33

بنگلہ دیش میں مسلمان خواجہ سراوں کیلئے خصوصی مدرسہ کھل گیا

Spread the love


خواجہ سراوں خصوصی مدرسہ
بنگلہ دیش میں گزشتہ روز مسلمان خواجہ سراوں کے لیے پہلے مدرسے کا افتتاح کردیا گیا جبکہ مدرسے

کے قیام کو معاشرے میں امتیازی اقلیت کو ضم کرنے کی طرف پہلا قدم قرار دیا گیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا

رپورٹس کے مطابق مسلمان خواجہ سراوں کے اس خصوصی مدرسے کو بنگلادیش کے دارلحکومت ڈھاکا

کے مضافات میں عبدالرحمن آزاد کی سربراہی میں علما کے ایک گروپ نے مقامی چیریٹی کی مدد سے

قائم کیا ہے جبکہ اس مدرسے کا نام دعوت الاسلام ٹریٹیولِنگر یا اسلامک تھرڈ جینڈر اسکول رکھا گیا

ہے۔جب اس مدرسے کا افتتاح کیا گیا تو 50 سے زائد خواجہ سراوں نے قرآن پاک کی تلاوت کی جبکہ اس

موقع پر مدرسے کی 33 سالہ خواجہ سرا طالبعلم شکیلہ اختر کا کہنا تھا کہ وہ اس خوبصورت اقدام کے

لیے ناصرف بیحد پرجوش ہیں بلکہ تمام علمائے کرام کی مشکور بھی ہیں۔شکیلہ اختر نے میڈیا سے گفتگو

کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا بچپن سے ہی خواب تھا کہ وہ ڈاکٹر یا وکیل بنیں لیکن چونکہ وہ بچپن میں ہی گھر

سے بھاگ کر خواجہ سرا طبقے میں شامل ہوگئی تھیں تو ان کا یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔خواجہ سرا نے مزید

کہا کہ ہم بھی مسلمان ہیں اس کے باوجود بھی ہم کسی مسجد میں نہیں جاسکتے ہیں، ہم معاشرے کے

دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی نہیں مل سکتے لیکن اب علما کے اس اقدام کے بعد ہمیں ہمت ملی ہے اور ہم

بہت خوش ہیں کہ ہم بھی مدرسے جاکر اسلامی تعلیمات حاصل کرسکیں گے۔خواجہ سراوں کے لیے کھولے

گئے خصوصی مدرسے کے افتتاح کے موقع پر علما کا کہنا تھا کہ خواجہ سراوں کے لیے کھولے گئے

اسکول میں 150 کے قریب بالغ خواجہ سرا قرآنی علوم کے ساتھ ساتھ میں اسلامی فلسفہ، بنگالی، انگلش،

حساب اور سوشل سائنسز جیسی ضروری تعلیمات بھی حاصل کرسکیں گے۔

خواجہ سراوں خصوصی مدرسہ

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں