anjum suhail 62

عالمی یوم اردو کے 23 سال

Spread the love

سہیل انجم

اردو زبان ہندوستان کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کی زبان ہے جسے گنگا جمنی تہذیب کی نمائندہ زبان بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کسی خاص قوم یا مذہب کی زبان نہیں ہے۔ ہندوستان کی بیشتر تہذیبوں اور ثقافتوں کا علمی ورثہ اس زبان میں موجود ہے۔ ا س کی پرورش و پرداخت کسی ایک فرقے یا طبقے یا مذہب کے ماننے والوں نے نہیں کی بلکہ اس میں تمام ہندوستانیوں کی شرکت رہی ہے۔ لیکن ایک خاص طبقہ ہمیشہ موجود رہا ہے جو اس کی مخالفت کو اپنے لیے عین ثواب سمجھتا ہے اور اردو اور اہل اردو کو زک پہنچانا باعث فخر تصور کرتا ہے۔ اگر چہ یہ طبقہ چند مٹھی بھر لوگوں پر مشتمل ہے پھر بھی اس کی سازشوں نے سماج میں زہریلے بیج بوئے ہیں اور پیار محبت کو فروغ دینے والی اس زبان کے نام پر دو فرقوں کو لڑا کر ان میں فسادات بھی کروائے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کچھ لوگ یہ پروپیگنڈہ کرنے میں ہمیشہ ملوث رہتے ہیں کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔ حالانکہ آج کے دور میں بھی ایسے غیر مسلموں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو اردو سے پیار کرتے ہیں، جنھیں اس سے عشق ہے اور جو اس کے لیے اپنی جان تک کی بازی لگا دینے کے لیے تیار ہیں۔ بہت سے غیر مسلموں کی روزی روٹی بھی اسی زبان کی وجہ سے چل رہی ہے۔ ایسے لوگ بھلا اس کے دشمن کیوں ہوں گے اور ایسے لوگوں کی موجودگی کے پیش نظر یہ پروپیگنڈہ کیسے قبول کیا جا سکتا ہے کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

لیکن بہر حال یہ زبان اب زوال پذیر ہے اور حکومتی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کی کوششوں کے باوجود اپنے حقوق سے محروم ہے۔ اس کو اس کے حقوق سے ہمکنار کرنے کے سلسلے میں بہت سی تنظیمیں اپنی جانب سے حتی المقدور کوشش کر رہی ہیں۔ انہیں تنظیموں میں ایک تنظیم ”اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن“ بھی ہے جو ایک دوسری تنظیم ”یونائٹڈ مسلم آف انڈیا“ کے اشتراک سے عالمی یوم اردو کا سالانہ اہتمام کرتی آئی ہے۔ عالمی یوم اردو مذکورہ دونوں تنظیموں کے روح رواں اور مجاہد اردو ڈاکٹر سید احمد خاں کے زر خیز ذہن کی پیداوار ہے۔ انھوں نے اب سے 23 سال قبل عالمی یوم اردو کا چراغ جلایا تھا جس کی روشنی میں جشن اردو منایا جاتا ہے۔ یہ پروگرام شاعر مشرق اور ”سارے جہاں سے اچھا“ ترانے کے خالق علامہ اقبال کے یوم پیدائش 9نومبر کو منعقد کیا جاتا ہے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ 9نومبر ہی کو عالمی یوم اردو کیوں منایا جاتا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اس مہم میں شریک ہوں۔ اگر ہم اردو سے محبت کرتے ہیں اور اس کی بقا اور تحفظ اور اس کو اس کا حق دلوانے میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ اس بات کی اہمیت نہیں ہوتی کہ کون سی بات کون شخص کہہ رہا ہے بلکہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ اسی طرح اس بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ یوم اردو کس تاریخ کو منایا جانا چاہیے۔ اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم یوم اردو منائیں۔

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

ملک کے جید اردو صحافی محفوظ الرحمن جب تک حیات تھے وہ اس پروگرام کی سرپرستی فرماتے رہے۔ ان کی رہنمائی میں اس تحریک نے زبردست کامیابی حاصل کی اور اب صورت حال یہ ہے کہ ہندوستان کے مختلف شہروں اور قصبوں میں تو یوم اردو 9 نومبر کو منایا ہی جاتا ہے دنیا کے ان ملکوںمیں بھی منایا جانے لگا ہے جہاں اردو والے موجود ہیں۔ وہ لوگ بھی 9نومبر کو ہی یوم اردو منا رہے ہیں۔ اس دن یہ عہد کیا جاتا ہے کہ ہم اردو کی بقا اور اس کے تحفظ کی لڑائی جاری رکھیں گے اور خود بھی اردو پڑھیں گے اور اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں گے۔ مذکورہ دونوں تنظیموں کے پاس اس تعلق سے دینا بھر سے جو رپورٹیں آتی ہیں اور لوگوں کے خطوط موصول ہوتے ہیں وہ اس بات کے شاہد ہیں کہ یوم اردو کا جو چراغ جلایا گیا تھا اس کا اجالا اب دور دور تک پھیل گیا ہے۔ اردو دشمنی کی تاریکی چھٹ رہی ہے اور پیار محبت کی روشنی پھیل رہی ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہمارے پڑوسی ملک نیپال میں بھی اب یوم اردو منایا جانے لگا ہے۔

شادی کرنی ہے؟ مذہب بدل لو!

ڈاکٹر سید احمد خاں نے اس سلسلے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جب انھوں نے اس مہم کا آغاز کیا تھا تو ان کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اردو سے محبت کرنے والے ان کی اس چھوٹی سی کوشش کی اتنی پذیرائی اور وہ بھی عملی پذیرائی کریں گے۔ کچھ لوگوں نے ان سے سوال کیا تھا کہ آپ کی یہ مہم کیا کوئی رنگ لا سکتی ہے اور یہ کہ جب کوئی کچھ نہیں کر رہا ہے اور اردو کے تعلق سے اردو والوں پر بھی جمود طاری ہے تو آپ کیوں خواہ مخواہ اپنا سر کھپا رہے ہیں؟ اس پر انھوں نے جواب دیا تھا کہ میں نے ایک ننھا سا چراغ جلایا ہے اگر اس چراغ کی لو سے دوسرے لوگ بھی اپنا چراغ جلاتے ہیں تو مجھے بے حد خوشی ہو گی۔ اور اگر نہیں جلاتے ہیں تو کوئی بات نہیں۔ ان کا جو کام ہے وہ اہل سیاست جانیں، میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔ میں محبت کے اس پیغام کو عام کرنے کی جد و جہد جاری رکھوں گا۔ اگر مخالفین زمانہ کی تند و تیز آندھیاں اس چراغ کو بجھانا چاہیں گی تو بجھائیں، لیکن میں اس کے بعد ہی دوسرا چراغ جلانا نہیں بھولوں گا۔ ان کے بقول میں نے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ خواہ کچھ ہو جائے میں یوم اردو منانے کا سلسلہ بند نہیں کروں گا۔ کوئی ساتھ آئے یا نہ آئے ۔ اگر کوئی ساتھ آتا ہے تو مجھے خوشی ہوگی اور اسے بھی اس قافلے میں شامل کر لیا جائے اور اگر کوئی نہیں بھی آتا ہے جب بھی یہ قافلہ رواں دواں رہے گا۔ چاہے اس میں صرف میں ہی اکیلا کیوں نہ رہوں۔ ڈاکٹر سید احمد خاں کے مطابق محفوظ الرحمن صاحب نے میری بہت حوصلہ افزائی کی اور میں نے یہ سلسلہ نامساعد حالات میں بھی جاری رکھا۔ کیونکہ میرے نزدیک اردو کی بقا کا سوال تھا، اس کے تحفظ کا سوال تھا اور اس کو اس کا حق دلانے کا سوال تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میری کوششوں سے کوئی فائدہ پہنچا یا نہیں؟ لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ میرے ایک چراغ کے جلو میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں چراغ جل اٹھے ہیں اور میرا ضمیر مطمئن ہے کہ میں نے جو کوشش شروع کی تھی وہ رائیگاں نہیں گئی۔ اسے لوگوں نے شرف قبولیت سے نوازا ہے۔

اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور یونائٹڈ مسلم آف انڈیا کے زیر اہتمام منائے جانے والے اس جشن اردو کے موقع پر خادمین اردو کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈوں سے نوازا جاتا ہے۔ شاعری، صحافت، قومی یک جہتی، اردو کتابوں کی طباعت اور دیگر شعبوں میں خدمات انجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس موقع پر ایک یادگاری مجلہ بھی شائع کیا جاتا ہے۔ جب تک محفوظ الرحمن صاحب زندہ تھے ان کی سرپرستی اور رہنمائی میں اسے تیار کیا جاتا تھا۔ مجلے کی اشاعت کا کام اب بھی جاری ہے۔ اور امید ہے کہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ مجلے کو یا تو کسی شخصیت کے نام معنون کیا جاتا ہے یا پھر کسی خاص موضوع پر ایک خصوصی اشاعت کی شکل میں اسے چھاپا جاتا ہے۔ اب تک جن شخصیات پر مجلہ شائع کیا جا چکا ہے ان میں آزاد ہندوستان کے عظیم صحافی مولانا محمد عثمان فارقلیط، محفوظ الرحمن، مولانا عبد الماجد دریابادی، مولانا ابواللیث ندوی، مولانا حفظ الرحمن، مولانا محمد مسلم، مولانا ثناءاللہ امرتسری اور مولانا حامد الانصاری انجم قابل ذکر ہیں۔ جبکہ امسال یعنی 2020 میں مولوی اسمعیل میرٹھی کی حیات و خدمات پر خصوصی اور یادگاری مجلہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر اردو تعلیم کے انتظام اور عالمی اردو صحافت پر بھی مجلہ شائع کیا جا چکا ہے۔ کئی یادگاری مجلے شاعر مشرق حکیم الامت علامہ اقبال کے نام بھی شائع کیے جا چکے ہیں جن میں اقبال کی شاعری، ان کے فلسفہ، ان کے نظریات اور ان کے وژن پر مضامین شامل کیے گئے ہیں۔

اردو کے تحفظ او راس کے حقوق کی لڑائی ان تمام لوگوں کو لڑنی چاہیے جو اردو سے محبت کرتے ہیں یا پھر جن کی روزی روٹی کا سلسلہ اردو کے توسط سے قائم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے اس مہم میں شریک ہوں۔ ان تمام لوگوں سے گزارش ہے جو اردو سے محبت کرتے ہیں، کہ خدا را اس کا عملی ثبوت بھی دیجیے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اردو سے محبت کا آپ کا دعوی خلوص پر مبنی نہیں ہے۔ ہمیں کسی کی نیت پر شک کرنے کا کوئی حق نہیں۔ کیونکہ نیتوں کا حال صرف اللہ جانتا ہے۔ بس اتنی سی گزارش ہے کہ آپ بھی اس قافلے میں شریک ہو جائیں۔ اردو اخبارات و رسالے خرید کر پڑھیں اور جہاں جہاں بھی اردو کے حقوق کی لڑائی لڑی جا رہی ہو اس میں شامل ہو جائیں۔ اگر ہم اپنے گھر سے اس لڑائی کو شروع کریں تو ہمیں امید ہے کہ یہ شروعات ایک بین الاقوامی مہم میں بدل جائے گی۔ کیا یوم اردو کے موقع پر ہم یہ عہد کرنے کے لیے تیار ہیں کہ ہم خود بھی اردو پڑھیں گے اور اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں گے اور زیادہ نہیں اردو کا کم از کم ایک اخبار روزانہ ضرور خریدیں گے۔

یوم اردو 23 سال یوم اردو 23 سال یوم اردو 23 سال یوم اردو 23 سال

اپنا تبصرہ بھیجیں