ریاحی بواسیر بادی بواسیر 485

تشحم کبدی Fatty liver

Spread the love

حکیم شاہد بدرفلاحی۔ B.U.M.S اجمل خاں طبیہ کالج علی گڈھ

البدر یونانی شفا خانہ ، کربلا میدا ن بدرقہ ۔ اعظم گڑھ

میرے ذاتی کتب خانے میں یونانی علاج و معالجہ سے متعلق الحمدللہ ڈھیروں کتابیں ہیں ان کتب کے علاوہ مخصوص موضوعات پر مطالعہ کیلئے Net سے بھی استفادہ کرتا ہوں۔ investigation ماڈرن انداز میں اور علاج خالص یونانی انداز سے کرتا ہوں۔ مطالعہ کیلئے Topics مجھے مریض دیتے ہیں ۔مریضوں کی باتیں سنتا ہوں، غور کرتا ہوں۔۔۔ کتابوں سے رجوع۔۔ Net سے مدد۔۔ رفقاء سے مشورہ ۔اور۔اللہ سے دعا کرتا ہوں۔ تجربات کی ٹھوکریں مجھے راستہ بتاتی ہیں اور اس طرح سے سفر جاری ہے۔

میرے پاس موجود یونانی کتب کے ذخائر میں مجھے کہیں پر بھی Fatty liver کے عنوان سے کوئی بحث نہیں ملی۔ یہ میری کوتاہ نظری اور کم فہمی بھی ہو سکتی ہے اگر رفقاء میں سے کسی کی بھی نظر سے یہ بحث گزری ہو تو مجھے ضرور آگاہ کریں۔ البتہ مطب میں بکثرت ایسے مریضوں سے سابقہ پڑا ہے جنکی USG رپورٹ میں Fatty liver دیکھنے کو ملا ہے اور الحمدللہ علاج سے ایسے مریض مکمل ٹھیک ہوئے ہیں۔اپنے تجربے اور مطالعہ سے جتنا کچھ بھی اس موضوع سے متعلق میں سمجھ سکا اسے پیش کررہا ہوں۔
جسم انسانی میں اعضاء رئیسہ حسب ذیل ہیں ۔
(۱) دماغ۔ یہ قوت نفسانی کا محل ہے ۔
(۲) قلب ۔ قوت حیوانی کا مبدأ و محل ہے۔
(۳) جگر۔ قوت طبعی کا محل ہے۔
(۴)انثیین۔ ان سے حفاظت نسل قائم ہے۔

جگر جسم انسانی کا ایک نہایت اہم اعضو ہے۔ جسکی صحت پر تمام بدن کی صحت کا دارو مدار ہے۔ اعضا کی غذا اور بدن کی پرورش کا دارو مدار جگر ہی پر ہے کیونکہ جو بھی غذا ہم لیتے ہیں اس غذا کا اصل جوہر اور خلاصہ ”کیلوس” جگر ہی میں پہنچ کر خون میں تبدیل ہوتا ہے۔

قوت ہاضمہ، قوت جاذبہ، قوت ماسکہ، قوت دافعہ۔ چاروں قوتیں اگرچہ ہر عضو میں موجود ہیں مگر معدہ اور جگر میں زیادہ ہیں۔

جگر کی قوت ہاضمہ اسکے گوشت میں ہے اور باقی تینوں قوتیں ان عروق میں ہوتی ہیں جو اسکے گوشت میں پھیلی ہوئی ہیں۔ جگر کی ساخت میں سرخ گوشت، وریدیں، اور شریانیں پائی جاتی ہیں۔ جگر کی بالائی سطح محدب اور زیریں سطح مقعر ہے۔ اگر جگر میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے یا اسکے ہضم یا اخلاط کی تقسیم میں خلل پڑ جائے تو اسکا ضرر تمام بدن کو پہنچتا ہے۔

افعال جگر:۔جب غذا معدہ میں ہضم ہوکر آنتوں میں آتی ہے تو وہ محلول بن چکی ہوتی ہے اس محلول کو ”کیلوس” کہتے ہیں۔ یہی کیلوس آنتوں سے عروق مصّاصہ کے ذریعہ جذب ہوکر عروق ماساریقا اور پھر باب الکبد کے ذریعہ جگر میں داخل ہوتا ہے۔ جگر میں جب یہ خلاصۂ غذا۔’’ کیلوس‘‘ پہنچتا ہے تو وہاں مزید تغیرات پیدا ہوتے ہیں حتی کی یہ غذائی مواد ”اخلاط” کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جگر کا مقعر حصہ انکو پکا کر خون بناکر محدب حصے کی طرف سے سارے بدن کی طرف روانہ کردیتا ہے۔

جگر میں اجزاء غذائیہ کس طرح متغیر ہوتے ہیں؟ ان سے کیا کیا بنتا ہے؟ یہ ابتک غیر واضح ہے تاہم جس قدر معلوم ہوسکا ہے وہی بیان کیا جاتا ہے۔

٭ تولید دم۔ جگر خون پیدا کرتا ہے اور پورے بدن کی طرف روانہ کرتا ہے۔

٭تولید صفرا۔ جگر صفرا پیدا کرتا ہے یہ پیلے ہرے رنگ کا ایک سیال مادہ ہے جگر سے اسکا مسلسل ترشح ہوتا رہتا ہے اور گال بلیڈر میں اسٹور ہوتارہتا ہے اور گال بلیڈر سے آنت۔ Duodenum میں حسب ضرورت شامل ہوتا رہتا ہے۔

٭جگر سے روزانہ ایک لیٹر سے زیادہ صفرا کا ترشح ہوتا ہے یہ صفرا آنتوں میں Fat کے ہضم میں مدد کرتا ہے۔ یہ آنتوں کے اندر موجود نقصاندہ بیکٹریا کو ختم کرتا ہے یہ آنتوں کی دھلائی و صفائی کرتا ہے۔ یہ آنتوں میں حرکت دودیہ کو جنم دیتا ہے جسکی وجہ سے وقت سے پاخانہ کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ خون کو پتلا کرتا ہے تاکہ خون تنگ عروق میں نفوذ کر سکے یہ غذا کے ہضم وجذب میں معاون ہے۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

٭ تولید سودا۔ جگر سودا بناتا ہے جسے جگر کا خادم عضو(طحال) جذب کرتا ہے۔

٭سودا خون صالح کے ساتھ شامل ہوکر اعضا کو غذا پہنچاتا ہے مثلاً بال اور آنکھ کا طبقہ شبکیہ۔ ہڈی غضروف ،رباط، میں صلابت سودا کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

٭تولید اجزاء بولیہ۔ جگر کی قوت مغیرہ کے عمل سے’’ اجزاء بولیہ‘‘ بنتے ہیں جنہیں گردہ چھان کر مثانہ کی طرف روانہ کرتاہے۔

٭خون میں بلغم، صفرا، سود ا، باہم ملے ہوئے ہوتے ہیں اس مجموعہ کو ”اخلاط” کہا جاتا ہے۔ اخلاط سے ہی ا عضا بنتے ہیں۔

٭ا عضاء مفردہ یعنی ،عظم ،غضروف ، رباط، وتر، غشاء ، عصب ، شحم ، لحم ، شرائین ،اوردہ اور اعضاء مرکبہ بنتے ہیں۔

اسی کے ساتھ ساتھ جگر کے کچھ خاص افعال اور بھی ہیں۔

٭نشاستہ کا استحالہ۔ corbohydrade Metabolism

یہ لیور کا ایک خاص فعل ہے۔ لیور گلوکوز کو گلائی کوجن کی شکل میں اسٹور کیے رہتا ہے۔جب انسان روزہ یا فاقے کی حالت میں ہوتا ہے تو لیور کے اندر یہی جمع شدہ انرجی خون میں شامل ہوکر جسم کی صحت کو باقی رکھتی ہے۔
glyeconeogenesis is released into the blood durning fasting (devidson .p.489)

٭لحمیات ؍ لحم کا استحالہ ۔ Protiens Metabolism :۔غذا کی شکل میں جو بھی پروٹین ہم لیتے ہیں اسکو لیور ہی جسم کی غذا بناتا ہے ۔

٭شحم کا استحالہ ۔Lipid Metabolism :۔غذا ئً میںجو بھی Fat ہم لیتے ہیں ، وہ لیور میں پہونچ کر مختلف استحالاتی مراحل سے گذر کر جسم کی غذا بنتی ہے ۔
•Bilirubin A red pigment occuring in human bile greatly incresed in jaundice
دو سو پچاس سے لیکر تین سو ملی گرام تک لیور روزانہ بناتا ہے۔

٭ Vitamin and minral

٭Vitamin A,Dاور وٹامن B12 کا لیور ہی ذخیرہ کیے رہتا ہے۔جو ضرورتاً جسم کی حیات کو قائم رکھنے کے کام آتا ہے ۔
٭ ہارمونس Harmones

٭کچھ ہارمونس جیسے Growth harmone, gluco corticoids, oestrogens,

are Catabolised manily in the liver

٭Drug Metabolism :۔جو دوا ئیں ہم کھاتے ہیں انکا استحالہ لیور میں ہوتا ہے ۔

٭اخلاط سے اعضا بنتے ہیں:۔شحم (چربی ،fat) اعضاء مفردہ میں سے ہے۔ چربی کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ اعضا کو نرم اور صحت مند رکھتی ہے۔ شکل و صورت اور حسن وجمال کو برقرار رکھتی ہے۔ ازدیاد حرارت سے چربی پگھل کر تحلیل ہو جاتی ہے اسلئے کہ چربی کے اندر حرارت کو قبول کرنے کی خصوصیت پائی جاتی ہے۔

جگر میں Fat کی بہت کم مقدار ہوتی ہے جب جگر میں fat کی مقدار 5% سے بڑھ جاتی ہے تو ایسی صورت کو fatty liver کہتے ہیں۔ جیسے جیسے liver میں fat بڑھنے لگتی ہے تو اسے ہم (!)fatty liverGrade (!!)fatty liverGrade (!!!)fatty liverGrade کہتے ہیں۔

fatty liver ایک خاموش بیماری ہے بالعموم ابتداً اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ اور یہ مرض اندر ہی اندر پروان چڑھتا رہتا ہے جب یہ حالت مزید ڈیولپ کر جاتی ہے اور سائز بڑھنے لگتا ہے لیور میں سوجن آجاتی ہے۔تواسکو Hepatomegally & fatty liver کہتے ہیں۔اسکو steato hepatitis بھی کہتے ہیں۔ اس صورت میں لیوراپنا فعل معمول کے مطابق نہیں انجام دے پاتا اور بسا اوقات یہ ڈیولپ کرکے fibrosis of the liver کی شکل اختیار کر کیتا ہے۔ اسstage میں آکر علامات کا ظہور ہوتا ہے یعنی لیور کے مقام پر سوجن، ہلکا ہلکا درد۔ مریض بے آرامی کی شکایت کرتا ہے۔

لیور کا اس حالت میں اگر صحیح علاج نہیں ہواتو یہ مرض مزید آگے بڑھ کر cirrhosis of the liver کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور cirrhosis can cause liver failure یعنی fatty liver آگے ترقی کرکے لیور کو مکمل خراب کر دینے کا باعث ہوتا ہے۔ گو کہ یہ ایک خاموش مرض ہے لیکن کثیر الوقوع مرض ہے اس مرض کی بالعموم علامات نہیں ہوتیںلیکن جب مرض آگے بڑھتا ہے تو مریض لیور کے مقام پر ہلکے درد کی شکایت کرتا ہے۔ مریض کو بے آرامی محسوس ہوتی ہے۔ غذا کے ہضم و جذب میں وقت لگتا ہے۔ تیل میں تلی ہوئی چیزیں کھا لینے کے بعد زیادہ ہی پریشانی محسوس ہوتی ہے۔ مریض کو بھوک کم لگتی ہے۔ صبح اٹھنے پر طبیعت چاق و چوبند نہیں رہتی سستی و کاہلی کا غلبہ رہتا ہے۔ مریض کی USG کرانے پر فوراً سے معلوم ہو جاتاہے۔

یہ مرض اکثر ان لوگوں کو ہوتا ہے جو کثرت سے شراب پیتے ہیں۔ ایسی صورت میں اس بیماری کو Alcoholic fatty liver disease کہتے ہیں دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو شراب تو نہیں پیتے لیکن یہ مرض انکو ہوتا ہے اسے۔Non Alcoholic fatty liver disease کہتے ہیں۔

Fatty Liver کے اسباب

حسب ذیل اسباب اسمیں اہم رول ادا کرتے ہیں۔

٭موٹاپا۔ Obesity

٭کثرت شراب نوشی

٭ High blood suger

٭ insulin resistance

٭ High Level of fat ۔مرغن غذاؤں کا کثرت استعمال جیسے گھی ۔مکھن وغیرہ

٭ Red meetکا کثرت استعمال کچھ دواؤں کا سائڈ ایفیکٹ جیسے methotrexate اور Paracieamol کا کثرت استعمال بھی لیور کو نقصان پہنچاتا ہے(Devidson P515)

٭ بہت زیادہ ٹھنڈے مشروبات کا کثرت استعمال ۔

٭ غذائی بے اعتدالی۔

٭ رفائن تیل کا کثرت استعمال۔

٭ بہت زیادہ آرام و آسائش کی زندگی۔ کرسیوں کا زیادہ استعمال، پیدل چلنے سے گریز ۔

Treatment of the fatty liver تشحم کبدی کا علاج

یہ ایک خطرناک بیماری ہے جسکا آغاز بہت ہی خاموشی سے ہوتا ہے۔ اور انجام liver failure تک جا پہنچتا ہے۔ اس مرض کے علاج کے تعلق سے حکماء کرام ،طب جدید کا یہ اعتراف پڑھ لیں۔ (Currently, no medications have been approved to treat fatty liver disease. more research is needed to develop and test medications to treat this condition.(internet))
ایلوپیتھ میں یہ مرض لاعلاج ہے مذکورہ بالا عبارت ہم تمام حکماء کو ابھارنے کیلئے کافی ہے۔
اس لاعلاج مرض کے علاج سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کی مضرات جگر کیا ہیں۔

غذا میں بے ترتیبی۔ جگر کیلئے نہایت مضر ہے یعنی ایک غذا کے ہضم ہونے سے پہلے اسکے اوپر دوسری غذا کا کھالینا۔

نہار منہ یا غسل کرنے کے بعد یا ورزش کے بعد دفعتاً سرد پانی پی لینا۔ یہ عمل بسا اوقات جگر میں شدید بردودت پیدا کردیتا ہے۔

ہلکا گرم پانی یا محض نارمل پانی ہی پیئں اور اگر ایساپانی میسر نہ ہو تو ٹھنڈا پانی گھونٹ گھونٹ کر کے پئیںیکبارگی نہ پئیں۔

پی ڈی ایم نے قاسم باغ سٹیڈیم کا کنٹرول سنبھال لیا، صورتحال کشیدہ

جو غذائیں لزوجت اور لیس رکھنے والی ہیں ایسی تمام غذائیں جگر کیلئے مضر ہیں۔ گیہوں کی روٹی، خمیری روٹی، چاول، روغنی روٹی، بکری کا کلہ پائچہ، غلیظ گوشت یہ تمام غذائیں جگر کیلئے نقصاندہ ہیں۔ان غذاؤں سے حتی الوسع بچیں ۔

کباب: بالخصوص کچا یا جلا ہوا کباب کھانا جگر کیلئے نقصاندہ ہے۔
اطباء کا یہ بھی کہنا ہے کہ دودھ اور شہد ایک ساتھ کھانا جگر کیلئے نقصاندہ ہے۔(اکسیر اعظم ص۵۰۸)

اصول علاج:۔جگر کے تمام امراض کے علاج میں اسکی چاروں قوتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ جگر کے علاج کیلئے ایسی دوائیں برتنی چاہئے جو خوشبو دار لذیذ مفتح اور مدر ہوں۔

طحال و مرارہ جگر کے خادم عضو ہیں انکی اصلاح سے بھی جگر کی اصلاح ہوتی ہے۔

امراض جگر میں دوا کھانے کا بہترین وقت وہ ہے جب غذا معدہ سے جگر کی طرف نفوذکرکے اسمیں ہضم ہو چکی ہو اور اسکے فضلات جدا ہو گئے ہوںتاکہ غذا جگر کی طرف دواء کے نفوذ میں مانع نہ ہواور غذا میں جگر کی مصروفیت اسے دوا میں تصرف کرنے سے بعض نہ رکھے یعنی بہترین وقت صبح خا لی پیٹ ۔ اور شام ۴ بجے سے ۶ بجے تک ہے۔

’’کاسنی‘‘ جگر کی سب بیماریوں کو فائدہ بخشتی ہے۔ کاسنی خواہ جنگلی ہو یا بستانی۔ جگر کیلئے نہایت مفید و موافق ہے۔ کاسنی جو تلخ زیادہ ہوگی سود مند زیادہ ہوگی اسلئے کہ اگرچہ کاسنی تلخ حرارت سے خالی نہیں ہوتی لیکن جگر کے سدوں کو کھولتی ہے۔(ذخیرہ خوارزم شاہی ج ششم ص 370)
”افسنتین”بھی جگر کیلئے نہایت مفید ہے میں نے اپنے تجربہ میں اسکو جگر کے بیشتر امراض کے علاج میں ازحد مفید پایا۔میرے ۱۶ سالہ مطب کا یہ جزو لاینفک ہے ۔

غذاؤں میں سریع النفوذ غذائیں جگر کے موافق ہیں۔ مغز فندق جگر کے ہر مرض میں مفید غذا ہے اور ایسے ہی ماء الشعیر بھی جگر کیلئے نہایت مناسب ہے۔

علاج:۔ایلو پیتھ میںیہ مرض لاعلاج ہے وہاںان الفاظ میںاعتراف ہے۔Currently, no medications have been approved to treat fatty liver disease.(internet) اسکا شافی علاج یونانی میں ہے۔

مریض اگر شراب پیتا ہے تو اسکو فوراً سے ترک کرائیں۔ موٹاپا زیادہ ہے تو وزن کم کریں۔ سادہ غذائیں استعمال کریں پیدل چلنے اور ہلکی ورزش کو معمول کا حصہ بنائیں۔ سفید شکر کا استعمال ترک کریں۔ نیم گرم پانی ہی پیئں/ پلائیں ٹھنڈا پانی اور ٹھنڈے مشروبات سے پرہیز کریں۔ اس سلسلے میں ہمارے کیرلا کے اطباء خوش نصیب ہیں کیونکہ وہاں گرم پانی ہی پیا جاتا ہے۔ Antibiotic دواؤں کے کثرت استعمال سے بچیں خواہ مخواہ paracetamol کے استعمال سے گریز کریں۔
میرے دواخانہ پر fatty liver کے مریض آتے ہیں۔ میں ان تمام مریضوں کو پورے اطمنیان کے ساتھ حسب ذیل نسخہ استعمال کراتا ہوں۔ بحمدللہ دو ماہ کے علاج سے اور کسی کسی کو تین ماہ تک علاج کرنا پڑتا ہے۔ وہ ٹھیک ہوجاتے ہیں۔

ھوالشافی

معجون دبید الورد۔ ۷ گرام صبح خالی پیٹ ہلکے گرم پانی سے ۔اسکے آدھے گھنٹہ بعد۔۔

افسنتین (کوٹی ہوئی) دس گرام۔اسکا جوشاندہ تیار کرکے اسی جوشاندہ میں شربت کاسنی بیس ملی لیٹر ملاکر صبح خالی پیٹ اور افسنتین کی وہی پڑیا دوبارہ پانی ڈال کر پکاکر چھان کر دوبارہ سے اسی میں شربت کاسنی بیس ملی لیٹر ملاکر پلائیں شام چار بجے۔

اسکے ساتھ ساتھ غالب علامات کا لحاظ کرکے دوائیں جوڑتا ہوں۔ جیسے بعض مریضوں میں خون کی کمی اور نظام ہضم و جذب متاثرپاتا ہوں تو جوارش جالینوس پانچ پانچ گرام ہمراہ قرص کشتہ خبث الحدید ایک ایک ٹکیہ بعد غذائیں۔اگر قبض ہے ۔ سفوف اصلاح معدہ ۷ گرام رات سوتے وقت ۔اگر لیور کے مقام پر درد ہے تو سفوف انگوزہ شامل کردیتا ہوں ۔

جوان العمر حکماء و اطباء سے میری گزارش ہے کہ و ہ طب یونانی سے عملی تعلق پیدا کریں اور اس سستی اور عوامی پیتھی کے علمبردار بن کر خلق خدا کی خدمت کریں۔ اس نسخہ کو پورے اعتماد سے استعمال کریں اور جوکچھ بھی ریزلٹ انہیں ملے اس سے ہم تمام کو باخبر کریں۔

مصادر و مراجع

(۱) ذخیرہ خوارزم شاہی ،مصنف احمد الحسن الجر جانی ،مترجم حکیم ہادی حسین خان ،ادارہ کتاب الشفاء، ۲۰۷۵ کوچہ چیلان ،دریا گنج ، نئی دہلی

(۲)اکسیر اعظم ۔تالیف مسیح دوراں ،حکیم محمد اعظم خاں ،مکتبہ دانیال، غزنی اسٹریٹ ،اردو بازار، لاہور

(۳)Devidson’s principles and practice of medicine sixteenth edition

(۴)internett

تشحم کبدی Fatty liver تشحم کبدی Fatty liver تشحم کبدی Fatty liver تشحم کبدی Fatty liver تشحم کبدی Fatty liver تشحم کبدی Fatty liver

تشحم کبدی Fatty liver” ایک تبصرہ

  1. ماشاء االلہ بہت عمدہ مضمون جناب حکیم صاحب آپ کا بیحد ممنون ہوں کہ آپ نے جسم انسانی کے سب سے بڑے اور اہم عضو کو اتنے کم لفظوں ک ساتھ اکسیرات بھی پیش کیں

اپنا تبصرہ بھیجیں