47

کرونا کے پھیلاو کا خطرہ، ڈنمارک میں بے ضرر جانور کے قتل عام کا فیصلہ

Spread the love

کوپن ہیگن(صرف اردو آن لائن نیوز) کرونا پھیلاو خطرہ ڈنمارک

ڈنمارک کی حکومت نے اعلان کیا ہے وہ ملک میں پائے جانے والے 15 ملین

منک جانوروں کو قتل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس حوالے سے حکومت نے

پارلیمنٹ سے دوسری جماعتوں کی حمایت بھی حاصل کی ہے۔ ڈینش پارلیمنٹ میں

منظور ہونے والے ایک بل میں ‘منک’ جیسے بے ضرر جانداروں کی نسل کشی

حمایت کی گئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق صحت مند جانوروں کے قتل کا حکم

دینے کا حق نہ ہونے کے باوجود حکومت نے جانوروں کو ختم کرنے کے اعلان

سے قبل سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی۔یک جماعتی سوشل

ڈیموکریٹک اقلیتی حکومت نے بائیں بازو کی چار اور وسطی جماعتوں کے ساتھ

ایک معاہدے پر اتفاق کیا جس میں کہا گیا کہ شمالی ڈنمارک کے باہر کچھ لوگوں

میں منک کے ذریعے کرونا کے پھیلائو کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔وزیر زراعت مگنس

جینسن نے پارلیمنٹ میں انکشاف کیا کہ منک کے قتل عام کا فیصلہ ہوچکا ہے۔

انہوں نے اس جانور کی دیکھ بھال کرنے اور افزائش نسل کے لیے کام کرنے

والے افراد سیمعافی مانگ لی کیونکہ یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ جانور کے قتل

عام کا کوئی قانونی جواز ہے یا نہیں۔منک میں پائے جانے والے کرونا وائرس کا

تبدیل شدہ ورژن انسانوں میں پھیل سکتا ہے حالانکہ ابھی تک اس بات کا کوئی

ثبوت نہیں ملا ہے کہ یہ ویکسین سے زیادہ خطرناک یا مزاحم ہے۔ صرف یہ شبہ

ہے کہ اس جانور کی وجہ سے 11 افراد کرونا کا شکار ہوئے ہیں۔یہ قابل ذکر ہے

کہ ڈنمارک میں منک کے 1139 فارم ہیں جن میں تقریبا 6 ہزار افراد کام کرتے

ہیں اور انہیں روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ وہاں پر منک کی عالمی پیداوار کا 40 فی

صد تیار کیا جاتا ہے اور وہ دنیا کا سب سے بڑا منک برآمد کنندہ ہے۔ زیادہ تر

برآمدات چین اور ہانگ کانگ کو جاتی ہیں۔

کرونا پھیلاو خطرہ ڈنمارک

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں