124

اسرائیلی وزیر اعظم کا خفیہ دورہ سعودی عرب، محمد بن سلمان سے ملاقات

Spread the love

ریاض ،تل ابیب (صرف اردو آن لائن نیوز) اسرائیلی وزیر اعظم دورہ عرب

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد

بن سلمان کے درمیان خفیہ ملاقات کا انکشاف ہوا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان

سے ملاقات کے لئے سعودی عرب کا خفیہ دورہ کیا ہے۔اسرائیل کے سرکاری

نشریاتی ادارے کان نیوز کی پیر کو جاری اس رپورٹ پر وزیر اعظم کے دفتر نے

تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔کان کے مطابق اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی موساد

کے سربراہ یوسی کوہن بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے۔دونوں نے سعودی ولی عہد

اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کی جو سعودی عرب کے

دورے پر موجود تھے۔کان کے مطابق یہ ملاقات شمال مغربی سعودی عرب کے

شہر نیوم میں ہوئی۔عبرانی زبان کے اخبار ہارٹز نے ہوا بازی سے باخبر رکھنے

والے اعداد و شمار شائع کیے ہیں جس میں بتایا گیا کہ نیتن یاہو کا طیارہ سعودی

سر زمین پر تقریبا پانچ گھنٹے رہنے کے بعد واپس اسرائیل آیا۔دوسری طرف

سعودی عرب نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن

نیتن یاہو کی ملاقات کی خبروں کی تردید کردی ہے. سعودی وزیر خارجہ فیصل بن

فرحان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں کہا کہ میڈیا میں امریکی

سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کے حالیہ دورے کے دوران ولی عہد محمد بن

سلمان اور سعودی حکام کے درمیان ملاقات کی خبریں زیر گردش ہیں انہوں نے

ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور محمد بن

سلمان سے مائیک پومپیو کی ملاقات میں صرف امریکی اور سعودی حکام موجود

تھے.تاہم اسرائیل کی جانب اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے. بی بی

سی کا کہنا ہے کہ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق نیتن یاہو کے زیر استعمال رہنے

والا ایک طیارہ اتوار کی شام سعودی عرب کے شہر نیوم گیا تھا اور پانچ گھنٹے

تک سعودی سرزمین پر رہاصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیل کے متحدہ

عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کے معاہدوں

میں کردار ادا کیا ہے سعودی عرب نے محتاط انداز میں اس پیش رفت کا خیر مقدم

کیا تاہم اس نے عندیہ دیا ہے کہ جب تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن

معاہدہ نہیں ہوجاتا، تب تک وہ مذکورہ ممالک کی پیروی نہیں کرے گا. اس حوالے

سے اگرچہ سعودی عرب کی جانب سے تردید آگئی ہے مگر اسرائیلی حکام نے اس

طیارے کے ٹریکنگ ریکارڈ اور نیتن یاہو کے اس میں موجود ہونے یا نہ ہونے

کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا‘مشرق وسطحی کے امور کے ماہرین کا

کہنا ہے کہ شاید اسرائیل چاہتا ہے کہ ’’کنفیوڑن‘‘کی یہ فضاء برقراررہے کیونکہ

سیاسی لحاظ سے یہ اسرائیل اور امریکا کے فائدے میں ہے لہذا ممکن ہے اسرائیل

کی جانب سے اس کا سرکاری طور پر کوئی جواب نہ مل سکے.

اسرائیلی وزیر اعظم دورہ عرب

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں