49

گستاخانہ خاکوں کیخلاف تحریک لبیک کا احتجاج, پولیس ،کارکنوں میں جھڑپیں

Spread the love

راولپنڈی (صرف اردو آن لائن نیوز) تحریک لبیک کا احتجاج

گستاخانہ خاکوں کے خلاف لیاقت باغ سے سء شروع ہونے والا تحریک لبیک

پاکستان کا احتجاجی مارچ رکاوٹیں عبور کرتا ہو فیض آباد پہنچ گیا پولیس کی جانب

سے ریلی کے شرکاکو روکنے پر پولیس اور کارکنوں میں جھڑپوں کے دوران

پتھراؤ،لاٹھی چارج اور شیلنگ کے باعث متعدد کارکن و پولیس اہلکار زخمی ہو

گئے پولیس اور شرکا کے درمیان تصادم کے نتیجے میں لیاقت باغ کا علاقہ میدان

جنگ بنا رہاشرکا نے دھکے لگا کر کنٹینر راستے سے ہٹا دیئے جبکہ ریلی کے

ہزاروں شرکا تمام رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے فیض آباد پہنچ گئے قبل ازیں پولیس نے

لیاقت باغ اور اس کے گردونواح سے 60سے زائد کارکنان کو حراست میں لے کر

مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم اس وقت

شروع ہوا جب ریلی کے شرکا اتوار کی صبح ٹولیوں اور گروپوں کی شکل میں

لیاقت باغ پہنچ رہے تھے اس موقع پر پولیس نے جمع ہونے والے کارکنوں کو

منتشر کرنے کے لئے شیلنگ شروع کر دی جس پر کارکنان نے جوابی پتھراؤ

شروع کر دیا اس دوران میڈیا کے ایک فوٹو گرافر اور بعض پولیس اہلکاروں

سمیت متعدد کارکنان زخمی ہو گئے شیلنگ اور پتھراؤ کے باعث لیاقت باغ کا

علاقہ میدان جنگ بن گیا جبکہ جڑواں شہروں کے صحافیوں کی بڑی تعداد

راولپنڈی پریس کلب میں محصور ہو کر رہ گئی سی پی اوراولپنڈی اس تمام

کاروائی کی بذات خود نگرانی کرتے رہے اور ہدایات جاری کرتے رہے تصادم کی

اطلاع ملتے ہی راولپنڈی کے مختلف علاقوں کے علاوہ دیگر تحصیلوں سے بھی

کارکنان ٹولیوں اور گروپوں کی شکل میں پہنچنا شروع ہو گئے کارکنان کی تعداد

میں مسلسل اضافے کے باعث پولیس اور انتظامیہ کو پسپائی اختیار کرنا پڑی

راولپنڈی میں تحریک لبیک پاکستان کی ناموس رسالت ریلی کی وجہ سے جڑواں

شہروں کے علاوہ راولپنڈی ڈویژن میں اتوار کی علی الصبح سے ہی موبائل فون

اور انٹر نیٹ سروس بند کر دی گئی تھی جبکہ میٹرو بس سروس کو بھی مکمل

طور پر معطل کیا گیا تھا ریلی کے دوران ممکنہ ہنگامہ آرائی کے باعث مری روڈ

سمیت راولپنڈی شہر اور کینٹ کے تمام بڑے تجارتی و کاروباری مراکزاور ہول

سیل مارکیٹیں مکمل بند رہیں تاہم اندرون رہائشی علاقوں میں تمام بازار کھلے رہے

پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات گئے مری روڈ

اور اس کے تمام داخلی راستوں کو کنٹینر اور خاردار تاروں کے علاوہ بھاری

رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا تھا جس سے راول روڈ ،کری روڈ اور اندرون شہر

سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام رہا اس موقع پر سٹی ٹریفک پولیس مکمل طور پر

غائب رہی اور مختلف مقامات پر شہری اپنی مدد آپ کے تحت ٹریفک کھلواتے

رہے تاہم تمام تر بندشوں اور رکاوٹوں کے باوجود ٹی ایل پی کی کارکنوں کی بڑی

تعداد اچانک لیاقت باغ کے گردونواح سے نکل کر لیاقت باغ چوک مری روڈ پہنچی

اور مری روڈ پر مارچ کرکے نعرہ بازی شروع کی تو راولپنڈی پولیس نے اچانک

احتجاج کرنے والے شرکا پر شیلنگ شروع کردی جس پر کارکن مشتعل ہوئے

مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا جس کے بعد وقفے وقفے سے مارچ

کے شرکا اور پولیس میں جھڑپیں جاری رہیں جھڑپوں و پتھراؤ کے نتیجے میں

ایک پولیس اہلکار اور فوٹو جرنلسٹ بھی زخمی ہوا جبکہ پولیس نے لیاقت باغ اور

گردونواح سے 60سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیاکارکنوں کی تعداد میں

اضافے کے باعث پولیس اہلکار بھی اپنے پوائنٹس تک محدود ہو کر رہ گئے اس

دوران اتوار کی دوپہر ٹی ایل پی کے سربراہ علامہ خادم رضوی کے صاحبزادے

سعد رضوی دیگر علما کے ہمراہ لیاقت باغ پہنچ گئے ہیں جنہوں نے لیاقت باغ میں

کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گرفتاریوں ، شیلنگ ، تشدد اور چھاپوں

سے کوئی حضور ﷺ کے غلاموں کو روک نہیں سکتا انہوں نے مطالبہ کیا کہ

فرانس کے سفیر کو فی الفور پاکستان سے واپس بھجوایا جائے فرانس سے تمام تر

سفارتی وتجارتی اور اقتصادی روابط ختم کئے جائیں علامہ خادم حسین رضوی نے

کہاکہ گستاخانہ خاکو کی اشاعت امت مسلمہ پر حملہ اور اعلان جنگ ہے ہم خون

کے آخری قطرہ تک عزت رسول صلی اﷲ علیہ وسلم پرپہرہ دیں گے انتظامیہ اور

پولیس نے زہریلی آنسو گیس شیلنگ اور لاٹھی چارج کی صورت میں ظلم کی انتہا

کردی ہم حکومت کو واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہر ظلم برداشت کرسکتے ہیں

لیکن ناموس رسالت کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے

تحریک لبیک کا احتجاج

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں