105

این آر او یا ڈیل سے ہمیشہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے فائدہ اٹھایا’ شہزاد اکبر

Spread the love

این آر او ڈیل

لاہور(صرف اردو آن لائن نیوز) وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب

شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ براڈ شیٹ سے کرپٹ سیاسی اشرافیہ اور ان کی منی

لانڈرنگ بے نقاب ہوئی، جب بھی این آر او یا ڈیل ہوئی تو اس سے ہمیشہ پیپلز

پارٹی اور (ن) لیگ نے فائدہ اٹھایا،پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ میں کوئی فرق نہیں

اور دونوں کا ملک کو لوٹنے کا طریقہ واردات ایک ہی ہے ،پیپلز پارٹی کی پہلے

نظریاتی اساس تھی جو اب ختم ہو چکی او ر اس کا نظریہ صرف لوٹ مار کا

ہے،مریم اورنگزیب یا ان کے بڑوں کو چیلنج ہے کہ وہ براڈ شیٹ کے رشوت

دینے کے الزام پر لندن پولیس کو درخواست دیں ،کٹ مانگنے کی جو بات کی گئی

اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے ،آپ میں ہمت نہیں ہے لیکن میں یہ کرنے جارہا

ہوں اور وہاں سے بھی آپ کو بھاگنا پڑے گا ،این آراودینے کے سلسلے ختم ہونے

چاہئیں اور کسی بھی حکومت کے پاس یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ کرپشن پر

لوگوںکو معافی مل سکے بلکہ ان مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچناچاہیے ،اسفند

یار ولی کیس کی ججمنٹ کے تناظر میں چیئرمین نیب کی تعیناتی کے معاملے میں

تیسرا آپشن بھی ہے اور جب یہ وقت آئے گا تو دیکھا جائیگا ، این آر او کے حصول

کیلئے مریم نواز کی بھرپور طریقے سے کوشاں اور ان کا مطالبہ بھی ہے لیکن اب

کوئی این آر او دینا والا بچا نہیںہے ۔90شاہراہ قائد اعظم پر پریس کانفرنس کرتے

ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ جب بھی اپوزیشن سے بات ہوئی اس نے کبھی عوام

کے لئے ریلیف نہیں مانگا ،فیٹف کے معاملے پر اپوزیشن نے کبھی عوام کیلئے

ریلیف نہیں مانگا، میں بھی ان مذاکرات کا حصہ رہا ہوں ، اپوزیشن نے صرف نیب

قوانین ختم کرنے کی بات کی، یہ لوگ صرف ذاتی تحفظ چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ

وزیر اعظم عمران خان نے تین ٹوئٹس کی ہیں ج جس میں انہوںنے سیاسی اشرافیہ

کی بات کی ہے ۔ وزیر اعظم کی تین ٹوئٹس براد شیٹ سے متعلقہ ہیں اور ان سے

تصویر کا واضح ہے ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھاکہ حالیہ وقتوں میں پانامہ پیپرز اوربعد

میں لیگل پروسیڈنگ نے پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کو ایکسپوز کیا ، پھر اس کے

بعد براڈ شیٹ کی مقدمے کو لے کر حال ہی میںجو چیزیں سامنے آئیں اس میںبھی

سیاسی اشرافیہ ہی ایکسپوز ہوئی کیونکہ اس کا مدعا بھی منی لانڈرنگ اور کرپشن

تھا ،وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھاکہ سیاسی اشرافیہ نے ہمیشہ اپنے سیاسی اثر و

رسوخ کو اپنے دفاع کے لئے چاہے وہ این آر او ہو یا ڈیل کی صورت میں استعمال

کیا ،اگر یہ پکڑے جائیں تو یہ بیانیہ گھڑلیا جاتا ہے کہ ان کے خلاف سیاسی انتقام

کارروائی ہو رہی ہے۔ یہ وہ سیاسی اشرافیہ ہے جس نے کرپشن اور منی لانڈرنگ

کی اور سیاسی اثر و رسوخ سے اپنی سیاست کو تقویت پیسے پہنچاتے ہیں، اسے

یہ اپنے دفاع اور اپنی جان پہچان کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سب سے پہلے ہم پورے معاملے کی شفافیت

چاہتے ہیںکس کس نے کب این آر او دیا ، کس کو ریلیف ملا ، کس نے کیس بند

کرانے اور تحقیقات روکنے کی کوششیں کیں۔ انہوںنے کہاکہ براڈ شیٹ کے معاملے

میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ کن لوگوں کی تحقیقات کر رہی تھی ،

200لوگوں کی جو فہرست دی گئی تھی وہ عمران خان یا شہزاد اکبر نے تو نہیں

دی تھی ،یہ بیس اکیس سال پہلے معاہدے کے تحت بنائی گئی تھی ۔ تحریک انصاف

کا اس وقت سے آج تک ایک ہی بیانیہ ہے کہ کرپشن کے خلاف کارروائی ہونی

چاہیے ۔ کرپشن کے ذریعے سیاسی اشرافیہ بن چکی ہے جو اپنے مفاد کیلئے اثر و

رسوخ کا استعمال کرتی ہے ۔ جب ہم سیاسی اشرافیہ کی بات کرتے ہیں تو یہ وہی

ہے جو 200کی فہرست میںہیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاںہے کہ 1999ء

سے جب بھی کوئی ڈیل ہوئی تحقیقات سے روکا گیا تو این آر او کا مفادلینے والا

کون تھا اور وہ پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ ہی تھی ، پہلی ڈیل انہوںنے مشرف کے

ساتھ کی جس کے نتیجے میں یہ سرور پیلس چلے گئے ، اسی کے تحت حدیبیہ پیپر

ملز سمیت دیگر کیسز میں کمپرو مائز ہوگیا ، حدیبیہ پیپر ملز میںقاضی فیملی کے

نام پر منی لانڈرنگ کی اور بالکل اسی طرح شہباز شریف فیملی نے ٹی ٹی کے

ذریعے اسے دہراایااور اس کے لئے بھی بالکل ویسا ہی طریقہ کار اختیار کیا ۔ پھر

انہوںنے یہ بھی کہا کہ ہماری کوئی ڈیل نہیں ہوئی اور پھر سعد حریری نے سب

کچھ بتایا۔ دوسرا این آر او 2007ء میں ہوا اس کے این آر او سے فائدہ اٹھاتے

ہوئے پہلے بینظیر واپس آئیں اور اس کے بعد نوزاز شریف واپس آ گئے ، اس وقت

تحریک انصاف کی حکومت تو نہیں تھے ہم تو اسٹیک ہولڈرز نہیں تھے ۔ہی سیاسی

اشرافیہ تھے اورسیاسی اثر و رسوخ استعمال کیا گیا ۔ جس نے این آر او کیا بعد میں

وہ پچھتاتا بھی رہا کیونکہ یہ باز نہیں آئے ۔ پہلے کی کارروائی الگ تھیں ، ایک

ایک بار حکومت کرنے کی باریاں الگ ہیں۔ پنجاب میں خادم اعلیٰ نے ساڑھے

7ارب کی خاندان کی خدمت کی ۔ انہوںنے کہاکہ اس سیاسی سٹیٹس کو کو توڑنے

کو کے لئے عوام نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا اور ہم مینڈیت لے کر آئے کہ آپ

کو پکڑے جانا ہے اور ایکسوز کرنا ہے اور ہم نے سیاسی اثر و رسوخ استعمال

نہیں کرنے دیا ۔ امشرف کی حکومت ہم میں واضح فرق ہے ۔ سیاسی اشرافیہ ایک

تھالی کے چٹے وٹے ہیں ۔(ن) لیگ اور پیپلزپارٹی میں کوئی فرق نہیں۔پیپلزپارٹی

کی پہلے نظریاتی اساس تھی جو اب ہو چکی ہے ، اب ان کا ایک ہی نظریہ لوٹ

مار اور ایک ہی طریقہ واردات ہے ،تحریک انصاف نے آکر سٹیٹس کو توڑا ۔

انہوںنے بند دروازے کے پیچھے این آرا و کیے اور جن کے ساتھ کیا ان کے لئے

ریڈ کارپٹ بھی بچھایا ۔

این آر او ڈیل

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں