جنگی جہاز دھکیلو پنکھوں 39

روسی بحریہ کا سابق افسر جنگی جہاز کے دھکیلو پنکھوں کی چوری میں ملوث

Spread the love

جنگی جہاز دھکیلو پنکھوں

ماسکو (صرف اردو آن لائن نیوز)روسی بحریہ کے ایک سابق افسر کو تحقیقات کا

سامنا ہے۔ مذکورہ افسر پر الزام ہے کہ اس نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر بحریہ

کے ایک فوجی جنگی جہاز کے دو بڑے دھکیلو پنکھے چرا لیے۔ واقعے کے وقت

یہ افسر مذکورہ جہاز بیسپوکوئنی کے کپتان کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔

امریکی جریدے کے مطابق کپتان کا نام نہیں بتایا گیا ہے، کپتان پر الزام ہے کہ اس

نے تانبے سے بنے دو بہت بڑے پروپیلرز کی منظم طور پر چوری کے لیے جہاز

پر موجود آرکسٹرا کو مدد پیش کی۔ ان میں سے ہر ایک پروپیلر کا وزن 13 ٹن تھا۔

مزید برآں اصلی پروپیلرز کو گھٹیا معیار کی کم قیمت کاپی سے تبدیل کر دیا گیا۔

چوری کے اس جرم کا ارتکاب کیلنگراڈ شہر میں کیا گیا۔ یہاں بیسپوکوئنی جہاز

میں تبدیلیوں کا سلسلہ جاری تھا۔ سال 2018 سے یہ جہاز ایک تیرتے ہوئے میوزیم

کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔چوری کی اس واردات کے انکشاف کے بعد

عسکری تحقیقات کے شعبے کے سربراہ جج کے زیر قیادت تحقیقات کا آغاز ہو گیا۔

جج نے اس کیس کوغیر معمولی قرار دیا جہاں سابق کپتان نے مجرمانہ کارروائی

میں عسکری اور شہری افراد کی معاونت حاصل کی۔ جج کے اندازے کے مطابق

چوری کی جانے والی اشیا کی مالیت 5.22لاکھ امریکی ڈالرہے۔ چوری کے

مرتکب مجرموں نے جہاز سے غائب ہونے والے ساز و سامان کی مکمل جعلی

کاپی تیار کی تھی۔

جنگی جہاز دھکیلو پنکھوں

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں