مریم نواز 42

کورونا وباء ،جلسے، جلوسوں پر پابندی عائد

Spread the love

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) کورونا جلسے جلوس پابندی

ملک میں عالمی وبا کورونا کی دوسری لہر کے پھیلاؤ کے بعد حکومت نے ملک

بھر میں جلسے، جلوسوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا ،شادی ہالز میں ہونیوالی

تقاریب میں 300 سے زائد افراد شرکت نہیں کرسکیں گے جبکہ وزیر اعظم عمران

خان نے کہا ہے مساجد ،فیکٹریوں اور دکانوں میں ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا،

سکولوں کو بند کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ ایک ہفتے بعد ہوگا،دس دن میں

کورونا کیسز چار گنا اضافہ ہوا،احتیاط نہ کی تو ہسپتال مریضوں سے بھر جائیں

گے ،وائرس پہلے سے زیادہ خطرناک ہے، اگر ابھی ہم احتیاط کرگئے تو اسے

روک سکتے ہیں،بھارت لاک ڈاؤن کے باعث ابھی تک معاشی بحران سے نہیں

نکل پارہا ،ٹائیگر فورس اپنے موبائل فون سے ہمیں بتائے گی کون ایس او پیز پر

عمل نہیں کررہا، ملک بھر میں ہم نے بھی اپنے جلسے ختم کردئیے اور باقی سب

سے بھی یہی کہیں گے۔ پیر کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی

رابطہ کمیٹی برائے کورونا کا اجلاس ہوا جس میں مختلف امورپر غور کیا گیا ۔

اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ایک دن

میں جہاں 6 یا 7 اموات ہورہی تھیں اب بڑھ کر 25 ہوگئیں ۔انہوں نے خدشہ ظاہر

کیا اگر ایس او پیز پر عمل نہیں کیا تو نتائج سنگین ہوسکتے ہیں، احتیاط کرلی تو

وبا کے اثرات کو روک سکیں گے۔ماسک کی افادیت اور اس کو پہننے سے متعلق

سخت تاکید کرتے ہوئے انکا کہنا تھا اگر عوامی مقامات پر لوگ ماسک پہن لیں تو

کیسز میں نمایاں کمی آسکتی ہے، ہم کاروباری سرگرمیا ں بند نہیں کررہے لیکن ہر

جگہ ایس او پیز پر عمل کیا جائے تاکہ ایسی نوعیت کاروبا ر کی بندش پر آئے ہی

نہ، جو چند ماہ قبل آئی جس میں ہمیں لاک ڈاؤن لگانا پڑا۔عمران خان نے کہا کہ ہم

نے جلسے منسوخ کردیئے ،دیگر سیاسی جماعتیں بھی ملک و قوم کی بھلائی میں

جلسے، جلوسوں کے انعقاد سے گریز کریں۔انہوں نے گلگت بلتستان کے حکام کا

حوالہ دیکر کہا کہ وہاں انتخابی مہم کے بعد کورونا کے کیسز میں تیزی سے

اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شادی کی تقریبات کھلے مقامات پر منعقد کی جائیں لیکن

اس میں 300 سے زائد افراد شریک نہ ہوں اور تمام شریک افراد کیلئے ماسک

پہننا ضروری ہوگا۔عمران خان نے واضح کیا کہ جائرہ لے رہے ہیں سکولوں سے

کیسز کی تعداد خطرناک حد تک تو نہیں بڑھ رہی، اگر کیسز میں اضافہ ہواتو موسم

سرما کی چھٹیوں میں اضافہ کرکے موسم گرما کی چھٹیوں میں کمی کردیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم کورونا وبا کے دوران اپنی معیشت بچانے میں کامیاب

رہے ۔ سروس، سیاحت، ریسٹورنٹ سمیت دیگر سیکٹر کو بہت نقصان پہنچا اس

کے باوجود دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت نقصان ہوا۔وزیراعظم کی زیرِ

صدارت پنجاب کابینہ کے اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار وڈیو لنک کے

ذریعے شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کو کورونا وائرس کے

مریضوں کی بڑھتی تعداد اور اقدمات پر بریفنگ دی گئی ۔اعلامیہ کے مطابق

اجلاس میں کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی ہدایت پر زور

دیا گیا جبکہ ملکی سیاسی صورتحال اور گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج پر

بھی غور کیا گیا۔دوسری طرف وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود کی زیرصدات بین

الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس نے تعلیمی اداروں کو فوری طور پر بند کرنے

کی مخالفت کردی، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا بچوں اور اساتذہ کی جان

سب سے زیادہ عزیز ہے،23نومبر پیر کو سردیوں کی تعطیلات اورسکولوں کی

بندش کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہوگا۔ بین الصوبائی وزرائے تعلیم کا نفر نس

میں تمام صوبائی وزرائے تعلیم نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ نیشنل کمانڈ

اینڈ آپریشن سینٹر اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس کو کورونا کیسز کی موجودہ

صورتحال پر بریفنگ دی اور ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کی وجہ سے

تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات جلد اور لمبی کرنے سے متعلق

مشاورت ہوئی۔اجلاس میں موسم سرما کی تعطیلات نومبر سے جنوری تک کرنے

کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا گیا تعلیمی اداروں میں کوویڈ کیسز خطرناک حد

تک بڑھ گئے ہیں تاہم وزرائے تعلیم نے سکولز بند کرنے کی مخالفت کردی۔ اگلے

ہفتے دوبارہ وزرائے تعلیم کا اجلاس ہوگا جس میں صورت حال کا جائزہ لیا جائے

گا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہابین الصوبائی وزرا تعلیم کانفرنس کی

مشاورت اور سفارشات این سی سی میں پیش کی جائیں گی، 23 نومبر پیر کو

سردیوں کی تعطیلات اور اسکولوں کی بندش کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہوگا۔

کورونا جلسے جلوس پابندی

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں