41

امریکی صدارتی انتخابات،فاتح ٹرمپ یا جوبائیڈن؟فیصلہ آج

Spread the love

واشنگٹن (صرف اردو آن لائن نیوز) ٹرمپ یا جوبائیڈن

آج 3نومبر2020ء بروز منگل امریکہ کے صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں جس میں

کورونا وائرس کی فضاء میں کیفویسنگ کے طویل مرحلے سے گزر کر بالآخر

ریپبلکن کے صدارتی امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیمو کریٹک امیدوارسابق نائب

صدر جوبائیڈن کے بارے میں حتمی فیصلہ ہو جائیگا۔ عوامی جائزوں اور مبصرین

کے مطابق جوبائیڈن بدستور فیورٹ چلے آرہے ہیں لیکن صدر ٹرمپ کی مہم کو

یقین ہے کہ اگر ووٹرز زیادہ تعداد میں باہر نکلے اور ٹرن آؤٹ زیادہ ہوا تو وہ

مخالف جوبائیڈن کو اپ سیٹ دے سکتے ہیں۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات براہ

راست نہیں ہوتے بلکہ عام ووٹر اپنی ریاستوں کیلئے مخصوص الیکٹورل کالج کے

ان ارکان کو ووٹ دیتے ہیں جو ان کی پسندکے صدارتی امیدوار کو بعدمیں ووٹ

دینے کے پابند ہوتے ہیں کسی بھی ریاست میں جس امیدوار کو سادہ اکثریت حاصل

ہوتی ہے اس ریاست کے تمام الیکٹورل ووٹ اس امیدوار کو مل جاتے ہیں۔ اس

پیچیدہ نظام کے باعث قیافے غلط بھی جاتے ہیں جس طرح 2016ء کے انتخابات

میں ہیلری کلنٹن فیورٹ چلی آرہی ہیں اور ملک بھرمیں عا م ووٹوں کی مجموعی

تعداد میں ان کی اکثریت رہی لیکن الیکٹورل کالج کے ارکان کم ہونے کی وجہ سے

وہ ہار گئیں۔ الیکٹورل کالج کے ارکان کی کل تعداد 538 ہوتی ہے جس کی سادہ

اکثریت سے زائد یعنی کم از کم 270ارکان کی حمایت حاصل کرنیوالا امیدوار

کامیاب قرار دیدیا جاتا ہے۔ امریکہ کی کل50 ریاستوں اور وفاقی ڈسٹرکٹ آف

کولمبیا (ڈی سی) کو ان کی آبادی کے لحاظ سے الیکٹورل کالج کے ارکان کی تعداد

الاٹ ہوتی ہے۔ اس مرتبہ ’’کووڈ 19-‘‘ کی وباء کے باعث ڈاک کے ذریعے غیر

حاضر ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد معمول سے کہیں زیادہ رہی۔ اس کے علاوہ ہر

ریاست نے 3نومبر سے تقریباً ہفتہ دس دن پہلے باہر جاکرووٹ ڈالنے کی سہولت

بھی فراہم کی اور اس مقصد کیلئے ’’سٹیلائٹ لوکیشنز‘‘ قائم کی گئیں۔ ڈاک کے

ذریعے ووٹ ڈالنے کی مہم زیادہ ڈیموکریٹک پارٹی نے چلائی جس کے نتیجے میں

قبل از وقت ووٹ ڈالنے والوں میں اکثریت توقع کے مطابق ڈیمو کریٹک پارٹی کے

حامیوں کی رہی۔ ایسے ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد سات کروڑ سے پہلے ہی تجاوز

کر چکی ہے جو گزشتہ انتخابات کے ٹرن آؤٹ کے اعتبار سے نصف سے زائد

بنتی ہے۔ توقع ہے 3نومبر کی شب یا 4نومبر کی صبح تک واضح ہو جائیگا کس

امیدوار کو الیکٹورل کالج کے کم از کم 270ارکان مل گئے ہیں۔ عدا لت کے حکم

کے مطابق غیر حاضر یا ڈا کے ذریعے ملنے والے ووٹوں کی گنتی 4نومبر تک

ہوسکتی ہے۔ غیر رسمی طور پر یہ فیصلہ تو 3نومبر کی شب ہو جاتا ہے کہ کون

صدر بنے گا، تاہم الیکٹورل کالج کے ارکان رسمی طور پر دسمبر میں اجلاس

کرکے صدر کا باقاعدہ چناؤ کرتے ہیں۔

ٹرمپ یا جوبائیڈن

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں