15

بطور کوچ میرے اور ٹیم کیلئے شکست مایوس کن ہے، صبا ح الحق

Spread the love

بطور کوچ شکست مایوس

لاہور(صرف اردو آن لائن نیوز) قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا

ہے کہ بطور کوچ میرے اور ٹیم کیلئے شکست مایوس کن ہے، کرکٹ مسائل پر

بات کرنا اور سمجھنا ضروری ہے، ٹیم اور مینجمنٹ کی محنت اور کوشش میں

کمی نہیں تھی، نیوزی لینڈ مضبوط ٹیم ہے، اس کا حالیہ ریکارڈ بھی اچھا ہے ،

ہماری صلاحیت ایسی نہیں ہے ، قرنطینہ کی وجہ سے کمروں تک محدود رہنے

کی وجہ سے مسائل بھی ہوئے سب سے بڑا نقصان بابراعظم کا ہوا، فہیم شرف آل

راؤنڈر کا خلا پْر کرنے لگے ہیں۔ قذافی اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس سے خطاب

کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا کہ ٹیم کی

کارکردگی اور حقائق پر بات کرنے آیا ہوں، نیوزی لینڈ کی موجودہ ٹیم مضبوط

ترین ٹیموں میں ہے۔ مصباح الحق نے کہا کہ نیوزی لینڈ نے ہم سے بہتر کرکٹ

کھیلی وہ سیریز کھیلتے ہوئے آرہے تھے، سب کوچز کو کورونا کی وجہ سے

مسائل پیش آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کی کرکٹ پچھلے ڈیڑھ سال کی کرکٹ

سے مختلف ہے، کرکٹ کمیٹی کا اجلاس معمول کی بات ہے، میں گورننگ بورڈ

میں بھی پیش ہو چکا ہوں۔مصباح الحق نے کہا کہ کرکٹ کمیٹی کو مکمل بریفنگ

دوں گا،امید ہے کہ وہ بات کو سمجھیں گے۔مصباح نے کہا کہ ہم جیسی کرکٹ

کھیلتے آئے ہیں کارکردگی اس کے مطابق نہیں رہی، میں معذرت کرنے نہیں آیا

مایوسی ہے کہ ہم سیریز ہارے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمیونیکشن گیپ نہیں ہونا

چاہیے، اگر کارکردگی کا کوئی جائزہ لیتا ہے تو ٹھیک ہے، ہمیں تسلسل اعتماد اور

یقینی صورتحال چاہیے، نتائج نہیں دیتے تو اس بارے میں وجوہات دیکھنی چاہیے۔

ہیڈ کوچ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا ہمیں بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جائیگا،

ہماری بات سنی جائیگی، جہاں میں ہوں وہاں دباؤ ہوتا ہے، میں مانتا ہوں نتائج نہیں

آ ئے۔مصباح الحق نے کہا کہ کھلاڑیوں کی کمٹ منٹ پر شک نہیں وہ اچھی کوشش

کر رہے ہیں، ٹورنگ ٹیموں کو مشکلات پیش آتی ہیں، آسٹریلیا کی ٹیم بھی ایشیا

میں مشکل میں آتی ہے، ہماری ٹیم نے دوسری ٹورنگ ٹیموں کے مقابلے میں

نیوزی لینڈ میں اچھا پرفارم کیا۔مصباح الحق نے کہا کہ کسی کے بھی پروایکٹیو

ہونے سے پاکستان کرکٹ کو فائدہ نہیں ہوگا، چھلانگیں مارنے سے کچھ نہیں ہوتا

اعتماد بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں، فواد عالم ، محمد رضوان اور فہیم اشرف نے

عمدہ کارکردگی دکھائی ۔کرکٹ مینجمنٹ سے پریشان ہو کر ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

کرنے والے محمد عامر کے حوالے سے مصباح الحق نے کہا کہ محمد عامر کی

اپنی رائے ہے میں نے کھلاڑیوں کو ہمیشہ عزت دی، محمد عامر کو 2016 میں

واپس آئے انہیں سپورٹ کیا عزت دی۔انہوں نے کہا کہ محمد عامر ذاتی وجوہات پر

انگلینڈ نہیں گئے جب دستیاب ہوئے تو انہیں وہاں بلایا، انگلینڈ میں عامرکی فارم

اچھی نہیں تھی، زمبابوے کے خلاف نوجوانوں کو کھلایا، عامرکو نہیں کھلایا۔

مصباح الحق نے کہا کہ میں نے اور وقار یونس نے محمد عامر سے بات کی انہیں

اسٹرائیک بولر قرار دیا، عامر کو تیز رفتار بولنگ کا کہا انہیں بتایا کہ اسپیڈ کم

ہوئی تو ہمارے لیے مشکل ہو گی۔انہوں نے کہا کہ محمد عامر کی فارم اچھی نہیں

تھی وقار کا سلیکشن سے کوئی لینا دینا نہیں، صرف فارم اور فٹنس پر عامر باہر

ہوئے یہ کوئی ذاتی معاملہ نہیں تھا۔ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا کہ میری سمجھ

سے باہر ہے کہ عامر نے میرے اور وقار کے بارے ایسی باتیں کیوں کی۔ نیوزی

لینڈ میں شرمناک شکست کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اٹھارہ انیس دن ہم نے کمروں

میں گزارے ٹریننگ نہیں کر سکے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کہے میں بہانے کر رہا

ہوں تاہمحقیقتاً 18،19 دن ٹریننگ نہ کریں تو فرق پڑتا ہے، میں کھلاڑیوں کو فائٹ

کا کہتا ہوں حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ جانے سے قبل ریگولر اوپنر

فخر زمان کا ان فٹ ہونا بھی نقصان کا باعث بنا، بابر اعظم کا نہ ہونا ایسے ہی ہے

جیسے نیوزی لینڈ کے پاس کین ولیمسن کا نہ ہونا ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا

کہ کرکٹ کمیٹی کا اجلاس معمول کی کارروائی ہے، ٹیم کے مسائل پر بات ہوگی،

کمیٹی اپنی تجاویز دے گی، بہرحال پالیسیوں میں تسلسل ہونا چاہیے، ابھی کچھ نہیں

کہ سکتے کہ کمیٹی اجلاس میں کیا ہونے جارہا ہے، امید ہی کسی کو رگڑا نہیں

جائے گا۔

بطور کوچ شکست مایوس

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں