کراچی کورونا 14 صحتیاب 54

یہ حکومت اب گھبراہٹ کا شکار ہے، مرتضی وہاب

Spread the love

کراچی (صرف اردو آن لائن نیوز) حکومت گھبراہٹ کا شکار

ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اب گھبراہٹ کا

شکار ہے۔ کیا 300 لوگوں سے کم میں کورونا وائرس نہیں پھیلے گا۔کہ قول و فعل

میں تضاد سمجھنا ہو تو تحریک انصاف کی دو سال کی حکومت دیکھ لے۔ ذاتی

طور پر حمایت کروں گا کہ تعلیمی اداروں کو بند کردینا چاہیے۔کراچی میں پریس

کانفرنس کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے اپنے

الفاظ ہیں کہ سیاحت کو کھول دیں معاشی قتل عام ہو رہا ہے، یہ اس وقت کی بات

ہے جب کورونا وائرس عروج پر تھا، سندھ میں آج بھی کورونا وائرس کے سب

سے زیادہ ٹیسٹ ہو رہے ہیں، وزیراعظم عمران کان کا فیصلہ ہے کہ چیزوں کو بند

نہیں کرنا لاک ڈاون نہیں کرنا۔مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان

اپوزیشن سے بات کرنا پسند نہیں کرتے، کے سی آر کو سی پیک کا حصہ سندھ

حکومت نے بنایا، کیوں ہمارے پروجیکٹ ایکنک میں رک جاتے ہیں، میرا بھی دل

دکھتا ہے کہ سرکلر ریلوے آپریشنل کیوں نہیں ہے۔مرتضی وہاب نے کہا کہ میں

ذاتی طور پر حمایت کروں گا کہ تعلیمی اداروں کو بند کردینا چاہیے، موسم سرما

کی چھٹیوں کو پہلے کرلینا چاہیے تاکہ بچوں کو کورونا وائرس سے بچا سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت کو مالی مسائل درپیش ہیں، ہمیں وفاق سے

کوئی سپورٹ نہیں ہے، وفاقی حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ عوام اب وعدوں کی

تکمیل چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ کوئی ایک اسکینڈل ہو تو بتائیں،

چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتے ہوتے سینچری ہوئی، وزیراعظم عمران خان

پروٹوکول استعمال نہیں کرتے لیکن ہیلی کاپٹر میں گھومتے ہیں، وزیراعظم کو پتہ

نہیں چلتا اور ان کی حکومت میں فیصلے ہوجاتے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں ایسی

حکومت نہیں آئی تھی جو کیپسول میں رہتی ہو۔مرتضی وہاب نے حکومت پر تنقید

کرتے ہوئے کہا کہ دوائیں منہگی ہوجاتی ہیں کہتے ہیں پتہ نہیں، چینی اور گیس

منہگی ہو تو کہتے ہیں نوٹس لے لیا، وفاقی کابینہ میں ایسے حضرات ہیں جن کے

اپنے بزنس انٹرسٹ ہیں، کابینہ ارکان کے بزنس انٹرسٹ میں وہ فیصلے کیے جاتے

ہیں جس سے عوام کا استحصال ہوتا ہے۔انہوںنے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں عوام

دشمن پالیسز کیخلاف سراپا احتجاج ہیں۔ مرتضی وہاب نے سندھ حکومت کی جانب

سے شروع کیے گئے پروجیکٹس سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ تھرکول

منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، پاکستان سالانہ 3 سے 4 ارب ڈالر پام آئل کی

امپورٹ کیلیے خرچ کرتا ہے، حکومت سندھ نے ٹھٹھہ میں ایک جگہ کو پام

پلانٹیشن کے لیے مختص کیا۔انہوںنے کہا کہ ماہرین نے بتایا کہ یہ جگہ پام کی

پلانٹیشن کے لیے سازگار ہے، اس جگہ پام کے بیجوں کو لگایا گیا، اب وہ درخت

بن کر پھل دے رہے ہیں، ماہرین کے مطابق پھل کی کوالٹی عالمی معیار کے

مطابق ہے، بیج سے درخت اور پھر پھل سے تیل نکالنے کا طریقہ کار سندھ

حکومت مکمل کر چکی ہے۔مرتضی وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت یہ اہم سنگ

میل عبور کرچکی ہے، یہ منصوبہ ٹھٹھہ کے عوام کے لیے گیم چینجرثابت ہوگا۔

مرتضی وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت نے مزید 1600 ایکڑ زمین کاٹھور میں پام

کے لیے مختص کردی ہے، یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ باتیں کون کرتا ہے اور کام

کون کرتا ہے۔

حکومت گھبراہٹ کا شکار

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں