144

سعودی عرب میں منشیات کے جرم میں سزا موت پانے والے پاکستانیوں کی کہانی

Spread the love

اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے ملکوں میں ہوتا ہےاور سعودی عرب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہاں پر کبھی کیس دہائیوں یا سالوں تک نہیں چلائے جاتے۔ سعودی عرب میں انصاف کی فوری فراہمی اور قانون پر عملدرآمد کرنے میں سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔

لاہور(صرف اردو ڈاٹ کام) گذشتہ ماہ بھی منشیات کی سمگلنگ کی کوشش کے دوران گرفتار ہونے والے پاکستانی اسمگلر نذار احمد ولد گل احمد کا عدالتی حکم کے مطابق سر قلم کیا گیا تھا۔

اس سے قبل 25 دسمبر 2018ء کو بھی پاکستانی اسمگلر شمس الرحمان کا سر قلم کیا گیا تھا۔

جدہ ایئر پورٹ پر شمس الرحمان کے سامان کی تلاشی لینے پراس میں سے منشیات برآمد ہوئی ،جس پراسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔

جہاں اسے سزائے موت دیدی گئی۔

اس سے قبل دسمبر 2018ء میں ہی ایک اور پاکستانی اسمگلر شاہد اقبال کا عدالتی حکم کے مطابق سر قلم کر دیا گیا۔

شاہد اقبال اپنے پیٹ میں ہیروئن چھپا کر مملکت میں اسمگل کرنے کی کوشش میں تھا، تاہم ایئرپورٹ حکام نے شک گزرنے پر اسے گرفتار کر لیا۔

اس سے قبل نومبر کے مہینے میں پاکستانی شہری شاکر اﷲ ولد رحمان اﷲ کوموت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

شاکر اﷲ اپنے پیٹ میں ہیروئن چھپا کر پاکستان سے سعودی مملکت لایا تھا تاہم کسٹم حکام کی عقابی نظروں سے نہ بچ سکا۔

عدالت نے الزام ثابت ہونے پر اس کا سر قلم کرنے کی سزا سنائی تھی۔ جبکہ اس سے پہلے اکتوبر کے مہینے میں بھی دو پاکستانیوں کو ہیروئن کی سمگلنگ کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دی گئی تھی۔


جن میں سے ایک شخص محمد رمضان سردارا بھی مملکت کے ایئرپورٹ پر اترا تو کسٹم حکام نے شک گزرنے پر اسے پکڑا تو پتا چلا کہ اس نے اپنے پیٹ میں ہیروئن چھپا رکھی تھی۔

عدالت کی جانب سے ملزم کو سزائے موت سنائی گئی تھی، جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملزم کا سر قلم کر دیا گیا۔

اکتوبر کے مہینے میں ہی دمام میں ایک اور پاکستانی زاہد الرحمان کا بھی منشیات اسمگلنگ کے الزام میں سر قلم کیا گیا تھا۔

اس نے بھی اپنے پیٹ میں ہیروئن چھپا رکھی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں