41

نبی ۖ کی گستاخی سے زیادہ کوئی عمل تکلیف دہ نہیں،وزیراعظم

Spread the love

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) گستاخی عمل تکلیف دہ

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نبی کریم ۖ کی شان میں گستاخی سے زیادہ

کوئی عمل تکلیف دہ نہیں ، مغرب کے لوگوں کو سمجھ ہی نہیں کہ مسلمانوں کا نبی کریم ۖ سے عقیدت کا کیا رشتہ ہے،ہم آٹھویں نویں اور دسویں جماعت میں نبی کریم ۖ

کی سیرت سے متعلق مضامین شامل کریں گے،مسلم ممالک کو اسلاموفوبیاکے

مسئلے پر مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، پاکستان کو مدینہ کی طرح کی فلاحی

ریاست بنانا ہمارا مشن ہے۔ وہ عیدمیلادالنبی ۖکے سلسلہ میں قومی رحمتہ العالمین ۖ

کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کررہے تھے ۔انہوں نے کہاکہ یہ کانفرنس

ہر سال منعقد کی جائیگی، پاکستانی عوام بالخصوص نوجوانوں کو حضور اکرم ۖکی

حیثیت سے متعلق مکمل آگاہی دینی ہے،حضرت محمد ۖکی سیرت طیبہ ہمارے لئے

مشعل راہ ہے۔ حضرت محمد ۖجیسا عظیم انسان آیا ہے اور نہ ہی آئے گا، دنیا کی

سو عظیم شخصیات میں حضور اکرم ۖکا پہلا نمبر ہے، آنے قرآن پاک اور حضور

اکرم ۖکی زندگی کے ذریعے ہمیں راہ دکھائی۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں ہم نے

مستقبل کی منصوبہ بندی نہیں کی جس کے ماحولیاتی صورتحال پر اثرات مرتب

ہوئے ہیں، ہمارے خطے میں ماحولیاتی صورتحال سنگین ہے، گرمی کی شدت کے

باعث گلیشیئر پگھل رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے منفی اثرات مرتب ہو

رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں نے قوت ایمانی کے باعث کامیابی حاصل کی

،ان کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے، یہ انقلابی دور تھا جس میں اقلیتوں کو

بھی حقوق حاصل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ساتویں سے نویں کلاس تک

سکولوں میں حضور اکرم ۖکی سیرت طیبہ کی تعلیم کیلئے قانون سازی کریں گے۔

سیرت طیبہ کی پیروی سے ہماری زندگی میں بہتری آئے گی۔او آئی سی کے

سربراہان مملکت کے اجلاس میں اسلاموفوبیا کا معاملہ اٹھایا، انہیں اس معاملے پر

اتفاق رائے سے آواز اٹھانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہاکہ مغرب میں رہنے والے

حضرت محمد ۖکے ساتھ ہمارے تعلق سے آگاہ نہیں، ہم تمام پیغمبروں کا ادب و

احترام کرتے ہیں،سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف مسلمانوں نے آواز اٹھائی،

مغرب میں یہ تاثر لیا جاتا ہے، مسلمان اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہیں اور

تنگ نظر ہیں،اس حوالہ سے منظم مہم چلائی گئی، مغرب کا ایک چھوٹا سا طبقہ

اسلام کے خلاف ہے، مسلمانوں کو برا دکھانا چاہتے ہیں، ہمیں مغربی ممالک کو

حضرت محمد ۖکے ساتھ اپنے لگاو سے آگاہ کرنا چاہئے، یورپی ممالک میں

ہولوکاسٹ پر بات نہیں کی جا سکتی، ہمیں ایسی کوئی بات نہیں کرنی چاہئے جس

سے دوسروں کی دل آزاری ہو، دنیا میں سوا ارب مسلمان ہیں، اسلاموفوبیا کے

معاملے پر دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ رابطے کروں گا۔افغانستان، شام، عراق

میں لاکھوں مسلمان شہید ہوئے، حضور اکرم ۖکی بے حرمتی کسی صورت قبول

نہیں کریں گے، تمام مسلمان ممالک کو اس حوالے سے خطوط لکھے ہیں،اس طرح

کی صورتحال میں مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں پر زندگی تنگ ہو جاتی ہے،

امت مسلمہ کے تمام رہنماوں کو یورپی یونین اور مغربی ممالک کو بتانا چاہئے کہ

ہم اظہار رائے کی آزادی کے خلاف نہیں تاہم توہین آمیز خاکوں سے سوا ارب

مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں،پاکستان ایک نظریہ کے نام پر بنا ہے، ہم

نے اسے ریاست مدینہ کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بنانا تھا، یہ ہمارا وژن

اور نظریہ تھا ،پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے

سیرت النبی ۖپر مقالے، کتابیں لکھنے والے مصنفین میں انعامات بھی تقسیم کئے۔

کانفرنس میں وفاقی وزرائ، مختلف ممالک کے سفیروں اور مختلف مکتبہ ہائے

فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام نے شرکت کی

گستاخی عمل تکلیف دہ

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں