رشید جونیئر ہاکی لیجنڈ 57

سابق کپتان اور ہاکی لیجنڈ رشید جونیئر انتقال کر گئے

Spread the love

لاہور(صرف اردو آن لائن نیوز) (سابق کپتان رشید جونیئر)سابق ہاکی کپتان رشید جونئیر اب سے کچھ دیر پہلے 79 برس کی عمر میں راولپنڈی میں انتقال کر گئے، بتایا گیا ہے کہ رشید جونئیر عرصہ دراز سے گردوں کے مرض میں مبتلا تھے۔ عبدالرشید جونیئرواحد پاکستانی کھلاڑی ہیں جنہوں نے اولمپک گیمز میں اپنے ملک کے لیے سونے چاندی اور کانسی کے تمغات حاصل کر رکھے تھے۔

ریکارڈ کے مطابق رشید جونئیر ہاکی ورلڈ کپ جیتنے والی قومی ٹیم کےمنیجر بھی رہے۔رشید جونئیر کئی ہفتوں سے اسلام آباد کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے ان کی بیماری کے دوران نہ تو کوئی ان سے ملنے گیا اور نہ ہی حکومتی سطح پر کی کوئی امداد کی گئی۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سلیم شیروانی اور رشید جونئیر کے خاندانی ذرائع سے معلوم ہوا کہ ان کی تدفین آبائی علاقہ بنوں میں کی جائے گی جہا اس وقت تدفین کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

1968 اور 1972 میں اولمپیئن عبدالرشید جونیئرسب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ثابت ہوئے۔ انہوں نے ریٹائرمنٹ کے وقت تک پاکستان کے لیے سب سے زیادہ 96 گول کیے تھے۔رشید جونیئر کا شمار بین الاقوامی ہاکی کے صفِ اول کے سینٹر فارورڈز میں ہوتا تھا۔

ستر کی دہائی میں وہ حریف ٹیموں کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھے۔ اگرچہ ہاکی کے کھیل نے حسن سردار جیسا انتہائی باصلاحیت سینٹر فارورڈ بھی میدان میں اتارا لیکن رشید جونیئر جیسا کوئی کھلاڑی آج تک پیدا نہیںہوا ۔

بتایا جاتا ہے کہ ان کو گیند پر اس قدر دسترس حاصل تھی کہ جیسے ہی گیند ان کے پاس آتا وہ اسے لے اڑتے اور پھر گول کر ہی لوٹتے ان کیاسی خوبی کی وجہ سے وہ ’شارپ شوٹر‘ اور ’کنگ آف دی ڈی‘ کے نام سے مشہور تھے۔

انھوں نے اپنے کریئر کی ابتدا جنوری 1968 میں لاہور فیسٹیول میں سری لنکا کے خلاف میچ میں رائٹ ان کی حیثیت سے کی تھی۔ لیکن بریگیڈئر عاطف نے منیجر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد رشید جونیئر کے کھیل کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ انھیں سینٹر فارورڈ کی پوزیشن پر کھلانا بہتر ہو گا۔ جب وہ انٹرنیشنل ہاکی میں آئے تھے تو ان سے قبل ایک اور عبدالرشید پاکستانی ٹیم میں موجود تھے لہٰذا انھیں رشید جونیئر پکارا جانے لگا۔

رشید جونیئر کے کیریئر کا نقطہ عروج سنہ 1968 میں میکسیکو میں ہونے والے اولمپکس تھے جن میں پاکستان نے گولڈ میڈل جیتا۔ اس جیت میں رشید جونیئر کا کردار بہت اہم رہا تھا۔ سات گول کے ساتھ وہ ان مقابلوں کے مشترکہ ٹاپ سکورر رہے تھے۔

1970 میں جب پاکستان نے بنکاک میں ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتا تو رشید جونیئر کا کھیل عروج پر تھا خاص کر انڈیا کے خلاف فائنل میں انھی کے گول کی بدولت پاکستان نے کامیابی حاصل کی تھی۔

اس ٹورنامنٹ میں انھوں نے مجموعی طور پر آٹھ گول کیے تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان مقابلوں میں پاکستانی ٹیم کے منیجر رشید جونیئر کے بڑے بھائی بریگیڈئیر حمیدی بھی شامل تھے۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اسی سال حکومت پاکستان نے انھیں پرائیڈ آف پرفارمنس کے ایوارڈ سے نوازا تھا۔
رشید جونیئر 1971 میں پہلا ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم میں بھی شامل تھے۔ اس ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں انڈیا کے خلاف ان کے گول کی بدولت پاکستان نے مقابلہ برابر کیا تھا جس کے بعد منورالزماں نے فیصلہ کن گول کر کے پاکستان کو فائنل میں پہنچایا تھا۔

1972 کے میونخ اولمپکس میں رشید جونیئر نے پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ پانچ گول کیے لیکن جرمنی کے خلاف فائنل میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی وجہ سے وہ بھی اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ پابندی کی زد میں آ گئے تھے جس کی وجہ سے وہ سنہ 1973 کے عالمی کپ میں پاکستان کی نمائندگی سے محروم رہے تھے۔

امریکی صدور سے متعلق دلچسپ حقائق

1974 میں تہران میں ہونے والے ایشین گیمز میں ان کی قیادت میں پاکستان نے فائنل میں انڈیا کو ہرا کر اپنے ایشیائی اعزاز کا کامیابی سے دفاع کیا۔ اس ٹورنامنٹ میں وہ مجموعی طور پر 13 گول کر کے چھائے رہے۔

رشید جونیئر کو ہاکی کا شوق اپنے بڑے بھائی عبدالحمید کو دیکھ کر ہوا جو بریگیڈیئر حمیدی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں اور جن کی قیادت میں پاکستان نے پہلی بار 1960 میں اولمپک گولڈ میڈل جیتا تھا۔

اپنے بڑے بھائی کی طرح رشید جونیئر کو بھی اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم کی قیادت کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ وہ 1976 میں مانٹریال اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی ٹیم کے کپتان تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رشید جونیئر دنیا کے ان تین کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنھوں نے اولمپکس میں طلائی، چاندی اور کانسی کے تمغے جیتے ہیں۔ ان کے علاوہ یہ اعزاز انڈیا کے پرتھوی پال سنگھ اور وکٹر جان پیٹر کو حاصل ہے۔

رشید جونیئر کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے کھلاڑی اور منیجر دونوں حیثیت میں ورلڈ کپ جیتا ہے۔ وہ 1994 میں عالمی کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے منیجر تھے۔ اسی سال ان کی منیجر شپ میں پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی بھی جیتی تھی۔

سابق کپتان رشید جونیئر سابق کپتان رشید جونیئر سابق کپتان رشید جونیئر

اپنا تبصرہ بھیجیں