چرواہے پر پولیس تشدد 32

تونس, پرتشدد مظاہرے اور بلوے،240افراد گرفتار

Spread the love

تونس پرتشدد مظاہرے

تونس سٹی(صرف اردو آن لائن نیوز)مہنگائی اوربدامنی کے خلاف تونس کے

دارالحکومت اور دوسرے شہروں میں مسلسل دوسری رات پرتشدد احتجاجی

مظاہرے کیے گئے ،اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں بھی

ہوئیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق تونسی حکام نے کہا کہ پولیس سے جھڑپوں اور

پرتشدد مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں 240 سے زیادہ افراد کو گرفتار

کر لیا گیا ۔ان میں زیادہ تر کی عمریں بیس سال سے کم ہیں۔داخلی سکیورٹی فورسز

کے ترجمان ولید حکمہ نے بتایا کہ گرفتار شدہ لڑکوں اور کم سن بچوں نے لوگوں

کی املاک میں توڑ پھوڑ کی اور دکانوں اور بنکوں کو لوٹنے کی کوشش کی ۔

مظاہرین نے اس تازہ احتجاج کے دوران میں ابھی تک کوئی واضح مطالبات پیش

نہیں کیے ۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ساحلی شہر سوسہ کے علاوہ وسطی شہروں

سبیتلا اور قنسرین میں بھی لوگوں نے ابتر معاشی حالات کے خلاف مظاہرے کیے۔

پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے

۔سیدی بوزید گورنری میں واقع قصبے جیلمہ میں پولیس نے سڑکیں بلاک کرنے

والے نوجوانوں کو منتشر کردیا ہے اس قصبے میں نوجوان غربت اور خود کو

دیوار سے لگانے کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔راس جبل ، قصر حلیل اور بیجا

میں بھی اتوار کی شب احتجاجی جلوس نکالے گئے ۔

تونس پرتشدد مظاہرے

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں