کرنل محمد خان 65

کرنل محمد خان کو بچھڑے 21 برس گزر گئے

Spread the love
کرنل محمد خان کے یوم وفات پر قارئین کے لیے صرف اردو ڈاٹ کام کی خصوصی پیش کش

محمد خان 5 اگست 1910ء کو ضلع چکوال کے ایک گاؤں بلکسر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کی ۔1931ء میں اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کیا۔ پھر 1934ء میں ایم اے اقتصادیات اور 1935ء میں بی ٹی کا امتحان پاس کیا۔ شروع میں کچھ عرصہ درس و تدریس میں گزارا اور 1940ء میں فوج میں شامل ہوگئے۔ عراق ، مصر اور لیبیا کی لڑائیوں میں شریک رہے۔ 1945ء میں ایجوکیشن کور میں تبادلہ ہوا۔ 1957ء میں کرنل بنے اور ڈائریکٹر آرمی ایجوکیشن مقرر ہوئے۔ 1969ء میں اسی عہدے سےریٹائر ہوئے۔
پہلی بار گاؤں کے اسکول میں بلی چوہے کی کہانی لکھی جو بچوں کے رسالے ’’رہنمائے تعلیم‘‘ میں شائع ہوئی۔ پہلی کتاب ’’بجنگ آمد ‘‘ نے بہت شہرت پائی ۔ اس کے علاوہ ان کی دو کتابیں ’’بسلامت روی‘‘ اور ’’بزم آرائیاں‘‘ ہیں۔ اور ان کی چوتھی کتاب ’’بدیسی مزاح‘‘ مغربی ادب کا سلیس اردو ترجمہ ہے۔
23 اکتوبر 1999ء کو لاہور میں اُن کا انتقال ہو گیا۔ان کے فن کے بارے میں ڈاکٹر انور سدید لکھتے ہیں:
’’ کرنل محمد خان کا شمار ان مزاح نگاروں میں ہوتا ہے جو زندگی کے بجھے ہوئے ماحول میں داخل ہوتے ہیں۔ پھولوں کے گلدستے کو فضا میں بکھیرنا شروع کرتے ہیں۔ ماحول پہلے انہیں حیرت کی نظر سے دیکھتا ہے اور پھر فضا میں ہر طرف اڑتے ہوئے پھولوں کو سمیٹنے لگتا ہے۔(مرزا کرنل محمد خان)

کرنل محمد خان کے بار میں یہ بھی پڑھیں

یہ نہ تھی ہماری قسمت ۔۔۔۔ کرنل محمد کی ایک شاہکار تحریر سے اقتباس


رضیہ ہماری توقع سے بھی زیادہ حسین نکلی اور حسین ہی نہیں کیا فتنہ گر قد و گیسو تھی۔

پہلی نگاہ پر ہی محسوس ہوا کہ initiative ہمارے ہاتھ سے نکل کر فریقِ مخالف کے پاس چلا گیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ پہلا سوال بھی ادھر سے ہی آیا:

“تو آپ ہیں ہمارے نئے نویلے ٹیوٹر؟”

اب اس شوخ سوال کا جواب تو یہ تھا کہ “تو آپ ہیں ہماری نئی نویلی شاگرد؟”

لیکن سچی بات یہ ہے کہ حسن کی سرکار میں ہماری شوخی ایک لمحے کے لیئے ماند پڑ گئی اور ہمارے منہ سے ایک بے جان سا جواب نکلا:

” جی ہاں، نیا تو ہوں ٹیوٹر نہیں ہوں۔ مولوی صاحب کی جگہ آیا ہوں”

“اس سے آپ کی ٹیوٹری میں کیا فرق پڑتا ہے؟”

“یہی کہ عارضی ہوں”

“تو عارضی ٹیوٹر صاحب۔ ہمیں ذرا اس مصیبت سے نجات دلا دیں”

رضیہ کا اشارہ دیوانِ غالب کی طرف تھا۔ میں نے قدرے متعجب ہو کر پوچھا:

“آپ دیون غالب کو مصیبت کہتی ہیں؟”

“جی ہاں! اور خود غالب کو بھی،”

“میں پوچھ سکتا ہوں کہ غالب پر یہ عتاب کیوں؟:

“آپ ذرا آسان اردو بولیئے۔ عتاب کسے کہتے ہیں؟”

“عتاب غصے کو کہتے ہیں۔”

“غصہ؟ ہاں غصہ اس لئے کہ غالب صاحب کا لکھا تو شاید وہ خود بھی نہیں سمجھ سکتے۔ پھر خدا جانے پورا دیوان کیوں لکھ مارا؟:

“اس لئے کہ لوگ پڑھ کر لذت اور سرور حاصل کریں”

“نہیں جناب۔ اس لئے کہ ہر سال سینکڑوں لڑکیاں اردو میں فیل ہوں”

“محترمہ۔ میری دلچسپی فقط ایک لڑکی میں ہے، فرمایئے آپ کا سبق کس غزل پر ہے؟”

جواب میں رضیہ نے ایک غزل کے پہلے مصرع پر انگلی رکھ دی لیکن منہ سے کچھ نہ بولی۔ میں نے دیکھا تو غالب کی مشہور غزل تھی۔

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا

میں نے کہا:

“یہ تو بڑی لا جواب غزل ہے ذرا پڑھیئے تو۔”

“میرا خیال ہے آپ ہی پڑھیں ۔ میرے پڑھنے سے اس کی لا جوابی پر کوئی ناگوار اثر نہ پڑے”

مجھے محسوس ہوا کہ ولایت کی پڑھی ہوئی رضیہ صاحبہ باتونی بھی ہیں اور ذہین بھی لیکن اردو پڑھنے میں غالباً اناڑی ہی ہیں۔ میں نے کہا:

“میرے پڑھنے سے آپ کا بھلا نہ ہوگا۔ آپ ہی پڑھیں کہ تلفظ بھی ٹھیک ہو جائے گا”

رضیہ نے پڑھنا شروع کیا اور سچ مچ جیسے پہلی جماعت کا بچہ پڑھتا ہے۔

” یہ نہ تھی ہماری قس مت کہ وصل۔۔۔۔۔۔۔”

میں نے ٹوک کر کہا:

“یہ وصل نہیں وصال ہے، وصل تو سیٹی کو کہتے ہیں۔”

رضیہ نے ہمیں سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ ہم ذرا مسکرائے اور ہمارا اعتماد بحال ہونے لگا۔

رضیہ بولی:
“اچھا۔ وصال سہی۔ وصال کے معنی کیا ہوتے ہیں؟”

“وصال کے معنی ہوتے ہیں ملاقات، محبوب سے ملاقات۔ آپ پر مصرع پڑھیں۔”

رضیہ نے دوبارہ مصرع پڑھا۔ پہلے سے ذرا بہتر تھا لیکن وصال اور یار کو اضافت کے بغیر الگ الگ پڑھا۔ اس پر ہم نے ٹوکا۔

“وصال یار نہیں وصالِ یار ہے۔ درمیان میں اضافت ہے۔”

“اضافت کیا ہوتی ہے؟ کہاں ہوتی ہے؟”

“یہ جو چھوٹی سی زیر نظر آرہی ہے نا آپ کو، اسی کو اضافت کہتے ہیں۔”

“تو سیدھا سادا وصالے یار کیوں نہیں لکھ دیتے؟”

“اس لئے کہ وہ علما کے نزدیک غلط ہے۔”۔۔۔۔۔۔ یہ ہم نے کسی قدر رعب سے کہا۔

علما کا وصال سے کیا تعلق ہے؟”

” علما کا تعلق وصال سے نہیں زیر سے ہے۔”

“اچھا جانے دیں علما کو۔ مطلب کیا ہوا؟”

“شاعر کہتا ہے کہ یہ میری قسمت ہی میں نہ تھا کہ یار سے وصال ہوتا۔”

“قسمت کو تو غالب صاحب درمیان میں یونہی گھسیٹ لائے، مطلب یہ کہ بے چارے کو وصال نصیب نہ ہوا”

“جی ہاں کچھ ایسی ہی بات تھی۔”

“کیا وجہ؟”

“میں کیا کہہ سکتا ہوں؟”

“کیوں نہیں کہہ سکتے ۔ آپ ٹیوٹر جو ہیں۔”

“شاعر خود خاموش ہے۔”

“تو شاعر نے وجہ نہیں بتائی مگر یہ خوش خبری سنادی کہ وصال میں فیل ہوگئے؟”

” جی ہاں فی الحال تو یہی ہے۔ آگے پڑھیں۔”

رضیہ نے اگلا مصرع پڑھا۔ ذرا اٹک اٹک کر مگر ٹھیک پڑھا:

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

میں نے رضیہ کی دلجوئی کے لئے ذرا سرپرستانہ انداز میں کہا:

“شاباش، آپ نے بہت اچھا پڑھا ہے۔”

“اس شاباش کو تو میں ذرا بعد میں فریم کراؤں گی۔ اس وقت ذرا شعر کے پورے معنی بتادیں۔”

ہم نے رضیہ کا طنز برداشت کرتے ہوئے کہا:

“مطلب صاف ہے، غالب کہتا ہے قسمت میں محبوبہ سے وصال لکھا ہی نہ تھا۔ چنانچہ اب موت قریب ہے مگر جیتا بھی رہتا تو وصال کے انتظار میں عمر کٹ جاتی۔”

” توبہ اللہ، اتنا Lack of confidence یہ غالب اتنے ہی گئے گزرے تھےِ؟”

گئے گزرے؟ نہیں تو۔۔۔ غالب ایک عظیم شاعر تھے۔”

“شاعر تو جیسے تھے، سو تھے لیکن محبت کے معاملے میں گھسیارے ہی نکلے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” ﺑﺠﻨﮓ ﺁﻣﺪ ” ﺳﮯ ﺍﻗﺘﺒﺎﺱ

” ۴ ﺟﻨﻮﺭﯼ ۱۹۴۴ ﮐﯽ ﺻﺒﺢ ﮐﻮ ﮨﻤﺎﺭﺍﺟﮩﺎﺯ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺑﻤﺒﺌﯽ ﮐﯽ ﮔﻮﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ۔ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺳﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﮯ ﺟﺎﮔﺎ ﺗﻮ ﭘﻮﺭﭦ ﮨﻮﻝ ﺳﮯ ﺧﺸﮑﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮯ ﺗﺎﺑﯽ ﮮ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﮯ ‘ ﻋﺮﺷﮯ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﺭﺽ ﮨﻨﺪ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﻓﻮﺭ ﻣﺴﺮﺕ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﭼﮭﻠﮏ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺧﺎﮎ ﻭﻃﻦ ﭘﺮ ﭘﺎﻭٔﮞ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﻮ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺘﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺍﺣﺴﺎ ﺱ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﭘﺎﻭٔﮞ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺟﺒﯿﻦ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺭﮐﮫ ﺩﯼ ۔ﺑﻤﺒﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﭨﺮﺍﻧﺰﭦ ﮐﯿﻤﭗ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﺍﯾﺎ ﮔﯿﺎ ۔ ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﮐﯿﻤﭗ ﺗﮭﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﮈﮬﺎﺋﯽ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺩﻋﺎ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺑﻮ ﻣﺰﺍﺝ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻧﮯ ﻣﺤﺾ ﭨﺎﺋﭗ ﮐﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺧﺪﺍ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺗﮏ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮎ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﭘﺎﺭ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﭨﻞ ﻧﮧ ﺳﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﮩﺮ ﺣﺎﻝ ﺍﺏ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺟﻨﮓ ﺳﮯ ﺑﭻ ﮐﺮ ﺁﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﺳﭽﺎ ﻟﮩﻮ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻏﺎﺯﯼ ﺑﮭﯽ ﺑﻦ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺧﺎﻥ ﺑﮩﺎﺩﺭﯼ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮐﯿﻤﭗ ﮐﮯ ﺩﻓﺘﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺱ ﺑﮯ ﺗﮑﻠﻔﯽ ﺳﮯ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﻮﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﮨﻢ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﻤﺎﻧﮉﺍﻧﭧ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﺁﻣﺪﯾﺪ ﮐﮩﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺗﭙﺎﮎ ﺳﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﻣﻠﮑﮧ ﻣﻌﻈﻢ ﻧﮯ ﺫﺍﺕ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺧﺎﻃﺮ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﺑﮭﯿﺠﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﻤﺎﻧﮉﺍﻧﭧ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺳﮕﻨﻞ ﭨﺮﯾﻨﯿﻨﮓ ﺳﻨﭩﺮ ﺳﯿﺎﻟﮑﻮﭦ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﺭ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﻧﺎﻣﮧ ﺩﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮦ ﮐﯽ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﺎ ﻣﮋﺩﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺷﺐ ﻓﺮﻧﭩﺌﯿﺮ ﻣﯿﻞ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻧﺸﺴﺖ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ۔
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺭﻭﺯ ﻻﮨﻮﺭ ﭘﮩﻨﭽﮯ ۔ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﺗﻮ ﺁﮔﮯ ﭼﮑﻮﺍﻝ ﺗﮭﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﺗﺮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﺎﻭٔﮞ ﺑﺎﻟﮑﺴﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﺎﮌﯼ ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﺍﺳﭩﯿﺸﻦ ﭘﺮ ﺭﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﮭﺎﻧﮑﺎ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﮐﺎﻟﺞ ﮐﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﻮﺱ ﺩﺭ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﻭﮨﯽ ﺭﺱ ﺑﮭﺮﯼ ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯽ ﺑﮭﺎﮒ ﺑﮭﺮﯼ ﻗﻤﯿﺼﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﻠﻮﺍﺭﯾﮟ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﮟ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺒﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﻻﮨﻮﺭ ﺍﺗﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﺳﭩﯿﺸﻦ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﮔﻠﯽ ﮐﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﻝ ﭼﻠﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﺘﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﻧﻌﻤﺖ ﮦ ﮮ ﮨﻢ ﭼﻮﺑﯿﺲ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﻻﮨﻮﺭ ﭨﮭﮩﺮﮮ ۔ ﭨﮭﮩﺮﮮ ﮐﯿﺎ ‘ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺍ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﻮﺍﺋﮯ ﻻﮨﻮﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﮧ ﺳﺎﻟﮧ ﺍﺟﻨﺒﯿﺖ ﮐﻮ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﺎﺿﺎﺑﻄﮧ ﺗﻄﮩﯿﺮ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﮨﮯ ۔ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺭﻭﺯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﭼﮭﻮﭨﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮍﺍ ﭘﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﺍ ۔ﻟﯿﮑﻦ ﮔﺎﻭٔﮞ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﺧﺒﺮ ﯾﮧ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺴﺎ ﭘﺎﯾﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺧﻮﺩ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺌﮯ ۔ﺧﺒﺮ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﮐﭙﺘﺎﻥ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻣﺤﻤﺪ ﺧﺎﻥ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯ ۔ ﮐﺘﻨﺎ ﺩﺑﻼ ﭘﺘﻼ ﺗﮭﺎ ‘ ﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﺟﻮﺍﻥ ﻧﮑﻼ ﮨﮯ ۔ﺻﺎﺣﺐ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ۔ﺳﺮ ﮔﭧ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺘﺎ ﮨﮯ ۔ﻣﺴﮑﻮﭦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻧﻮﮐﺮﯼ ﭘﮩﺮﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﺎﻑ ﮨﮯ ﮔﺎﻭٔﮞ ﮐﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮍﮮ ﮐﺎﻡ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﻮ ﺁﻧﮯﻟﮕﮯ ۔ﮨﻢ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻭ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﻌﺎﻧﻘﮯ ﮐﯿﮯ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﺎﻭٔﮞ ﮐﯽ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺗﮭﯽ ۔ﭼﮭﺎﺗﯽ ﺩﮐﮭﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﮑﮫ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺍ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﭼﻨﺪ ﺭﻭﺯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﭘﺮ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﻨﮯ ﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺩﯾﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﭼﮑﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﺎ ﺟﻮ ﺻﺮﻑ ﻣﺎﮞ ﮨﯽ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ “‘ ﺑﯿﭩﺎ ﺍﺏ ﺳﺎﺭﯼ ﻓﻮﺝ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﮨﯽ ﺑﮍﮮ ﺍﻓﺴﺮ ﮨﻮ ﻧﺎ ؟ “

ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﭘﯿﮑﺮ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﻃﻦ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﺍﺷﺘﯿﺎﻕ ﮨﻮﺗﺎ ؟ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺟﮭﺠﮏ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ” ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮪ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺳﺐ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﺗﺤﺖ ﮨﯿﮟ ۔۔ ” ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺁﺑﺎﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ۔ﻭﯾﺴﮯ ﺳﭻ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮪ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﺗﺤﺖ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭼﺮﺍﻍ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﺮﭺ ﻻﺋﭧ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺳﭻ ﮐﺲ ﮐﺎﻡ ﮐﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺩﮐﮭﮯ ؟

ادب ، نقاد اور جنس ۔۔۔ !

مرزا نے کہا :
“یہ بتاؤ کہ تمہیں کتاب میں الزبتھ نظر آئی ، جوڈی اور باربرا دکھائی دیں ، مگر کیا وجہ ہے کہ کسی مرد پر نگاہ نہیں ٹھہری؟
مثلاً وہ پنڈی والے جناب خونخوار ، وہ کراچی والے آغا میخوار ، وہ تاج محل والے یوسفی ، وہ جہاں گرد ابن انشا ، وہ کالے چشمے والے حکیم محمد سعید ، وہ انگلستان والے گولڈہل ، میجر جیٹکن اور کرنل کومب ، وہ استنبول والے چچا چقماگلو ، وہ ایران والے پرویز اعتمادی اور بھائی کرپال سنگھ اور وہ پاکستان والے اپنے سید ضمیر جعفری ۔۔۔ یہ بیسیوں ہٹے کٹے مرد ۔۔۔ کیا انہیں دیکھنے کے لیے تمہیں خوردبیں درکار تھی ؟”
۔۔۔۔۔۔
مرزا نے گفتگو جاری رکھیں ۔۔۔
“دیکھو خارش ! کبھی کسی کتاب میں عورت کا ذکر آ جائے تو تم چلا اٹھتے ہو کہ مصنف کے اعصاب پر عورت سوار ہے۔ مجھے یہ بتاؤ کہ مرد اور عورت کے درمیان ازلی اور فطری رشتہ ہے یا نہیں؟”
تابش بولے : “ہے۔”
“اور یہ بھی مانتے ہو کہ فطرت ہی نے انہیں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہونے کے احساس دے رکھا ہے؟”
“بالکل مانتے ہیں ۔۔۔”
“اور یہ کہ اس کلیہ سے دنیا کی محترم ترین ہستیاں بھی مستثنیٰ نہیں؟”
“یہ بھی درست ہے۔”
“اگر یہ سب درست ہے تو گستاخی معاف ، خارش میاں ، جس مرد کے اعصاب پر عورت سوار نہیں وہ یا تو نامرد ہے اور یا جھوٹا ہے۔”

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ہرچند کہ مرزا کی دلیل جاندار تھی ، تاہم جن الفاظ میں بیان کی گئی تھی ، ضرورت سے زیادہ جاندار تھے اور نقص امن کا اندیشہ تھا۔ میں نے مرزا کا بازو تھاما اور کہا :
“شانتی ، مرزا ، شانتی !”
مرزا بولے :
ان سخت الفاظ کی معافی چاہتا ہوں کہ بقول اقبال
گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا
جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات

تابش بولے:
“لو ، یہ بےاعتدالی بھی اقبال کے کھاتے میں گئی۔ یہ اندازِ گفتگو اور گلہ کرتے ہو نقادوں کا؟”
“صرف تم جیسے بےاصول نقادوں کا۔ ورنہ شائستہ ناقدین کو تو سلام کرتا ہوں۔”
“یہ شائستہ نقاد بھلا کیا جنس ہوتی ہے خفقان میاں؟ اس کی پہچان؟”
“شائستہ نقاد کی پہچان ، میرے پیارے خارش ، یہ ہوتی ہے کہ وہ مصنف سے اختلاف تو کرتا ہے ، مگر اس کی مخالفت نہیں کرتا۔ یعنی اس کی تنقید ہمدردانہ ہوتی ہے ، مخاصمانہ نہیں ہوتی۔ اب سمجھے ہو اختلاف اور مخالفت کا فرق یا ڈکشنری لا دوں؟”
“تو میں نے کیا مخالفت کی ہے؟”
“کسی کو کہنا کہ تمہارا یہ فعل شنیع ہے، فلاں حرکت قبیح ہے، تم پر فلاں شے سوار ہے۔ کیا یہ قصیدے کے بند ہیں؟ کیا کسی کو شریعت کورٹ میں لے جانا پیار کی علامت ہے؟”
مرزا تابش کو دیکھ کر مسکرایا اور پھر اچانک مجھ سے سوال پوچھا :
“کرنل صاحب۔ خارش نے ابھی کہا تھا کہ آپ کی “بجنگ آمد” تو اچھی خاصی کتاب تھی ، مگر “بسلامت روی” لکھ کر آپ نے عزت سادات گنوا دی۔ آپ کا کیا خیال ہے؟”
کہا :
“مرزا ، بطور مصنف تو میں سمجھتا ہوں کہ اسلوب بیان اور اندازِ فکر کے اعتبار سے ‘بسلامت روی’ ، ‘بجنگ آمد’ سے بہتر ہے۔
لیکن ‘بسلامت روی’ کی کچھ باتیں جو صیغہ واحد متکلم میں لکھے جانے کی وجہ سے خود ستائی سی لگتی ہیں، بعض نقاد دوستوں کو خوش نہیں آئیں۔ مثلاً ۔۔۔
باربرا ، ، مسز ‘ش’ اور جوڈی وغیرہ سے ہمارے مکالمات و معاملات۔
اگر یہی باتیں ہم اپنی جگہ کسی اصلی یا فرضی دوست کے کھاتے میں ڈال دیتے تو یہی نقاد دوست ہماری خوش بیانی کی داد دیتے۔ آخر ‘بجنگ آمد’ میں بھی ایسے ہی مکالمات اور معاملات تھے مگر وہ تمام تر ورما ، انکل ن اور دوسرے دوستوں سے منسوب تھے اور ہمیں محض خوش بیان راوی سمجھ کر نقادوں نے سونے کا تمغہ بخش دیا ۔۔۔ یہ سارا کام صیغہ واحد متکلم یعنی ‘میں’ نے خراب کیا ہے۔”

“یہ صیغوں والی بات آپ نے بالکل ٹھیک کہی”
مرزا نے پُرجوش تائید کی۔
“افسانہ نویسوں کو ، جو بیشتر صیغہ غائب میں لکھتے ہیں ، یہ خارش برادری سب کچھ معاف کر دیتی ہے۔ ایک افسانہ نگار ایک خوبصورت ہیروئین کو ایک زشت رو اجنبی کے ساتھ اُٹھا ، بٹھا بلکہ بھگا بھی سکتا ہے مگر نقادوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ آخر یہ زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ ہر روز کی واردات ہے۔ چلیں یوں ہی سہی۔
مگر ایک سفرنامہ نگار دورانِ سفر کسی لڑکی سے ہنس کر بات کرنے کا تذکرہ بھی کر بیٹھے تو اسے غیرشرعی فعل سمجھتے ہیں کہ مصنف صیغہ واحد متکلم میں بزبان خود اقرارِ گناہ کر رہا ہے۔
چنانچہ خارش ایسے نقادوں سے اگر مستنصر حسین تارڑ کو 100 میں سے 100 نمبر لینے ہیں تو اسے چاہئے کہ کسی ہسپانوی حسینہ کو دیکھتے ہی دو رکعت نفل نیت لے ورنہ اگر اس نے لڑکی کو ہیلو کہہ دیا تو مستنصر کا کردار مشکوک ہے اور عاقبت مخدوش۔
ادھر منٹو اپنے افسانے میں کسی رئیس زادی کو اس کے نوکر کے بستر میں سلائے رکھے تو یہ زندگی ہے ، آرٹ ہے ، لیکن کوئی رقیق القلب زولا سفر فرانس کے تھکے ہارے مسافر عطاالحق قاسمی کی کمر مل دے اور وہ اس واقعہ کو اپنے سفرنامے میں چند خوبصورت جملوں میں بیان کر دے تو یہ آرٹ نہیں ، زندگی بھی نہیں ۔۔۔ فحاشی ہے !
ہماری اردو کی ایک مشہور افسانہ نویس اور ناول نگار خاتون ہیں جن کی کسی ہیروئین کی عصمت ان کے قلم سے محفوظ نہیں اور اگر ان کی تمام تر متاثرہ ہیروئینوں کو حساب میں لیا جائے تو مصنفہ نے عصمت دریوں کی سنچری مکمل کر لی ہے ، لیکن آج تک کسی ادبی امپائر کو توفیق نہیں ہوئی کہ اپنی انگلی اٹھا کر محترمہ کو ایل بی ڈبلیو قرار دے دے۔
اس کے برعکس جب محمد کاظم نے اپنے سفرنامے میں لکھا کہ میں جرمنی میں ایک مخلوط کیو میں کھڑا تھا کہ پشت پر دو نرم ابھاروں کا لمس محسوس ہوا ۔۔۔ تو جملہ ناقدین کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگے اور محمد کاظم کو عریاں نویسی کے طعنے دینے لگے۔
الغرض یہ خارشی نقاد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “


اقتباسات بحوالہ مضمون : مصنف بیتی
“بزم آرائیاں” – کرنل محمد خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک نظم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم نوا کون سی امید پہ خاموش رہوں
کس لۓ شاہد بی ٹی کی میں پاپوش رہوں
چیز کیا ہے سگ کالج کہ میں خرگوش رہوں
کیوں زیاں کار بنوں خاموش رہوں
آج میں بی ٹی کے لۓ دست و گریباں ہوں گا
نصحا پاس نہ آنا کہ میں نادان ہوں گا
میں تو سمجھا تھا کہ بی ٹی ہے کوئی کار ثواب
دیکھی اندر سے مگر آ کے جو یہ خانہ خراب
مجھ کو محسوس ہوا یہ تو ہے گودام عذاب
جس میں جھونکا گیا ایسا کہ جوں پا بہ جراب
دل انساں کی نزاکت اسے ملحوظ نہیں
ہاں شریفوں کی شرافت بھی تو محفوظ نہیں
ظلم بی ٹی سے خدا جانتا ہے چور ہیں ہم
جو کہ کیکر پہ چڑھایا تھا انگور ہیں ہم
“قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم”
جن کو سمجھے ہو کھلونے وہ ہم انساں نہیں
رب کے بندے ہیں کوئی ساختہ جاپان نہیں
بی ٹی کیا ہے فقط بندوں کا حیواں ہونا
اور مکروہ سی کچھ ٹانگوں کا عریاں ہونا
لین کے حکم پہ غم کھانا پریشاں ہونا
ہم سے بے ہودگی ہر روز یہ فرماتے ہیں
صبح بھی شام بھی جب چاہیں یہ کرواتے ہیں
مذہب بی ٹی میں کیا ناغہ حرام ہوتا ہے
سر پہ ہر صبح یہ کیوں رونکی رام ہوتا ہے
بھولتا ہے نہ اسے گھر کا ہی کام ہوتا ہے
نہ بخار آتا ہے اس کو نہ زکام ہوتا ہے
ارے ٹیوٹر خدا ہے تو سفارش کر دے
گر یہ کمبخت نہیں ٹلتا تو بارش کر دے
ہاسٹل کیا ہے طویلہ سا بنا رکھا ہے
اور وہ سمجھے ہیں کہ فردوس سجا رکھا ہے
بانس پہ بلاوجہ اس کو چڑھا رکھا ہے
دیکھو دروازے پہ رضواں جو بٹھا رکھا ہے
دیکھیں ڈیوڑھی پہ پہ تو مہماں وہی ٹلتے ہیں
اس سے آگے تو فرشتوں کے پر جلتے ہیں
یہ بھی پابندیء مہماں ہیں خطا وار نہیں
کیونکہ حالات دروں قابل اظہار نہیں
یاں گرفتار بلا ہیں جو گنہ گار نہیں
ایسی جنت کا تو دوزخ بھی خریدار نہیں
ہاسٹل تیری حقیقت کو گۓ ہیں ہم پانچ
انڈماں والوں نے لاہور میں کھولی ہے برانچ
چھٹی درکار ہو گر تم کو عیادت کے لۓ
ماہ پھر پہلے سے دو عرضی اجازت کے لۓ
پیش گوئی کرو نا دیدہ مصیبت کے لۓ
گویا پیغمبری درکار ہے رخصت کے لۓ
عزرائیل آ کے ہمیں پروگرام بتا
جن بزرگوں پہ تیری آنکھ ہے وہ نام بتا
اے خدا ہم بھی مانوس تھے کبھی عشرت کے سے
اب ہیں محروم ٹریننگ میں تری رحمت سے
بچ نہیں سکتے کبھی رات کی اس کلفت سے
دن کو بڑھ چڑھ کے فنا ہو گۓ اک مدت سے
درد سر ہے فلو ہے کہ تپ کھانسی
عمر بھر قید کا انجام یہاں پھانسی ہے

مرزا کرنل محمد خان مرزا کرنل محمد خان مرزا کرنل محمد خان مرزا کرنل محمد خان مرزا کرنل محمد خان مرزا کرنل محمد خان مرزا کرنل محمد خان مرزا کرنل محمد خان

اپنا تبصرہ بھیجیں