58

دنیا میں سب سے خطرناک دہشت گرد گروپ’ رپورٹ جاری

Spread the love

لندن (صرف اردو آن لائن نیوز) خطرناک دہشت گرد گروپ

2019 میں دنیا بھر میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں میں ہلاک ہونے والے

افراد کی تعداد میں مسلسل پانچویں سال کمی واقع ہوئی ہے۔ایک معروف تھنک

ٹینک انسٹی ٹیوٹ برائے اکنامکس اینڈ پیس(آئی ای پی) نے دہشت گردی سے متعلق

عالمی درجہ بندی(گلوبل ٹیررازم انڈیکس) پر اپنی رپورٹ میں کہا ہیکہ تنازعات ہی

اس وقت دنیا بھر میں دہشت گردی کا اصل محرک ہیں جب کہ عالمی سطح پر

دہشت گردی کے واقعات میں کمی کے باوجود مغربی ممالک میں دائیں بازو کی

دہشت گردی میں اضافہ ہورہا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2019 میں دنیا بھر میں دہشت گردی سے 13 ہزار 826 اموات ہوئیں جوکہ 2018 کے مقابلے میں

15 فیصد کم ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا ہیکہ 2014 کے بعد سے دہشت گردی سے

ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل پانچویں سال کمی آئی ہے۔تھنک ٹینک کی سالانہ

رپورٹ میں خبردارکیاگیا ہیکہ شمالی امریکا، مغربی یورپ اور اوشنیائی ممالک (براعظم آسٹریلیا) میں 2019 میں دائیں بازو کی دہشت گردی کی وجہ سے

89 ہلاکتیں ہوئی ہیں جوکہ 5 سالوں میں 250 فیصد زیادہ ہے اور یہ گذشتہ 50

سالوں کے دوران بھی سب سے زیادہ تعداد ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ تنازعات

ہی دہشت گردی کی اصل وجہ ہیں اور 2019 میں دہشت گردی سے ہونے والی

96 فیصد ہلاکتیں تنازعات کا شکار ممالک میں ہوئی ہیں۔گلوبل ٹیررازم انڈیکس

کے مطابق ہلاکتوں میں سب سے زیادہ کمی افغانستان اور نائیجیریا میں ہوئی ہے

لیکن یہی دو ممالک ہیں جہاں ایک سال میں دہشت گردی سے ایک ہزار سے زیادہ

اموات بھی ہوئی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ دہشت گردی کے واقعات میں

مجموعی طور پر کمی ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود برکینا فاسو ، سری لنکا ،

موزمبیق ، مالی اور نائجر میں صورت حال خراب ہے جب کہ بہت سے ملکوں

میں یہ ایک سنگین خطرہ ہے۔اس کے علاوہ جنوبی ایشیا وہ خطہ ہے جو کہ مسلسل

دوسرے سال سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے۔تھنک ٹینک کے

چیئرمین اسٹیو کلیلیاکاکہنا ہے کہ نئی دہائی میں داخلے کے ساتھ ہمیں دہشت گردی

کے نئے خطرات بھی نظر آرہے ہیں جس کی مثال مغربی ممالک میں دائیں بازو

کی انتہاپسندی اور صحارا کے خطے میں ہونے والی بدامنی ہے۔رپورٹ کے

مطابق 2019 میں بھی دنیا کے سب سے خطرناک دہشت گرد گروہوں میں طالبان

سرفہرست ہیں جب کہ داعش کی طاقت میں مسلسل کمی آرہی ہے تاہم اس سے

منسلک گروہ زیریں صحارا کے افریقی ممالک میں سرگرم ہیں۔رپورٹ میں

مزیدکہاگیا ہیکہ کورونا وباکے بعد سیگلوبل ٹیررازم انڈیکس کے اعداد وشمار

دہشت گردی کے واقعات اور ہلاکتوں میں کمی کااشارہ کرتے ہیں تاہم کورونا کے

باعث پیدا ہونے والی معاشی بدحالی سے سیاسی عدم استحکام اور تشدد میں اضافے

کا خدشہ ہے۔

خطرناک دہشت گرد گروپ

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں