33

پاکستان فلم انڈسٹری کے سینئر ڈائریکٹر اقبال کاشمیری انتقال کر گئے

Spread the love

لاہور(صرف اردو آن لائن نیوز) ڈائریکٹر اقبال کاشمیری انتقال

پاکستان فلم انڈسٹری کے سینئر ڈائریکٹر اقبال کاشمیری مختصر علالت کے

بعد78برس کی عمرمیں انتقال کر گئے۔اقبال کاشمیری گزشتہ ایک ہفتے سے ہسپتال

میں زیر علاج تھے۔اقبال کاشمیری گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔اقبال

کاشمیری نے اپنے سوگوران میں چار بیٹیاں اور دو بیٹے چھوڑے۔اقبال کا شمیری

فلمی صنعت کے ایک ایسے ہدایت کارتھے جنہوں نے محنت اور مسلسل جدوجہد

اور ہر طرح کے نشیب و فراز کے ساتھ اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا۔ اپنے طویل

سفر میں انہیں دْکھ بھی ملے اور سکھ بھی دیکھے۔ اقبال کشمیری کے والد کریم

بخش لاہور کے دہلی دروازے کے پاس کھانے پینے کا ایک چھوٹا سا ہوٹل چلاتے

تھے۔اقبال کشمیری1942میں پیدا ہوئے ان کے والدین انہیں پڑھانا چاہتے تھے،

لیکن مرحوم کی طبیعت کھیل کود کی طرف مائل تھی، وہ لکھنے پڑھنے سے

بھاگتے تھے۔بچپن ہی سے فلم بینی کا شوق تھا، نہ صرف فلم دیکھتے بلکہ محلے

کے بچوں کی ایک ٹیم بنا کر ان کے ساتھ شوٹنگ شوٹنگ کھیلتے تھے۔ ان بچوں

کو مختلف گیٹ اپ کروا کر خود ہدایت کار بن کر ان سے مختلف فلموں کی نقلیں

کرواتے تھے۔ فلم کا یہ شوق انہیں ایک روز شاہ نور سٹوڈیو زلے گیا۔ یہ 1954ء

کا ذکر ہے، ہدایت کار امین ملک کی فلم ’’دیوار‘‘ کی شوٹنگ ہورہی تھی۔ اس فلم

میں کچھ ایکسٹرا کی ضرورت تھی، اس فلم میں وہ بطور ایکسٹرا شامل ہوگئے۔

ہدایت کار امین ملک نے ان کے چھوٹے قد کی وجہ سے ’’نِکو‘‘کا نام دیا اور اس

طرح و ہ ’’نِکو‘‘ کے نام سے فلمی صنعت میں متعارف ہوگئے۔جب ان کے والد

صاحب کو معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا ایکٹر بننے کے خواب دیکھ رہا ہے، تو وہ سخت

برہم ہوئے، یہاں تک کہہ دیا کہ’’ اقبال کی ماں اپنے بیٹے کو سمجھا دو اگر وہ نہیں

مانا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔‘‘ 14 سال کے نوجوان اقبال پر والد کے یہ

الفاظ بجلی بن کر گرے، ان کی والدہ نے اپنے بیٹے کے لئے خْوب دعائیں کیں، ان

کے محلے میں معروف اداکار الیاس کاشمیری کے بھائی رہتے تھے، جو ان کی

والدہ کو خالہ کہتے تھے، ایک روز ان کے توسط سے اقبال، الیاس کاشمیری سے

ملا، جو مال روڈ کے کیسیلز ہوٹل کے پیچھے رہتے تھے، اقبال ان کے پاس رہنے

لگا، تایا الیاس کاشمیری کے تمام کام کرتا رہا، یہاں تک کہ کپڑے استری کرنا،

جوتوں کو پالش کرنا، تایا الیاس نے انہیں رائل پارک میں ملک فلمز کے دفتر میں

چھ آنے روز پر ملازم کروا دیا۔ انہی دنوں اس ادارے کی پنجابی فلم ’’یکے والی‘‘

زیر تکمیل تھی۔ ایک روز فلم کے ہدایت کار ایم جے رانا اور دیگر لوگ دفتر میں

بیٹھے میٹنگ کررہے تھے، اقبال ان کے لیے چائے لے کر آیا اور کہا رانا صاحب

مجھے اداکاری کا شوق ہے، کچھ مکالمے سنائے اور اداکاری بھی کرکے دکھائی،

جسے دیکھ کر ایم جے ر انا نے انہیں فلم ’’یکے والی‘‘ میں اداکارہ مسرت نذیر

کے چھوٹے بھائی کا کردار سونپا۔اس فلم میں کام کرنے کے بعد اقبال ’’نِکو‘‘ کے

نام سے ملک اسٹوڈیو سے وابستہ ہوگیا۔ ’’نِکو‘‘ اپنے قد کاٹھ اور آواز کی وجہ سے

ہیرو تو بن نہ پائے، لیکن اس نے فیصلہ کیا کہ فلم کے اس شعبے میں قسمت

آزمائی کی جائے، جو تمام شعبوں پر بھاری ہوتا ہے۔ وہ شعبہ ہدایت کاری کا تھا

اور پھر اقبال نے اس شعبے میں اپنی دل چسپی لینا شروع کردی۔ اس دوران انہوں

نے ایم جے رانا، امین ملک کے علاوہ ہدایت کار خلیل قیصر کی ’’ناگن‘‘ میں بھی

ان کی معاونت کی۔ اس فلم میں وہ رتن کمار کے ڈپلی کیٹ بھی بنے۔’’ ناگن ‘‘کے

بعد وہ ’’کلرک ‘‘میں بھی خلیل قیصر کیاسسٹنٹ تھے۔ہدایت کار اسلم ایرانی کی فلم

’’بہروپیا‘‘ میں وہ ان کے اسسٹنٹ ہوگئے۔ اقبال کاشمیری نگار خانوں میں معاون

ہدیات کار کے طور پر اپنے آپ کو منوا چکے تھے۔ اقبال کاشمیری کو صحیح

معنوں میں تراشنے کا کام مصنف و ہدایت کار عزیز میرٹھی نے کیا۔ انہوں نے

اقبال کو لکھنے پڑھنے میں معاونت کی اسی محبت میں وہ کہانی لکھنے کے اسرار

و رموز سے بھی واقف ہوگئے۔ بہ طور کہانی نویس اقبال کاشمیری نے ’’عشق نہ

پچھے ذات‘‘، ’’ویر پیارا‘‘ اور ’’کونج وچھڑ گئی‘‘ نامی فلموں کی کہانیاں لکھیں۔

ہدایت کار عزیز میرٹھی کے وہ ہونہار شاگرد ثابت ہوئے، ان کی بنائی ہوئی اکثر

فلموں میں وہ معاون ہدایت کار اور چیف اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتے رہے۔

ڈائریکشن سے وابستہ رہنے کے باوجود وہ اداکاری بھی کرتے رہے۔ حْسن و

عشق، ہزار داستان، لالہ رخ، پرستان، عالیہ، ستمگر نامی فلموں میں انہوں نے بہت

خْوب صورت اداکاری کے جوہر پیش کیے۔ ہدایت کار آغا حسین کی کاسٹیوم فلم

’’کوہ نور‘‘ میں وہ چیف اسسٹنٹ کے طور پر شامل تھے۔ اس فلم کے پروڈیوسر

راجا غضنفر علی فلم کی تکمیل کے دوران اقبال کاشمیری کی ذہانت اور کام سے

بہت متاثر ہوئے۔یہ وہ دور تھا، جب اقبال کی والدہ نے ان کی شادی ماضی کے

اداکار حامد حسین کی بیٹی سے طے کردی تھی۔ حامد حسین، معروف ٹیسٹ کرکٹر

محمود حسین کے بھائی تھے۔اقبال کشمیری 1942 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔اقبال

کشمیری ایک سیلف میڈانسان تھے جنہوں نے چھوٹی عمر میں ہی انڈسٹری میں قدم

رکھا اور وہ کئی سال تک نگار خانوں میں ’’چھوٹے‘‘ کی حیثیت سے بھی کام

کرتے رہے۔انہوں نے کئی فلموں میں چائلڈ سٹار کے طور پر کام کیا جب

کہ1957میں ریلیز ہونے والی فلم ’’لاکھوں میں ایک‘‘ بھی انہیں یادگار کردار

کرنے کا موقع ملا۔اداکاری کے ساتھ ساتھ انہیں ڈائریکشن کا شوق بھی تھا جسے

سیکھنے کے لئے انہوں نے اپنے دور کے کئی مشہور ڈائریکٹرز کی شاگردی

اختیار کی۔بطورڈائریکٹر ان کی پہلی فلم ’’ٹیکسی ڈرائیور‘‘ تھی جو1970میں ریلیز

ہوئی اور اسکا ٹائٹل رول یوسف خان نے ادا کیا تھا۔ فلم کی دیگر کاسٹ میں

حبیب،عالیہ،الیاس کشمیری،رانی،ننھا اور سلطان راہی شامل ہیں۔ فلم کے کیمرہ مین

کامران مرزا اور میوزک ڈائریکٹر ماسٹرعبداﷲ تھے۔ان کی پہلی ہی فلم کامیاب

رہی۔ان کی دوسری فلم 1971میں ’’بابل‘‘ کے نام سے ریلیز ہوئی اور اس فلم کا

ٹائٹل بھی یوسف خان نے کیا۔ان کی تیسری فلم’’بنارسی ٹھگ‘‘28اکتوبر1973کو

عیدالفطر کے دن ریلیز ہوئی اور سپرہٹ ثابت ہوئی جس میں الیاس کشمیری اور

منورظریف نے ٹائٹل رول کئے تھے جب کہ کاسٹ میں فردوس،اعجاز،زمرد،ممتاز

اور سلطان راہی شامل ہیں۔ان کی چوتھی فلم’’ضدی‘‘ تھی جو1973میں ریلیز ہوئی

اور اس کا ٹائٹل بھی یوسف خان کے حصے میں آیا،چوہدری اجمل کی پروڈکشن

میں بنائی گئی اس فلم نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کئے جس کے ساتھ ساتھ

اسی سے یوسف خان کو بریک تھرو ملا اور وہ سپرسٹار بن گئے جب کہ اس فلم

کے ذریعے نیرہ نور کو بھی فلم انڈسٹری میں متعارف کرایا گیا۔فلم کا میوزک بھی

بہت زیادہ مقبول ہوا جس کے نغمات سیف الدین سیف،حزیں قادری اور وارث

لدھیانوی نے لکھے،میوزک ماسٹر عبداﷲ نے تیار کیا جب کہ آواز کا جادو

نورجہاں،نیرہ نور اور ارونا لیلیٰ نے جگایا۔فلم کے کیمرہ مین نبی احمد تھے۔ملکہ

ترنم نورجہاں کے گانے ’’ تیرے نال نال وے میں رہنا‘‘ نے بھی فلم کی کامیابی میں

اہم کردار ادا کیا۔ ان کے کیرئر کی پہلی پانچ فلمیں پنجابی میں تھیں جن کی کامیابی

نے ان کے لئے ترقی کے راستے کھول دیئے تھے۔ان کی پہلی اردو فلم’’نیلم‘‘ تھی

جو محمد قوی خان نے پروڈیوس کی تھی۔اس کے علاوہ اگلے سال ریلیز ہونے

والی ان کی دوسری اردو فلم’’سندباد‘‘ بھی پسند کی گئی جس کی کاسٹ میں

سنگیتا،شاہد منور ظریف اوراقبال کشمیری بھی شامل تھے۔اقبال کشمیری نے

کل84فلموں کی ڈائریکشن دی جن میں 38 اردو،34پنجابی اور2پشتو فلمیں شامل

ہیں۔ان کی سپرہٹ فلموں میں بابل،ضدی،بنارسی ٹھگ،شریف بدمعاش،ہم ایک ہیں،

بھابھی دیاں چوڑیاں، مکھڑا،جو ڈرگیاوہ مرگیا اور گھر کب آؤ گے شامل ہیں جبکہ

دیگر اہم فلموں میں شریف ضدی،چوری میراکام،مقدر کاسکندر،ریشماں جوان

ہوگئی،ماں بنی دلہن،سرفروش،پیار ہی پیار،سات خون معاف،جنت،سڑک،لخت

جگر،نخرہ گوری دا،دل سنبھالا نہ جائے،ہم کھلاڑی پیار کے،وارث،سنگم،شکاری

حسینہ،منیلا کے جاسوس،کالا گجر،تیراجادوچل گیا،امن کے دشمن،ٹیکسی

ڈارئیور،سستا خون مہنگاپانی،چوروں کی بارات سمیت بے شمار دیگر فلمیں ہیں۔ان

کے کیرئر کی آخری فلم’’دیوداس‘‘ تھی جو2015 میں ریلیز ہوئی تھی جس میں

اداکارہ میرا اور زارا شیخ نے اہم کردار کئے تھے۔پاکستان شوبز انڈسٹری کے

مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات خرم شیراز ریاض ،شاہد

حمید،معمر رانا،مسعود بٹ،حسن عسکری ،شانسید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء

پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،لائبہ علی،انیس حیدر،ہانی

بلوچ،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن ،ظفر اقبال نیویارکر،عذرا آفتاب،حنا

ملک،انعام خان ،فانی جان،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ

نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ء کاظمی،سٹار میکر جرار رضوی،آغا

حیدر،دردانہ رحمان ،ظفر عباس کھچی ،سٹار میکر جرار رضوی ،ملک

طارق،مجید ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ء اﷲ خان ،مایا سونو خان،عباس

باجوہ،مختار چن،آشا چوہدری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،چنگیز

اعوان،حسن مراد،حاجی عبد الرزاق،حسن ملک،عتیق الرحمن ،اشعر اصغر،آغا

عباس،صائمہ نور،خالد معین بٹ ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل

ملک،کوریوگرافر راجو حسین،صومیہ خان،حمیرا چنا ،اچھی خان،شبنم

چوہدری،محمد سلیم بزمی،سفیان ،انوسنٹ اشفاق،شہبازحسین،فیاض علی

خاں،پروڈیوسر شوکت چنگیزی،ظفر عباس کھچی،ڈی او پی راشد عباس،پرویز

کلیم، نجیبہ بی جی ندا یاسر ،جویریہ عباسی ،ثناء ،فرزانہ تھیم ،صاحبہ ،جویریہ

سعود،روبی انعم،اظہر بٹ،عروج،عینی رباب،حمیرا اورماریہ واسطینے اقبال

کاشمیری کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔شوبز شخصیات کا

کہنا تھا کہ اقبال کشمیری جیسے ڈائریکٹر روز روز نہیں پیدا ہوتے اﷲ تعالیٰ

مرحوم کی مغفرت فرمائے۔

ڈائریکٹر اقبال کاشمیری انتقال

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں