مدثر بھٹی رضیہ سلطان 224

دین اسلام اور اس کے ماخذات

Spread the love

تحریر و تحقیق: مدثر بھٹی

میری رائے میں ہم لوگ دین کے معاملے میں غیر معمولی حد تک مشکل پسندی میں پھنسے ہوئے ہیں اور ہم نے دین کو ایک بہت ہی مشکل کام بنا کر خود پر سوار کر رکھا ہے۔ عزیزان کرام سے گزارش ہے کہ سب سے پہلے یہ سمجھ لیا جائے کہ دین کوئی مشکل کام نہیں ہے اللہ نے اس کام کو بہت آسان بنایا ہے۔ ایک سادہ سا اصول بتایا ہے کہ اللہ کی اطاعت اور پھر اس کے رسول کی اطاعت کرو۔

اس میں سب سے پہلے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ دین بنیادی طور پر ہم سے کیا تقاضہ کرتا ہے یعنی سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ بنیادی چیزیں کیا ہیں اور اس کے بعد غیر بنیادی چیزیں کیا ہیں۔ بنیادی چیزوں میں کسی قسم کا کوئی ابہام ہے ہی نہیں یعنی
توحید نماز روزہ زکواۃ حج رسولوں پر ایمان لانا اللہ کی کتابوں پر ایمان لانا کہ وہ نازل ہوئی تھیں قیامت پر ایمان لانا اور پھر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر حساب دینا اور اس حساب کے بعد اللہ کے انصاف کو پانا۔ یہ تمام چیزیں بالکل واضح ہیں ان میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ اگر آپ ان میں سے کسی بھی چیز کا انکار کرتے ہیں تو اسلام ہماری کفالت کی ذمہ داری سے انکار کر دیتا ہے۔

ان تمام چیزوں کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں جو ہمیں معلوم نہ ہو۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

جہاں تک دین کے ماخذات کی بات ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک کتاب اللہ اور دوسرا میرا طریق میری سنت۔ جس سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ بنیادی ماخذات دو ہی ہیں قرآن اور سنت اور یہ دونوں ماخذات مندرجہ بالا چیزوں کے بارے میں بہت ہی واضح احکامات پیش کرتے ہیں۔

جب میں اپنے گرد و نواح میں دیکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے زیادہ تر مسائل ان بنیادی چیزوں سے ہٹ کر ہیں مثال کے طور پر ہمیں الجھایا گیا ہے کہ رفع الیدین کے بغیر نماز نہیں ہوگی ایک پارٹی آئی جس نے ڈنڈا اٹھایا کہ رفع الیدین کے بغیر نماز نہیں ہوگی۔ جب میں قرآن کو دیکھتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے تو نماز قائم کرنے کا حکم دیا ہے جو کہ بنیادی بات ہے رفع الیدین کرنا یا اسے موقوف کرنا ہاتھ اوپر باندھنا یا نیچے کرنا اس بارے میں قرآن قطعی خاموش ہے۔ جس سے میں نے یہ سمجھا ہے کہ یہ کوئی بنیادی مسئلہ نہیں ہے اگر یہ بنیادی مسئلہ ہوتا تو اس بارے میں قرآن لازمی طور پر کوئی حکم جاری کرتا سنت رسول کو دیکھیں تو ہمیں دونوں طریقوں کی احادیث مل رہی ہیں اور اصحاب کا طریق معلوم کرنے جائیں تو علم ہوتا ہے کہ بعض اصحاب رفع الیدین کے قائل تھے اور بعض اس کو موقوف سمجھتے ہیں اور نبی کریم کا فرمان اقدس ہے کہ میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں جس نے کسی کی اقتدا کی وہ فلاح پائے گا۔

اب اگر روزے کے احکامات کو دیکھیں تو قرآن نے کہا کہ روزے تم پر بھی ایسے ہی فرض ہیں جیسے تم سے پہلی امتوں پر فرض تھے۔ پھر مریض مسافر وغیرہ کے لیے احکامات بھی قرآن سے ملیں گے۔ جس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ مریض یا مسافر وغیرہ کے روزے ایک بنیادی مسئلہ تھا جس کو قرآن نے خود سے ہی بیان کر دیا۔ اسی آیت کریمہ کے احکامات دیکھتے ہوئے میں نماز کے مسائل کو بھی سمجھا قیام نماز بنیادی مسئلہ ہے اور طریق رفع الیدین ہاتھ باندھنا وغیرہ وغیرہ غیر بنیادی مسئلہ ہے۔ اس کا حل میں نے یہ نکالا کہ میں رفع الیدن کر کے بھی نماز پڑھ لیتا ہوں اور اس کے بغیر بھی تاکہ معلوم سنت پر عمل کرنے والوں میں پایا جاوں۔

پارلیمنٹ لاجز میں فوری طور پر بیوٹی پارلر بنانے کا حکم

اسی طرح زکواۃ کا مسئلہ میں نے یوں سمجھا کہ قرآن نے کہا کہ جو تمہارے پاس ضرورت سے زائد ہو اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو اس کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس بارے مین اللہ نے آپ کو بااختیار بنایا ہے کہ خود ہی حساب کرو اور خود ہی مصارف دیکھ کر اس مال کو خرچ کرو اس نے کوئی لازمی شرط عائد نہیں کی کہ یہاں پر لازمی خرچ کرو۔ میں نے یہ سمجھا کہ مال کے بارے میں اللہ نے مجھ پر جبر نہیں کیا۔ البتہ اگر میں کوئی چالاکی یا حیلہ کرنے کی کوشش کروں گا تو اس کے لیے وہ خود ایک دن مجھ سے حساب لے گا اس پر کسی کو بھی مجھ پر نگران یا حاکم مقرر نہیں کیا۔ البتہ اگر کوئی صریحاً انکار کرے تو اس پر گرفت کرنے کا اختیار اسلامی ریاست میں حکمران کو حاصل ہوگا۔ کہ یہ بنیادی احکامات میں سے ہے۔ تو میرے لیے زکواۃ کا معاملہ بھی کچھ مشکل نہیں رہا

اسی طرح حج کا معاملہ بھی کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے اگر صاحب حیثیت ہے تو ضرور حج کرے اور مال نہ ہو تو آپ اس کے پابند نہیں۔

دیگر معاملات جن میں معاد قیامت پیغمبروں اور کتابوں وغیرہ پر ایمان لانا ہے تو اس کے بارے میں بھی احکامات بہت واضح ہیں اس کی تلاش کے لیے بھی کہیں بھٹکنے کی ضرورت نہیں

یہ تو وہ چیزیں ہیںجن کے بارے میں آخرت میں سوال ہونا ہے اور اس کا جواب ہر کلمہ گو سے طلب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بھی ایک عام آدمی کو زندگی بسر کرنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے اس کے بھی تمام احکامات قرآن نے بیان کر دیئے ہیں مثال کے طور پر عائلی زندگی ہے انسانی معاشرت حیوانی جبلتوں کی تکمیل کے معاملات ہیں تو اس کے لیے بھی احکامات قرآن میں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر کاروبار کرنے والوں کے لیے شعیب علیہ السلام کے قوم کا واقعہ بیان ہوا جس میں بتایا گیا ہے اس امت پر عذاب اس لیے آیا تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے معلوم ہوا کہ کاروبار میں ایمانداری کے ساتھ ہر ہر کام میں اس کے ناپ تول کو مکمل کرو ورنہ یہاں عذاب نہ آیا تو قیامت میں تو لازمی عذاب ہے۔

آپ اپنی مادی ضرورت کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے قرآن نے واضح طور پر بتا دیا کہ آپ چار عورتوں کو ایک ہی وقت میں نکاح میں رکھ سکتے ہیں اور ایک سے زاید نکاح میں عدل کا حکم دیا۔ اور جو شرم گاہیں انسان پر حرام کی گئی ہیںان کے لسٹ بھی قرآن ہی جاری کر رہا ہے۔

آپ کو اللہ کی تقسیم پر راضی رہنے کا کہا گیا ہے کسی کے مال ناحق طریق سے اپنے تصرف میں نہ لانے کے بارے میں بھی قرآن نے ہی بتا دیا ہے۔ کھانا پینا بھی انسان کی بنیادی ضرورت ہے تو اس معاملے میں بھی قرآن نے بالکل واضح احکامات جاری کئے ہیں۔ ان تمام امور کو کیسے انجام دینا ہے کیا یہ ممکن ہو سکتے ہیں یا نہیں تو ان سوالات کے جوابات دینے کے لیے اللہ نے ایک شخص کو ہمارا درمیان رسول بنا کر بھیجا جس نے نماز روزہ زکواۃ حج خانگی و کاروباری معاملات دوستوں اور رشتہ داروں کے تعلقات یہ سب کچھ کر کے بھی دکھایا یعنی قرآن کی عملی طور پر عکاسی کر کے دکھا دی۔

اس زندگی کے بعد ایک ابدی حقیقت انسان کا اس مادی دنیا سے کوچ کر جانا ہے اب مرنے کے بعد میت کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے اس بارے میں بھی رسول نے تمام امور بتائے اور اپنی زندگی میں کر کے بھی دکھایا۔ یعنی جو مر گیا اس کو غسل کفن نماز جنازہ اور تدفین

یعنی انسان کے ایک لمحے سے لیکر جو بھی اس کی عمر ہوئی اس کے درمیان جو کچھ بھی ہے میں نے اوپر بیان کیا ہے۔ ہاں ایک اور چیز کچھ گناہ اور جرائم کے لیے سزائیں مقرر کی ہیں جیسے زنا، چوری، قتل وغیرہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ معاشرے کو چلانے کے لیے کچھ قواعد و ضوابط کی ضرورت ہے اللہ پاک نے کچھ قواعد بنا کر پیش کئے اور باقی اپنی ضرورت کے تحت اصول و ضوابط بنانے کے لیے ہمیں اختیار دیا ہے۔

زندگی کا اتنا ہی خلاصہ ہے قرآن نے انہی چیزوں کو بیان کیا ہے اور یہی اصل دین ہے۔ اس سے آگے جو بھی ہے ان کو غیر بنیادی چیزیں کہا جائے گا یا عام اصطلاح میں فروع کہا جائے گا۔

اب اگر غور فرمائیں تو معلوم ہو گا کہ وہ تمام چیزیں جن کے بارے میں آخرت میں سوال کیا جانا ہے وہ ہمیں قرآن سے ملتے ہیں اور اگر کوئی چیز سمجھنے میں مشکل پیش آئے تو اس کے لیے اللہ پاک نے اپنے پیغمبر کو بھیجا تاکہ ایک عملی صورت ہمارے سامنے آ جائے۔

میں نے یہ پایا ہے کہ ایسی تمام چیزیں جن کے بارے میں انسان سے سوال کیا جانا ہے وہ تمام قرآن سے مل رہی ہیں۔ باقی جو کچھ بھی ہے ان میں سے آپ احباب دیکھ سمجھ کر بتائیں اپنا سوال پیش کریں کہ یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں آخرت میں سوال کیا جائے گا۔ تاکہ میں یہ دیکھ سکوں کہ اس کا حکم قرآن میں موجود ہے یا نہیں۔

میں طویل عرصے سے مختلف سوالات کے جواب دینے میں لگا ہوں اور عام طور پر لوگ ایسی چیزوں کے بارے مین سوال کرتے ہیں جن کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ لہٰذا میں احباب جو یہاں موجود ہیں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر میں آپ کو اپنی بات سمجھانے میں کامیاب ہو گیا ہوں تو لازمی لوگوں کو آگاہ کریں کہ اتنے دین کے بارے میں شدید فکر کریں جس بارے میں سوال کیا جانا ہے۔

دین اسلام اور ماخذات دین اسلام اور ماخذات دین اسلام اور ماخذات دین اسلام اور ماخذات دین اسلام اور ماخذات

اپنا تبصرہ بھیجیں