57

گلگت بلتستان الیکشن, تحریک انصاف نے میدان مار لیا

Spread the love

گلگت بلتستان الیکشن

گلگت (صرف اردو آن لائن نیوز) گلگت بلتستان الیکشن

گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کیلئے ہونیوالی پولنگ کے نتائج

شروع ہو گئے ،ان انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف، پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن

کے درمیاں کانٹے دار مقابلہ تھا ، ابتدائی غیر حتمی نتائج کے مطابق ابھی تک

زیادہ تر نشستوں کے نتائج موصول ہو چکے ہیں ، جن میں سے9 پر تحریک

انصاف ، 7 پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی 4 اور وحدت المسلمین

کا ایک امیدوار کامیاب ہوا۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے گلگت بلتستان کے

سابق وزیراعلی سیدمہدی شاہ اور مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے حفیظ

الرحمن کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ابتدائی نتائج کے مطابق گلگت بلتستان کے

دس حلقوں میں پی ٹی آئی کے امیدوار آگے جار ہے ہیں ،چار حلقوں میں پی پی پی

کے امیدواروں کو سبقت حاصل ہے ، پانچ حلقوں میں ٓزاد امیدوار آگے ہیں جبکہ دو

حلقوں میں مسلم لیگ ن، ایک میں جے یو آئی ف کے امیدوار آگے ہیں ابتدائی نتائج

کے مطابق جی بی 1میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین 1867 ووٹ لے کر

آگے، آزاد امیدوار سلطان رئیس 469 ووٹوں کے ساتھ دوسرے اور پی ٹی آئی کے

جوہر علی 403 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہیں۔جی بی 2میں پی ٹی آئی کے فتح

اﷲ خان 5220 ووٹ لیکر آگے ہیں، پی پی پی کے جمیل احمد نے 3071 اور ن

لیگ کے حفیظ الرحمن نے 2100 ووٹ حاصل کیے۔جی بی 4 میں اسلامی تحریک

پاکستان (آئی ٹی پی) کے محمد ایوب نے 1943، پی پی پی کے امجد حسین نے

1655 اور پاکستان تحریک انصاف کے ذوالفقار علی نے 738 ووٹ حاصل کیے۔

جی بی 5 میں آزاد امیدوار جاوید علی منوا 2570 ووٹ حاصل کرکے پہلے نمبر

پر ا?ئے، ایم ڈبلیو ایم کے رضوان علی نے 1850، آزاد امیدوار ذوالفقار علی مراد

نے 1230 اور پی پی پی کے مرزا حسین نے 70 ووٹ حاصل کیے۔جی بی 6 میں

پی ٹی آئی کے کرنل عبیداﷲ بیگ 2134 ووٹ لے کر سب سے آگے، پی پی پی

کے ظہور کریم ایڈووکیٹ 27 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔جی بی 7میں پی

ٹی آئی کے راجہ محمد زکریا خان 5290 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے، پی پی

پی کے سید مہدی شاہ نے 4114، ن لیگ کے محمد اکبر خان نے 818 ووٹ

حاصل کیے۔جی بی 8 میں مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے محمد کاظم 7534 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ا?ئے۔ پی پی پی کے سید محمد علی شاہ

7146 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔جی بی 9 میں آزاد امیدوار وزیر محمد

سلیم نے 5903، پاکستان تحریک انصاف کے فدا محمد نشاد نے 4445 اور پی پی

پی کے وزیر وقار علی نے 2000 ووٹ حاصل کیے۔جی بی 11 میں پاکستان

تحریک انصاف کے سید امجد علی نے 4699، مسلم لیگ (ن) کے شبیر حسین

3059، ا?زاد امیدوار اقبال حسین نے 1225 ووٹ حاصل کیے۔جی بی 12 میں پی

ٹی آئی کے راجا محمد اعظم خان 10674 ووٹ کے ساتھ پہلے، پیپلز پارٹی کے

عمران ندیم 8886 ووٹ لے کر دوسرے، مسلم لیگ ن کے محمد طاہر شگری

2261 ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔جی بی 17 میں جے یو آئی (ف) کے

رحمت خالق نے 3227، پاکستان تحریک انصاف کے حیدر خان نے 2862 اور

پی پی پی کے غفار خان نے 44 اور مسلم لیگ (ن) کے صدر عالم نے 41 ووٹ

حاصل کیے۔جی بی 22 میں آزاد امیدوار مشتاق حسین 6051 ووٹ لے کر پہلے

نمبر پر آئے، پاکستان تحریک انصاف کے محمد ابراہیم ثنائی نے 4945، پی پی پی

کے محمد جعفر نے 2615 اور مسلم لیگ (ن) کے رضا الحق نے 614 ووٹ

حاصل کیے۔جی بی 23پاکستان تحریک انصاف کی آمنہ بی بی نے 348، پی پی پی

کے غلام علی حیدری نے 120 جبکہ آزاد امیدواروں امان اﷲ نے 232 اور عبدالحمید 135 ووٹ حاصل کیے۔جی بی 24پی پی پی کے محمد اسماعیل

6206 ووٹ لے کر فاتح قرار پائے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سید شمس الدین

نے 5361 اور مسلم لیگ (ن) کے محمد ابراہیم تبسم نے صرف 1 ووٹ حاصل

کیا۔اس سے قبل گلگت بلتستان کے دس اضلاع کے 23 حلقوں سے 7 لاکھ سے

زائد ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا جبکہ گلگت حلقہ 3 میں تحریک انصاف کے صدر جعفر شاہ کی اچانک موت کے بعد اس حلقے میں انتخابات

22 نومبر کو ہونگے۔ووٹنگ کا عمل بغیر کسی وقفے کے صبح 8 بجے سے شام 5

بجے تک جاری رہا۔ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے پولنگ سٹیشن کے اندر

موبائل فون لے جانے پر مکمل پابندی عائد کی تھی۔اس کے علاوہ پولنگ سٹیشن

کے 100 میٹر حدود کے اندر پوسٹرز اور بینرز لگانے اور چار سو میٹر کے اندر

انتخابی مہم چلانے پر بھی پابندی عائد تھی۔ انتخابات کو صاف، شفاف، غیر جانبدار

اور پرامن بنانے کیلئے الیکشن کمیشن گلگت بلتستان اور صوبائی حکومت نے تمام

تر انتظامات مکمل کئے تھے۔اس سلسلے میں 15 ہزار سے زائد سکیورٹی

اہلکاروں نے پولنگ سٹیشنز پر خدمات سرانجام دیں۔ گلگت بلتستان کے انتخابات

کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک کے دیگر صوبوں سے بھی پولیس اور نیم فوجی

اہلکاروں کے خصوصی دستوں نے بھی یہاں خدمات سر انجام دیں۔انتخابات کیلئے

ایک ہزار ایک سو ساٹھ پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے تھے جن میں سے 311 کو

حساس اور 428 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا،

بلوچستان اور مقامی پولیس کے دس ہزار اہلکارڈیوٹی پر تعینات کئے گئے تھے۔

اس کے علاوہ پیراملٹری فورسز نے بھی فرائض انجام دیے۔گلگت بلتستان انتخابات

میں 7 لاکھ 45 ہزار 361 ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیام۔ ان میں چار

لاکھ پانچ ہزار تین سو پچاس مرد اور تین لاکھ انتالیس ہزار نو سو بانوے خواتین

شامل ہیں۔کورونا صورتحال کے پیش نظر تمام پولنگ سٹاف، سکیورٹی اہلکاروں

اور ووٹرز کو ماسک بھی مہیا کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ پولنگ سٹیشنوں پر

پولنگ عملے کو حفاظتی سامان کے آٹھ ہزار بیگ تقسیم کئے گئے تھے۔ حفاظتی

سامان میں ماسک، گلوز، ہیڈ سینی ٹائزر، معلوماتی پوسٹر اور پلاسٹک فیس کور

شامل تھے۔ پولنگ سٹیشنوں کے اندر ووٹرز ایک دوسرے سے چھ فٹ کے فاصلے

پر رکھا گیا۔کچھ مقامات پر پولنگ کے عمل میں سست روی کی شکایات بھی

سامنے آئیں۔ انتخابی عمل اور سیکیورٹی کا جائزہ لینے کیلئے چیف الیکشن کمشنر

نے مرکزی کنٹرول روم اور پولنگ سٹیشنز کا دورہ کیا۔

گلگت بلتستان الیکشن

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں