39

افغانستان سے غیرملکی فوجوں کے نکلنے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی، نیٹو چیف

Spread the love

واشنگٹن (صرف اردو آن لائن نیوز) بھاری قیمت نیٹو چیف

نیٹو کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغاستان سے غیر ملکی افواج نکل گئیں

تو انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ انہوں نے یہ بیان امریکی حکام کی

طرف سے اپنی پالیسی کے اس اعادے پر تبصرہ کرتے ہوئے دیا جس میں کہا گیا

ہے کہ صدر ٹرمپ افغانستان سے اپنی افواج کو جلد از جلد بلانا چاہتی ہیں۔ نیٹو

ہیڈکوارٹر سے جاری ہونے والے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ کے بیان کو

امریکی ٹی وی ’’نیوز میکس‘‘ نے نمایاں طور پر نشر کیا ہے۔ اس وقت درجونوں

ممالک پر مشتمل نیٹو کی تقریباً بارہ ہزار فوجی افغانستان کی قومی سیکیورٹی

فورسز کو تربیت یا مشورہ دینے کیلئے وہاں موجود ہیں ان میں سے تقریباً آدھے

فوجی امریکہ کے ہیں جن پر نیٹو کے تیس ممالک کا اتحاد زیادہ انحصار کرتا ہے۔

نیٹو چیف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ہمیں اس وقت مشکل فیصلے کا سامناہے۔

ہم نے افغانستان میں تقریباً بیس سال کا عرصہ گزار لیا ہے اور نیٹو کا کوئی

اتحادی ضرورت سے زیادہ وہاں ٹھہرنا نہیں چاہتا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ

دیکھنا ہوگا کہ اگر ہم نے جلد انخلاء کرلیا یا ہم نے یہ کام مربوط طریقے سے نہ

کیا تو اس کی قیمت بہت بھاری ہوگی۔ نیٹو چیف کا کہنا تھاکہ اس امر کا شدید خطرہ

موجود ہے کہ داعش جیسے بین الاقوامی دہشت گرد جو ہمارے ممالک کی

سرحدوں میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں وہ افغانستان کو اپنا نیا پلیٹ فارم

بنالیں۔ ان کے مطاب داعش شام اور عراق میں شکست کھانے کے بعد افغانستان میں

اسی طرز کی خلافت قائم کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے صدارتی

انتخابات میں شکست کھانے کے بعد عہدہ چھوڑنے سے قبل پینٹاگون کی اعلیٰ

قیادت میں ایسی تبدیلیاں کی ہیں جو ان کی افغان پالیسی پر جلد از جلد عملدرآمد

کرنے میں ان کا ساتھ دیں۔ صدر ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق افغانستان میں

موجود پانچ ہزار امریکی فوجیوں کی تعداد 15 جنوری تک آدھی یعنی اڑھائی ہزار

رہ جائے گی۔

بھاری قیمت نیٹو چیف

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں