39

پشاور دھماکہ ،تحقیقات میں بڑی پیشرفت، مدرسہ کا طالبعلم گرفتار

Spread the love

پشاور دھماکہ بڑی پیشرفت

پشاور(صرف اردو آن لائن نیوز) پشاورمیں مدرسے کے مہتمم مولانا رحیم اﷲ

حقانی نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ حملہ آورکیسے آئے ،انتظامیہ کی ذمہ داری

تھی کہ ہمیں سیکورٹی فراہم کرتے۔ گزشتہ روزیہاں مولانا رحیم اﷲ حقانی نے

پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حدیث کی تعلیم جاری تھی کہ طالب علموں پر

حملہ کیا گیا، ہمارا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، چارسال قبل مدرسے

پرفائرنگ ہوئی تھی، سکیورٹی الرٹ کے حوالے سے پولیس نے آگاہ کیا تھا، ہم نے

اپنی سیکورٹی کی تھی لیکن ہمارے پاس اسلحہ نہیں تھا۔مشاورت کے بعد مدرسہ

کھولنے کا فیصلہ کریں گے۔ دوسری جانب دیر کالونی کے مدرسے میں دھماکے

کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے جبکہ مدرسے ہی کے ایک طالب علم کو

حراست میں لیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم میں کا ونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ، پولیس اور

قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار شامل ہیں۔ مدرسے میں دھماکے کی

ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکے سے قبل دہشتگردوں نے مدرسے اور

طلبا کی ریکی کی، مدرسے کے طلبا کا ریکارڈ اور ان کے کوائف کا ڈیٹا حاصل

کر لیا گیا ہے جبکہ مدرسے میں زیر تعلیم ایک طالبعلم کو بھی حراست لیا گیا ہے،

جس سے تفتیش جاری ہے۔ اس کے علاوہ بارودی مواد سے بھرا بیگ مدرسے میں

رکھنے والے مشتبہ شخص کے حوالے سے بھی عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کر

لئے گئے ہیں۔ پولیس نے دیر کالونی اور اس سے ملحقہ آبادی میں سرچ آپریشن

بھی کیا ہے ، جس میں ایلیٹ فورس، ریپڈ رسپانس فورس، کے نائن یونٹ، لیڈیز

پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے جوانوں نے حصہ لیا۔ خفیہ اطلاعات کی روشنی

میں کئے گئے اس آپریشن کے دوران 55مشتبہ افراد گرفتار کئے گئے ہیں اور گھر

گھر تلاشی کے دوران غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ ایس ایس پی آپریشنز

پشاور منصور امان نے کہا ہے کہ گرفتار مشتبہ افراد سے تفتیش کے لئے سپیشل

انٹاروگیشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ شہر کی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے

اور ضلع بھر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور سرچ آپریشن کا سلسلہ تیز کر دیا

گیا۔ عید میلادالنبیﷺ کے پرامن انعقاد کی خاطر خصوصی سیکیورٹی پلان ترتیب

دیا جا رہا ہے۔پشاور کے ہسپتال میں دھماکے کے 6زخمی اب بھی زیر علاج ہیں۔

مسجد میں دینی تعلیم کا سلسلہ روک کر وہاں زیر تعلیم طلبہ کو کچھ عرصے کے

لیے ان کے آبائی علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ مدرسہ انتظامیہ کے مطابق مسجد

ومدرسے کی سکیورٹی کیلئے مشاورت کا عمل جاری ہے اور مشاورت کے بعد

درس و تدریس کا عمل شروع کیا جائیگا۔

پشاور دھماکہ

پشاور دھماکہ بڑی پیشرفت

صدارتی
امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ،
اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں