سانحہ ہاتھرس: مودی سرکار 67

بہار کا انتخاب معمولی ہے یا غیر معمولی؟

Spread the love

ڈاکٹر سیّد احمد قادری

+918969648799

ریاست بہار کے17 ویںاسمبلی کے 243 سیٹوں کے لئے انتخاب کے پہلے مرحلہ کی ووٹنگ گزشتہ 28 اکتوبر کو 71سیٹوں کیلئے ہو چکی ہے۔ جس میں تقریباََ 55فی صد رائے دہندگان نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا ہے۔ بقیہ سیٹوں کے لئے دوسرے مرحلہ میں 3 نومبر کو 94 سیٹوں پر اور آخری مرحلہ میں 7 نومبر کو 78 سیٹوں پر انتخاب ہونا ہے۔(تیجسوی یادو بہار انتخابات)

پہلے مرحلہ کے انتخاب کے بعد دونوں بڑی سیاسی جماعت این ڈی اے( جے ڈی یو، بی جے پی) اور عظیم اتحاد(آر جے ڈی،کانگریس، بایاں بازو) کا دعویٰ ہے کہ وہ پہلے مرحلے کے انتخاب میں 55 سے زیادہ سیٹوںپر کامیاب ہو رہے ہیں۔ لیکن اس دعوے کا تجزیہ کیا جائے تو جس طرح مختلف انتخابی حلقوں میں عظیم اتحاد کی ریلیوں میں بھیڑ اور نوجوانوں، مزدوروں اور کسانوں کا لالو یادو کے چھوٹے بیٹے تیجسوی یادو کے لئے جو جوش و خروش اور جنون دیکھا گیا اور دیکھا جا رہا ہے۔

اس کے برعکس این ڈی اے کے بی جے پی اور جے ڈی یو امیدواروں کی مخالفت اورجو غصہ دیکھنے کو مل رہا ہے، خود نیتش کمار کے انتخابی جلسہ میں جس طرح سے احتجاج اور مظاہرے دیکھے گئے اور عوامی احتجاج پر نیتش کمار کو جس طرح اپنے صبر و تحمل کو کھوتے ہوئے دیکھا گیا ،وہ یقینی طور پر ان کی بد حواسی کو ظاہر کرتا ہے۔ حاجی پور کے ایک انتخابی جلسہ میں مرکزی وزیر مملکت داخلہ نتیہ نند رائے نے جب اپنے خلاف زبردست عوامی غصہ اور مخالفت دیکھی تو ان کی تو گھگھی ہی بندھ گئی اور مائک پر ہی اپنی رکچھا اور لاج بچانے کی گوہار لگانے لگے۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

ایسے مناظر اس بات کا مظہر ہیں کہ بہار کے اس اسمبلی انتخاب کا منظر نامہ کیا ہے۔ پھر بھی این ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ اس بار بھی ان کی حکومت بن رہی ہے۔ یہ دعویٰ سوالیہ نشان ضرور لگاتا ہے کہ جب عوام پوری طرح این ڈی اے کی مخالفت پر اتری ہوئی ہے پھر یہ اپنی کامیابی کا دعویٰ کن بنیاد پر کر رہے ہیں۔ ادھر گودی میڈیا نے بھی بہار کے اس انتخاب کے اکزٹ پول میںاس بات کو الاپنا شروع کر دیا ہے کہ بہار میں این ڈی اے کی ہی حکومت بنے گی۔

این ڈی اے اور گودی میڈیا کے ایسے دعوے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں میں ملک کے عوام نے الٹی گنگا بہتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس لئے ہر الیکشن پر گہری نظر رکھنے والے یہ خدشہ جتا رہے ہیں کہ اس بار بھی ای وی ایم اپنا کمال دکھا سکتا ہے۔ خدشہ کا اظہار کرنے والے بتا رہے ہیں کہ بہار کے اس انتخاب میں بھی ہر ایسی انتخابی سیٹ پر جہاں این ڈی اے کی شکست یقینی ہے ،وہاں کے مخصوص بوتھوں کے اے وی ایم میں 35 فی صد پری پروگرامنگ کر دیا گیا ہے۔

سانحہ ہاتھرس: مودی سرکار کا مکروہ ترین چہرہ دکھا رہا ہے

یعنی ہر ایسے بوتھ کے ای وی ایم سے پینتیس فی صد ووٹ این ڈی اے کے کھاتے میں رہیں گے جو نتیجہ کے دن یعنی 10 نومبر کو سامنے آئینگے۔ ایسا ہوگا یا نہیں، ظاہر ہے میں حتمی طور پر نہیں کہہ سکتا۔ لیکن بعض بوتھوں کی خبریں چونکاتی ضرور ہیں۔ مثلاً 28 اکتوبر کو ہوئے مونگیر کے ایک مہا دیو پور کے بوتھ نمبر 231 پر کے ای وی ایم میں آر جے ڈی کا انتخابی نشان کا بٹن ہی غائب ملا تھا اور کمال یہ ہوا کہ تین گھنٹے تک اسی ای وی ایم پر ووٹنگ ہوتی رہی۔ اس ایک خبر کے بعد سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے اس بیان کو سامنے رکھا جائے کہ ملک کے تمام جمہوری ستون حملہ کی زد میں ہیں۔ گزشتہ کئی انتخابات میں الیکشن کمیشن پر سوال اٹھتے رہے ہیں جن پر الیکشن کو ہمیشہ صفائی دینا پڑی ہے۔ ملک کے طول و عرض سے ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر سے انتخاب کا بھی مسلسل مطالبہ ہو رہا ہے۔

بہر حال اس بار کا بہار اسمبلی کا یہ عام انتخاب کئی معنوں میںاہمیت کا حامل ہے اور اس انتخاب پر نہ صرف پورے ملک کی بلکہ بیرون ممالک کی بھی گہری نظر ہے کہ اس بار بہار کے عوام کا سیکولرزم اور فرقہ پرستی کے ضمن میں کیا فیصلہ سامنے آتا ہے۔ بہار کے اس انتخاب کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ شمالی ہندوستان کی ان دو اہم ریاست بہار اور اتر پردیش ملک کے اندر کی سیاست کا رخ طے کرتی ہے۔ بہار کے اس انتخاب کے بعد اگلے ہی سال بہار کی پڑوسی ریاست بنگال اور پھر فروی 22 ء میں ہی اتر پردیش میں عام انتخاب ہونا ہے۔ اس لئے بہار کا یہ انتخاب معمولی نہیں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کو اس بات کا بہت قلق ہے کہ اس اہم ریاست بہار میں لاکھ کوششوں کے باوجودوہ اب تک یہاں اقتدار سے محروم ہے۔

سر سیّد احمد خاں کا یوم پیدائش اور مسلم یونیورسٹی کے سؤ سال

نیتش کمار نے ضرور بی جے پی کی بہت کم سیٹوںکے باوجود اپنے سیاسی مفاد کے لئے بہار کے اقتدار میں حصہ دار بنایا۔ لیکن اب بی جے پی حصہ دار بننے کی بجائے خود ہی پوری طرح برسر اقتدار ہونا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار بڑے ہی منظم اور منصوبہ بند طریقے سے بی جے پی اپنے حلیف اور محسن نیتش کمار کو حاشیہ پر ڈالنے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔

نیتش کمار اس وقت بلا شبہ مشکل حالات سے گزر رہے ہیں کہ ان سے لالو یادو کی پارٹی آر جے ڈی، رام بلاس پاسبان (چراغ پاسبان) کی پارٹی ایل جے پی اور بھارتیہ جنتا پارٹی سب کے سب نیتش کمار کو کنارے لگا نا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے بی جے پی اپنے پرانے حلیف رام بلاس پاسبان کے بیٹے چراغ پاسبان کے ساتھ مل کر کو درپردہ بڑے ہی شاطرانہ انداز میںسیاسی کھیل ۔ کھیل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن اسمبلی حلقوں سے نئے امیدوادر کو بی جے پی نے اتارا ہے ،وہاں سے پرانے اور کامیاب امیدواروں کی بظاہر باغیانہ عمل نام دے کر انھیں چراغ پاسبان کے پاس کامیابی کا چراغ روشن کرنے بھیج دیا ہے کہ یہ سب کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کی شمولیت سے بڑی آسانی سے نیتش کمار کوحاشیہ پر ڈال کر چراغ پاسبان کے ساتھ مل کر اپنی حکومت بنا لینگے۔

اس چال کو نیتش کمار بھی بخوبی سمجھ رہے ہیں لیکن اب مشکل یہ ہے کہ دشمن سیاسی بساط پر پہلی چال چکا ہے اور نیتش کمار کسی نئی چال کے لئے مہرہ تلاش رہے ہیں۔ ادھر دوسری مشکل یہ آ گئی ہے کہ لالو یادو کی عدم موجودگی میں ان کے چھوٹے بیٹے تیجسوی یادو نے بہار کے نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری جیسے اہم مسئلہ پر اس طرح انگلی رکھ دی ہے اور یہ وعدہ بھی کر دیا ہے کہ ان کی حکومت بنتی ہے تو بحیثیت وزیر اعلیٰ ریاست کے دس لاکھ نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں دینے کا فیصلہ کرینگے۔ یہ نوکریاں اور تنخواہ کی ادائیگی کی بھی تفصیل بیان کر حزب مخالف کی بولتی ہی بند کر دے رہے ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ تیجسوی عام عوام کو بھی ساتھ لے کر چلنے کے لئے بڑا ہی اچوک نعرہ دیا ہے، پڑھائی، دوائی، کمائی اور سینچائی کو اپنی ترجیہات بتایا ہے۔ تیجسوی یادوکے ان تُرپ کے پتوں جیسے اعلان اور نعروں نے تمام مخالفین کے سارے وعدوں اور دعووں کی ہوا ہی نکال دی۔ بی جے پی کی مرکزی حکومت نے بہار کے نوجوانوں کو اس کے جواب میں انیس لاکھ روزگار دینے کا نیا وعدہ لے کر آ گئی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ اسمبلی انتخاب کے وقت بھی نریندر مودی نے اتنے سارے دعوے اور بہار کے لئے اسپیشپ پیکج وغیرہ کے وعدے کئے تھے۔ لیکن ڈبل انجن سرکار کے باوجود کوئی وعدہ وفا نہیں ہوا۔ اس لئے بہار کے نوجوان مودی کے پھر نئے وعدوںکے جھانسے میں آنے کو تیار نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ لاک ڈاؤن کے وقت بہار کے مزدوروں کے ساتھ مرکزی و ریاستی حکومت کا جو غیر انسانی اور ظالمانہ سلوک ان کے ساتھ کیا گیا تھا ،وہ زخم ان کے ابھی سوکھے نہیں ہیںبلکہ رِس ہی رہے ہیں۔ یہ سب ملا کر تیجسوی یادو کے پورے بہار کے اسمبلی حلقوں میں جس طرح بھاری بھیڑ اور بے روزگاروں، مزدوروں، کسانوں کا جو جوش و جنون دیکھا جا رہا ہے، اس منظر نامہ نے مخالفین کے ہوش اڑا دیئے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اس بار بہار کے انتخاب کا فیصلہ ریاست کے نوجوانوں کو ہی کرنا ہے کہ گزشتہ پندرہ برسوں سے ریاست کے نوجوانوں کو سنہری خواب دکھائے جا رہے تھے اور وعدوں کی تھپکیاں دے کر سلانے کا کام کیا رہا تھا۔

اسی لئے جب ادھر تیجسوی یادو کے علاوہ دیگر دو نوجوان راہل گاندھی اور کنھیا کمار اپنی ولولہ انگیز تقاریر او ر بی جے پی کی نریندر مودی حکومت کی ناکامیوں اور عوام مخالف فیصلوں پر سے پئے در پئے نقاب کشائی کرتے ہوئے عوام کے سامنے بہت ہی واضح تصویر پیش کررہے ہیں تو نوجوانوں کے اندر نیا جوش اور امنگ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جس کے کامیاب اور مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔

ریاست میں دن بہ دن بڑھتی ہوتی بے روزگاری ہی کے باعث یہاں کا مزدور اور بے کار نوجوان دوسری ریاستوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوتا ہے، جس کا خمیازہ انھیں اس بار لاک ڈاؤں میں بڑی بری طرح بھگتنا پڑا۔ ریاست کے مسلمان بھی نیتش کمار سے کافی خفا اس لئے نظر آ رہے ہیں کہ نیتش کمار کی پارٹی جے ڈی یو نے پارلیمنٹ میں تین طلاق، سی اے بی، آرٹکل 370 وغیرہ کی حمایت کرتے وقت ذرا بھی مسلمانوں کے احساسات و جذبات کا خیال نہیں رکھا۔

ساتھ ہی ساتھ اردو زبان کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہونے کے باوجود اسکولوں کے لازمی نصاب سے نکال کر اختیاری کر تے ہوئے اردو زبان کو جڑ سے ہی ختم کئے جانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس کے خلاف اردو عوام کی جانب سے زبرداست احتجاج اور غم و غصہ کا بھی لحاظ نہیں کیا گیا۔

بہار اردو اکاڈمی اور اردو مشاوری کمیٹی کو کئی برسوں سے معطل کر دیا گیا۔ یہ سب بھی اردو عوام کی ناراضگی کا سبب بنا۔ دراصل جب بھی کوئی برسر اقتدار ہوتا ہے، وہ اقتدار کے نشہ میں اتنا چور ہوتا ہے کہ وہ بہت سارے اہم مسئلوں کی گہرایوں کو خاطر میں نہیں لاتا ہے، لیکن جب مصیبت آن پڑتی ہے تب ہوش آتا ہے، اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

اس وقت عالم یہ ہے کہ آر جے ڈی (154)، کانگریس(70)، اور بایان محاذ(19) مل کر عظیم اتحاد کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی شاندار کامیابی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ مخالف خیموں کی بوکھلاہٹ کا عالم یہ ہے کہ تیجسوی یادو جیسے نو عمر اور سیاسی اعتبار سے نو مشق کی عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے نریندر مودی بھی اسی بوکھلاہٹ اور جھنجھلاہٹ میں تیجسوی یادو کو جنگل راج کے یووراج تک کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔

اگر خود دودھ کے دھلے ہوتے اور ایسی طنزیہ بات کہتے تو شائد زیب بھی دیتا۔ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ اپنی کوئی برائی نظر ہی نہیں آتی۔ تین نوجوان تیجسوی یادو، راہل گاندھی اور کنھیا کمار کی تکڑی کی بڑھتی کامیابی نے نریندر مودی، جن کا کرشماتی اثرات بھی اب بہت تیزی سے ڈھلان پر ہے کو بھی بہت پریشانی میں ڈال دیا ہے، ان کے سنکٹ موچن بھی بیمار چل رہے ہیں، کورونا نے بیک وقت بی جے پی کے کئی بڑے لیڈروں مثلاً سید شاہنواز حسین، روڑھی، سشیل مودی، اسمرتی رائے وغیرہ کو اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے۔ اسی پریشانی میں وہ اب رام مندر اور پلوامہ کو بھی ایک بار بھنانے میں لگ گئے ہیں۔ کھوکھلے اور جھوٹے وعدوں میں صرف بہار کے کورونا مریضوں کو مفت ویکسن دینے کا مضحکہ خیز وعدہ پورے ملک میں مذاق کا الگ موضوع بنا ہوا ہے۔ یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ اقتدار کے لئے آدمی کو کس قدر نچلی سطح پر اترنا پڑتا ہے۔

ان تمام باتوں کے پیش نظر حالات تو یہی بتا رہے ہیں کہ بہار میں تبدیلی یقینی ہے اور تبدیلی ہوتی ہے تو اس کے اثرات ملک کے طول و عرض میں پڑنا لازمی ہے.

تیجسوی یادو بہار انتخابات تیجسوی یادو بہار انتخابات تیجسوی یادو بہار انتخابات تیجسوی یادو بہار انتخابات تیجسوی یادو بہار انتخابات

اپنا تبصرہ بھیجیں