45

کابل یونیورسٹی پرحملہ ،20افراد جاں بحق

Spread the love

کابل (صرف اردو آن لائن نیوز) کابل یونیورسٹی پرحملہ

پیر کے کابل یونیورسٹی پردہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں 20 ا فرادجاں

بحق اور 40 کے قریب زخمی ہوگئے۔افغان میڈیا کے مطابق کابل یونیورسٹی میں

پیر کی صبح فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد یونیورسٹی

کمپاؤنڈ میں موجود طلبہ کی بڑی تعداد نے اس علاقے کو خالی کردیا۔افغان میڈیا کا

کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے اس وقت حملہ کیا جب یونیورسٹی میں افغان اور

ایرانی حکام ایک کتب میلے کا افتتاح کررہے تھے۔۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ

حملہ آوروں کا نشانہ طلبہ تھے اور وہ جان بچاکر بھاگنے والے طلبہ کو نشانہ بنا

رہے تھے۔افغان حکام کے مطابق واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری

نفری طلب کرلی گئی جو یونیورسٹی کے اندر داخل ہو گئی سیمکیورٹی فورسز اور

دہشت گروں کے درمیان 5 گھنٹے سے زیادہ دیر تک مقابلہ جاری رہا۔دوسری

جانب غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق طالبان نے اس واقعے میں

ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔پاکستان نے افغانستان میں کابل یونیورسٹی پر دہشت

گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ پرامن اور مستحکم افغانستان کی

حمایت جاری رکھیں گے۔ اپنے بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ پاکستان

کابل یونیورسٹی میں حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حملے میں

قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے۔ انہوں نے کہاکہ لواحقین سے دلی ہمدردی

ہے،دکھ کی گھڑی میں افغان عوام کے ساتھ ہیں۔ ترجمان نے کہاکہ پاکستان ہر

طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے ،پرامن اور مستحکم افغانستان کی حمایت

جاری رکھیں گے۔ دوسری طرف افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ افغانستان

میں امن کے لئے دوسرے صوبوں کی طرح طالبان کو قندھار سے بھی باہر نکالنا

ہو گا، سیکیورٹی فورسز طالبان کو راہ راست پر لانے کیلئے اپنی تیاری مکمل

رکھیں، اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل یاسین ضیا نے کہا کہ افغان دفاعی

اور سیکیورٹی فورسز قندھار کے ضلع ارغنداب کے مختلف علاقوں میں پیشرفت

کر رہی ہیں اور دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچا ہے،نائب وزیر داخلہ نے کہا کہ

شاہراہوں کو محفوظ بنانا اولین ترجیح ہے،غیر ملکی افواج کی مدد سے افغان

فورسز قندھار میں طالبان کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔ بین الاقوامی

خبر رساں ادارے کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے 207ویں ظفر کور کے

عہدیداروں اور گورنرز کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس میں ہرات ، فرح ، بادغیس

اور غور صوبوں میں سلامتی کا جائزہ لیا۔207ویں ظفر کور کے کمانڈر کے

جاری کردہ بیان کو جاری کرتے ہوئے صدارتی محل نے طالبان کے حملوں کو

پسپا کرنے کے لئے ان کے مجموعی سکیورٹی اندازوں اور مشترکہ کارروائیوں

کے بارے میں بریفنگ لی۔ انھوں نے کہا کہ جب کہ دشمن شاہراہوں کو غیر

مستحکم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے ، دفاعی اور سیکیورٹی فورسز جواب دینے

کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔انہوں نے کمانڈر ان چیف کو قومی منصوبوں جیسے

خدائے ہرات ریلوے بجلی کی توسیع کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ سٹیزن چارٹر

پروگرام کی بھی یقین دہانی کرائی۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل یاسین ضیا افغان

دفاعی اور سیکیورٹی فورسز قندھار کے ضلع ارغنداب کے مختلف علاقوں میں

پیشرفت کر رہی ہیں اور دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچا ہے۔افغان صوبے قندز

میں طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے داغے گئے مارٹر گولے کے دفتر ِ

گورنر کے باغیچے میں آن گرنے سے4افرادجاں بحق جبکہ دیگر8زخمی ہو گئے

،ترجمان عصمت اﷲ مرادگورنر کا کہنا ہے کہ طالبان شر پسندوں نے گورنر کے

دفتر کو نشانہ بنایا ۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق افغان صوبے قندز میں طالبان

عسکریت پسندوں کی جانب سے داغے گئے مارٹر گولے کے دفتر ِ گورنر کے

باغیچے میں آن گرنے سے4افراد لقمہ اجل بن گئے ۔دفتر ِ گورنر کے ترجمان

عصمت اﷲ مراد کا کہنا ہے کہ طالبان شر پسندوں نے گورنر کے دفتر کو نشانہ

بنایا ۔اس حملے میں گورنر کے 4حفاظتی اہلکار جاں بحق اور 8 افراد زخمی ہو

گئے۔

کابل یونیورسٹی پرحملہ

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں