اہم منصب پر فائز کرتا۔ قطب الدین ایبک نے کئی مہموں میں اپنی بہادری اور دلیری کے جوہر دکھائے۔ چنانچہ ترائن کی دوسری جنگ(1192ء)میں پرتھوی راج چوہان کی شکست کے بعد سلطان نے قطب الدین ایبک کو اپنا نائب سلطنت مقرر کر کے بر صغیر میں مزید فتوحات پر مامور کر کے خود غزنی واپس چلا گیا۔

1192ءاور 1194ء کے درمیان قطب الدین نے ہانسی ، میرٹھ ، بلند شہر، دہلی، کوئل(علی گڑھ) قنوج اور بنارس فتح کیے اور متعدد سرکش راجاؤں پر قابو پایا 1196ءاور 1197ءمیں گجرات، انہلواڑہ اور رنتھمبور کے اہم قلعوں قبضہ کر کے 1202ءتک شمالی ہندوستان کے فاتح کی حیثیت اختیار کی۔ 1206ءمیں سلطان محمد غوری کی وفات کے بعد قطب الدین لاہور پہنچا۔ جہاں اس کی تاجپوشی کا جشن منایا گیا۔

سلاطین دہلی کے لیے وسط ایشیا کی طرف سے ہر وقت خطرہ رہا کرتا تھا۔چنانچہ تاج الدین یلدوز قطب الدین سے شکست کھانے کے باوجود خطرہ بنا رہا۔ اس سے تعلقات استوار کرنے کی خاطر قطب الدین نے تاج الدین یلدوز کی بیٹی سے شادی کر لی۔ نیز اپنی ایک بیٹی کی شادی ناصر الدین قباچہ حاکم ملتان و سندھ سے کردی جبکہ دوسری بیٹی شمس الدین سے بیاہ دی۔ ان رشتوں کیوجہ سے قطب الدین ایبک کی سلطنت بہت مستحکم ہوگئی۔ لیکن قدرت نے اسے نظام حکومت کے میدان میں تنظیمی قابلیت اور فہم و فراست کے جوہر دکھانے کے موقع نہ دیا۔

اسکا نظام حکومت فوجی نوعیت کا تھا۔ اہم صوبوں اور شہروں میں فوج متعین تھی۔ انتظام و انصرام کے لیے عموماً فوجی افسر مقرر ہوئے تھے۔ عدل و انصاف کے لیے ہر صوبہ میں قاضی مقرر تھے۔ جرائم کی سزائیں سخت تھیں۔ اس لیے اسکے عہد میں مکمل امن و امان رہا۔ احکام شریعت کے پابند ہونے کیوجہ سے لگان اراضی جو پہلے پیداوار کا پانچواں حصہ تھی قطب الدین کے عہد میں دسواں حصہ مقرر کی گیا جس سے رعایا خوش حال اور فارغ البال ہو گئی۔

اس زمانے میں امراء میں چوگان کا کھیل بڑا مقبول تھا اور قطب الدین کو بھی چوگان کا بڑا شوق تھا۔ یہی شوق اسکی موت کا باعث ہوا۔ چنانچہ1210ءمیں لاہور میں چوگان کھیلتے ہوئے گرا اور اپنے گھوڑے کے نیچے دب گیا۔ گھوڑے کی زین کا پیش کوہہ سلطان کے سینے میں پیوست ہو گیا۔ اور روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ اس کے جانشین سلطان شمس الدین التمش نے 1217ءمیں ایک عالیشان مقبرہ تعمیر کرایا۔ تا ہم رنجیت سنگھ کے عہد میں اسے مسمار کرا دیا گیا۔ برٹش دور میں لاہور میں آبادی کا اضافہ ہوا تو مقبرہ آبادی میں گھر گیا۔ پاکستان بننے کے بعد محکمہ آثار قدیمہ نے قبر سے متصلہ تمام مکانات کو خرید کر قبر کے احاطہ کو واگذار کرایا اور 1927ءمیں مقبرہ کی تعمیر شروع ہوئی۔ انار کلی بازار سے میو ہسپتال کی طرف جانے والی گلی میں واقع مقبرہ کی حالت کو پہلے سے بہتر تو کر لیا گیا ہے مگر اس کی ساری زمین مکمل طور پر واگزار نہیں کرائی جا سکی جس کی وجہ سے مقبرہ سمٹ کر محض چند گزر کو محیط رہ گیا ہے۔ جس جگہ قطب الدین ایبک کا مقبرہ واقع ہے موجودہ دور میں یہ جگہ ایک انتہائی مصروف ترین بازار میں تبدیل ہو چکی ہے اور مقبرہ کے باہر ایک کباب فروش اور کچھ ریڑھی بان مستقل ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں جس سے اس تاریخی عمارت کا حسن ماند پڑ گیا ہےیہی وجہ ہے کہ یہاں سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہاں مقامی لوگ بھی یہاں نہیں آتے، جس کی ایک بڑی وجہ مقبرہ کی جگہ کا انتہائی قلیل رہ جانا بھی ہے۔ جہاں تک مقبرہ کی جگہ واگزار کرنے کی بات ہے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ جگہ نشہ کرنے والوں سے واگزار کرا لی گئی ہے۔

سلطان قطب الدین کو علوم و فنون کے علاوہ فن تعمیر سے بھی خاص لگائر تھا۔ 1193ءمیں دہلی کی فتح کی یادگار میں مسجف قبتہ الاسلام یا مسجد قو الاسلام تعمیر کرائی۔ قطب الدین مینار کی بنیاد رکھی جو بعد میں سلطان التمش نے مکمل کروایا۔

قطب الدین ایبک پہلا مسلمان سلطان ہے جس نے مرکزی حکومت کا ڈھانچہ دیا جسے اس کے غلام اور داماد سلطان شمس الدین التمش نے مضبوط بنایا۔ سلطان علوم و فنون کا دلدادہ تھا دہلی کا مدرسہ ناصریہ اور قطب مینار اس کی علم دوستی کا واضح ثبوت ہیں۔

قطب مینار کے ایک جانب حضرت امام ضامن کا مزار ہے۔ جو اپنے وقت کے ولی اور بزرگ تھے۔ یہاں سے نکل کر ہم حضرت خواجہ بختیار کاکی ؒ کے مرقد پر گئے۔ بزرگان دین کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

سائنس میوزیم:

نیشنل سائنس سینٹر دہلی، وہ جگہ ہے جو بیک وقت مختلف سائنسی شعبوں سے متعلق معلومات کا مرکز بھی ہے اوراسے تفریح طبع مقام کہنا بے غلط نہ ہوگا۔ یہاں سائنس کے مختلف شعبے مثلاً جنیٹکس، نیورولیجی، فزکس، کیمسٹری، تاریخ آزادی ہند، علم بحریات، علم نباتات، علم حیوانات ، تشریح بدن انسان، افعال ُ الاعضاء، تحفظی و سماجی طب، آیور ویدا، یونانی اور دیگر روایتی طب سے متعلق معلومات کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔اہل خانہ خصوصاً میرے بچوں ذو النون اور بشار الرحمٰن نے بھر پور لطف اٹھایا اور سیر حاصل معلومات بھی جمع کیں۔ خصوصاً ذو النون کے معصومانہ سوالوں نے میرے تھکے ہوئے دماغ کو خاصا سکون عطا کیا۔

مسافر کے قدم کو کہاں سکون ہے اور پھر اگر آپ کو یہ موقعہ مل جائے تو کفران نعمت کیوں کیجئے یہاں سے نکلے تو اگلی منزل تھی

قلعہ کہنہ یا پرانا قلعہ:

پرانا قلعہ بھارت کے پایہ تخت نئی دہلی میں دریائے جمنا کے کنارے واقع قدیم قلعہ ہے۔ یہ قلعہ شیر شاہ سوری نے اپنے دورِ حکومت میں کرایا۔ قلعہ کے تین بڑے دروازے ہیں اور اس کی وسیع دیواریں ہیں۔ اس کے اندر ایک مسجد ہے۔ جس کا نام قلعہ کہنہ مسجد ہے۔ اس کی خو بصورتی اپنی مثال آپ ہے۔ طرز تعمیر کی بات کی جائے تو اس کا انداز مغلیہ حکومت میں تعمیر ہونے والی عمارات کی طرح سے ہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ دیگر کئی تاریخی مساجد کی طرح یہ مسجد بھی ویران ہے۔

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے

شیر شاہ کی لائبریری (شیر منڈل)

ہندوستان میں مسلم حکمرانوں کی تاریخ علم و فن کی سرپرستی کرتے نظر آتی ہے مسلم حکمرانوں میں اکثر صاحب علم تھے اور اگر کوئی اکبر کی طرح غیر خواندہ بھی تھا تو اس کے ہاں بھی علما اور صاحبان فنون کی کوئی کمی نہ تھی۔ اس مسجد کے سامنے ہی شیر شاہ سوری کی تعمیر کردہ لائبریری ہے، جو شیر شاہ کی علم دوستی پر دال ہے۔ یہ فن تعمیر میں اپنی مثال آپ ہے۔

شیر شاہ کا حمام:

اس لائبریری کے سامنے اسی دور کا تعمیر کردہ حمام ہے۔ لوگوں نے اگر یہ سمجھا تو غلط سمجھا کہ ہندوستان میں قدیم طبی حمام نہیں ہیں اور جو ہیں وہ جدید تعمیر کردہ ہیں، بلکہ پرانے قلعہ کے علاوہ لال قلعہ میں بھی طبی حمام موجود ہے، جو دو ر شاہجہانی کا تعمیر کردہ ہے۔ راقم نے بذات خود حمام کا مشاہدہ کیا۔ حمام کے اندر مختلف کمرے بالکل اسی انداز کے بنے ہوئے ہیں ، جیسا کہ طبی کتابوں میں مذکور ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اہل یونانی کے تغافل کی وجہ سے یہ حمام بھی ویران ہے۔ یہ ویرانی اور میرا حال حسب ذیل شعر کے مترادف رہا:

تازہ ویرانے کی سودائے محبت کو تلاش
اور آبادی میں تو زنجیری کشت و نخیل

نیز اس قلعہ میں مسجد کے پیچھے ایک باؤلی بھی ہے۔ پرانے قلعہ میں تین دروازے ہیں۔ مغربی دروازہ(مدخل)، ہمایوں دروازہ، طلاقی دروازہ۔ پرانے قلعہ کے پیچھے ایک خوبصورت جھیل بھی ہے۔ نیز پڑوس میں ایک خوبصورت چڑیا گھر ہے، جو حالیہ کرونا کی وبا کے باعث بند تھا اور اس امر کا بچوں کو افسوس ہونا ایک فطری سی بات ہے۔ قلعہ کے اندر ایک بڑی دیوار ہے، جو اسی نام
سے موسوم ہے۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شیر شاہ سوری ، کی سیرت و سوانح پر مختصر روشنی ڈالی جائے۔

شیر شاہ سوری:

شیرشاہ سوری کا اصل نام فرید خان تھا۔ 1486ء میں پیدا ہوئے جو پشتون کی مشہور شاخ اسحاق زئی کا بڑا بیٹا تھا سوری اور۔سام جونپور میں تعلیم پائی۔ 21 سال والد کی جاگیر کا انتظام چلایا پھر والی ٔبہار کی ملازمت کی۔ جنوبی بہار کے گورنر بنے۔ کچھ عرصہ شہنشاہ بابر کی ملازمت کی بنگال بہار اور قنوج پر قبضہ کیا مغل شہنشاہ ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان پر اپنی حکمرانی قائم کی۔ اپنی مملکت میں بہت سی اصلاحات نافذ کیں۔ اپنے تعمیری کاموں کی وجہ سے ہندوستان کے نپولین کہلائے سنار گاؤں سے دریائے سندھ تک ایک ہزار پانچ سو کوس لمبی جرنیلی سڑک تعمیر کروائی جو آج تک جی ٹی روڈ کے نام سے موجود ہے۔
شہنشاہ اکبر مملکت کا انتظام چلانے میں شیرشاہ سے بڑا متاثر تھا۔ 22 مئی 1545ء میں بارود خانہ کے اچانک پھٹ جانے سے وفات پائی۔

شیر شاہ سوری کے بارے میں تفصیلی مضمون پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

تاریخ دان شیر شاہ سوری کو برصغیر کی اسلامی تاریخ کا عظیم رہنما، فاتح اور مصلح مانتے ہیں۔ اردو ادب میں شیر شاہ سوری سے متعلق کئی مثالی قصے ملتے ہیں۔شیر شاہ سوری (1476ء تا 1545ء) ایسا فرماں روا تھا جس کی ستائش نامور مو رخین اور عالمی مبصرین کرتے رہے ہیں۔ وہ ہندوستان کا پہلا حکمران تھا جس نے عوامی فلاح کی جانب اپنی بھرپور توجہ دی اور ایسے ایسے کارنامے انجام دیے جو تاریخ کی کتب میں سنہرے حروف میں تو لکھے ہی گئے، ان کے نقوش آج تک موجود ہیں۔

ساڑھے پانچ سو سال قبل اس نے زرعی اصلاحات کا کام شروع کروا دیا تھا، جس کی پیروی بعد کے حکمرانوں نے کی۔ شیر شاہ نے سہسرام سے پشاور تک گرینڈ ٹرنک روڈ یعنی جرنیلی سڑک کی تعمیر کروائی تھی اور اس کے کنارے کنارے سایہ دار اور پھل دار اشجار لگوائے، سرائیں تعمیر کروائیں اور ڈاک سب سے تیز ترین نظام تشکیل دیا۔

اگرچہ فرید خان سور المعروف شیر شاہ سوری ایک معمولی جاگیردار کا بیٹا تھا۔ اس کے والد حسن خان سور کا خاندان افغانستان سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے تھے اور وہ بابر کے معمولی جاگیردار تھے لیکن دلیر پرجوش اور جواں مرد اور اول العزم شیر شاہ نے مغل سلطنت کے بنیاد گزار بابر کے صاحبزادے ہمایوں کو ایک بار نہیں دو دو بار شکست دی۔ پہلی بار چوسہ کے میدان میں اور دوسری بار قنّوج کے میدان میں۔ اس کے بعد ہمایوں کو برسوں در بدری کی زندگی گزارنی۔

شیر شاہ سوری حصہ دوم

شیر شاہ سوری واحد مسلم حکمران ہے جس نے روہتاس کا بلند ترین قلعہ قلیل فوج کے ساتھ مختصر وقت میں اپنی فہم و فراست سے فتح کیا۔ شیر شاہ سوری کی فتح روہتاس اور محمود گجراتی کی فتح کرنال اسلامی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس کی مثال تاریخ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے۔

اپنی جدوجہد سے شیر شاہ نے عظیم سلطنت قائم کی تھی۔ لیکن اس نے اپنی آخری آرام گاہ کے طور پر سہسرام کو ہی پسند کیا تھا جو ادھر اس کا قوم سوری کا اکثریت تھا اس لیے اپنی زندگی میں ہی کیمور کی پہاڑی پر مقبرہ تعمیر کروایا تھا جس کے چاروں جانب جھیل پھیلی ہوئی ہے۔ اور سوری پشتنوں کی مشہور شاخ اسحاق زئی کا بڑا بیٹا تھا۔

جامع مسجد دہلی:

یہاں سے نکل کر جامع مسجد دہلی پہنچے جس کی تاریخی حیثیتیں اور دیگر تفصیلات کسی اور موقع سے بیان کی جائیں گی کہ سفر نامہ طویل ہوا جا رہا ہے، اور بات ختم ہی نہیں ہو چکتی۔ پہلے ہی لوگوں کو کتابیں اور سفر نامے پڑھنے کی فرصت نہیں۔

ایں سخن را نیست ہر گز اختتام

ختم کن واللہ اعلم بالصّواب

(یہ وہ باتیں ہیں جو کہ ختم نہیں ہو سکتی، بس اب ختم ہی کر دے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے)

مولانا ابو الکلام آزاد اور طالب علم:(خلاصہ)

تاہم ایک بات جو قابل ذکر سمجھتا ہوں وہ یہ کہ یہاں مولانا ابوا لکلام آزاد کے مقبرے پر حاضری ہوئی۔ اردو ادب میں خصوصاً نثر میں، مَیں مولانا آزاد کو اپنا استاد مانتا ہوں۔ عالم تصور میں مولانا سے گفت و شنید ہوئی۔ اردو کی حالت زار پر تبصرہ کیا گیا۔ اہل ایماں ہی کس طرح اردو زبان کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، سے متعلق بے لا گ باتیں ہوئیں۔ مولانا کے سامنے ہندوستان کے مسلمانوں کی موجودہ حالت زار سے متعلق اپنا کلیجہ نکال کر رکھ دیا۔ بہت رونا آیا اور جی بھر کر رویا۔ کاش کہ مسلمانان ہند، مولانا آزاد کی ان صداؤں کو سنتے جو انھوں اس وقت بلند کی تھی، جب مسلمان بڑی تعداد میں ہندوستان سے پاکستان ہجرت کر رہے تھے۔ مولانا کا وہ یاد گار خطبہ آج بھی جامع مسجد کی فضاو ں میں گونج رہا ہے۔ مولانا آزاد کسی شخصیت کا نام نہیں بلکہ فکر، ایک تحریک اور ایک عہد لازوال کا نام ہے، جسے سمجھنے اور عام کرنے کی ضرورت ہے۔ ”غبارخاطر “کے

ایک ایک حرف پر پی ایچ ڈی کرنے کی ضرورت ہے۔ مولانا کے ”ترجمان ُ القرآن “ کو ایک بار نہیں بار بار پڑھنے کی ضرورت ہے۔ ، آج مولانا آزاد سے اس روحانی نشست کو برخاست کرنے کو دل تو نہ چاہ رہا تھا مگر کیا کیجئے کہ راقم کے پاوں میں مستقل چکر ہے اور ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ سفر زندگی اور جمود موت کا نام، اور مسافران ِمنزل حق اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

ماخذ و حوالہ جات:

۱۔دائرۃ المعارف۔قطب مینار، مسجد قوت الاسلام، پرانا قلعہ۔
۲۔تاریخ سلطنت مغلیہ،خافی خاں۔
۳۔تاریخ فرشتہ،محمد قاسم فرشتہ (ترجمہ: مدثر بھٹی، توصیف پبلی کیشنز، کمرہ نمبر 1 مکہ سنٹر بالمقابل کربلا گامے شاہ لوئر مال لاہور)
۴۔سلطنت مغلیہ کا عروج و زوال ،آر پی ترپاٹھی۔
۵۔کلیات اقبال۔علامہ اقبال۔
۶۔سفر نامہ جنوبی ہند، حکیم محمد شیراز۔
۷۔نقش حیات، مولانا حسین احمد مدنیؒ۔

سفر دہلی ایبک ابوالکلام سفر دہلی ایبک ابوالکلام سفر دہلی ایبک ابوالکلام سفر دہلی ایبک ابوالکلام سفر دہلی ایبک ابوالکلام سفر دہلی ایبک ابوالکلام سفر دہلی ایبک ابوالکلام سفر دہلی ایبک ابوالکلام سفر دہلی ایبک ابوالکلام سفر دہلی ایبک ابوالکلام سفر دہلی ایبک ابوالکلام سفر دہلی ایبک ابوالکلام سفر دہلی ایبک ابوالکلام سفر دہلی ایبک ابوالکلام

اپنا تبصرہ بھیجیں