fareedullah zimri 56

NIRM کے ایڈمنسٹریٹر کیپٹن ریٹائرڈ مظہر معطل

Spread the love

ایڈمنسٹریٹر کو پارلیمانی کمیٹی نے معطل کیا

کیپٹن(ر)مظہر ادارے کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں

ہسپتال سے باہر نجی میڈیکل سٹوروں کو بھی دھمکیاں دے رہے تھے

اسلام آباد(مہتاب پیرزادہ سے) (کیپٹن ریٹائرڈ مظہر معطل)پی ٹی آئی کی حکومت کے کرپشن کے خلاف کئے جانے والے اقدامات کے پیش نظر ملک میںہر طرف افراتفری کا عالم دیکھنے کو ملتا ہے اس سارے عمل میں بہت سے بدعنوان عناصر سامنے آئے اور بہت سے لوگوں کے خلاف کارروائی کے بعد ناجائز ذرائع سے جمع کی جانے والی ملکی دولت واپس خزانے میں جمع ہوئی گو یہ اصل لوٹی جانے والی رقم کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ اس ساری صورتحال کے پیش نظر ملک میں ایک طرح کی بے یقینی بھی پائی جا رہی ہے اور ملک کے تمام اداروں کی طرح محکمہ صحت بھی کسی نہ کسی طرح شکار نظر آتا ہے۔

پاکستان کا کوئی بھی صوبہ ہو کوئی شہر یا گاوںہر جگہ کرپشن اور بدعنوان عناصر دندناتے پھر رہے ہیں اس پر مستزاد حکومت کی طرف سے نااہل لوگوں کا تقرراور بھی بربادی کا منظر پیش کرتا نظر آتا ہے۔ کوئی بھی شعبہ ہو اس میں ریٹائر فوجی افسران کو بھرتی کیا گیا ہے اور ان کے بے جا مداخلت نے اداروں کو زوال پذیری کی طرف گامزن کیا ہوا ہے۔

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

حال ہی میں اسلام آباد میں کے جی 8 ٹو میں واقع نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن(NIRM)ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر کیپٹن ریٹائرڈ مظہر کو اسمبلی کی سٹینگ کمیٹی برائے صحت کی طرف سے معطل کئے جانے کا واقع سامنے آیا، یہ ہسپتال کچھ عرصہ سے خبروں کی زینت بنا ہوا تھا اس سلسلہ میں کیپٹن مظہر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہاں سارے کا سارا عملہ کام چور اور بدعنوان ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہاں موجود ڈاکٹر اور معاون طبی عملہ ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوتا اور جب اس بارے میں باز پرس کی جائے تو ادویہ ساز کمپنیوں کے ملازمین کے ساتھ مل کر ہسپتال انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

کیپٹن مظہر کا موقف تھا کہ جب تک کوئی میرے سامنے آکر حاضری نہیں لگاتا اس وقت وہ غیر حاضر ہے چاہے وہ یہاں موجود ہو یا نہ ہو، ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں پر سب لوگ ادویہ ساز کمپنیوں سے غیر قانونی مفادات حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر اپنی کمیشن کے لیے مریضوں کو باہر سے ادویات خریدنے کا کہتے ہیں۔ یہی نہیں یہاں آنے والے مریضوں کو باہر پرائیویٹ ہسپتالوں میں لے جا کر ان سے پیسے لیتے اور اپریشن کرتے ہیں۔

کیپٹن مظہر نے یہ بھی بتایا کہ یہاں پر غیر قانونی طور پر ڈاکٹر بٹھائے گئے ہیں اور افغان نڑاد لوگوں سے کام لیا جا رہا ہے اور ان کو غیر قانونی طور پر فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔کیپٹن مظہر کی طرف سے نمائندگان کو یہ بھی بتایا گیا ہیڈاکٹر فریداللہ خان زمری کو دوسرے صوبے سے ڈیپوٹیشن پر لا کر بٹھایا ہوا ہے جو درست نہیں ہے۔

شیکسپیئر کی پہلی کتاب ایک کروڑ ڈالر میں نیلام

یاد رہے کہ ڈاکٹر فریداللہ خان زمری ایک کنسلٹنٹ (آرتھوپیڈک سرجن) ہیں جو اسلام آباد انٹرنیشنل اسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر میں پریکٹس کررہے ہیں۔ وہ گھٹنے کی تبدیلی ، مشترکہ امور ، ریڑھ کی ہڈی کی سرجری اور اسٹیم سیل تھراپی کا علاج اور انتظام کرنے میں ماہر ہیں۔ اپنے شعبہ میں گذشتہ 26 سال سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر فریداللہ خان زمری نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت چاہے تو وہ اپنی مرضی کا بورڈ بنا کر ان تمام الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروا سکتی ہے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں یا میرا عملہ اس سارے عمل میں مجرم ہیں تو سرکار ہمیں بند کیوں نہیں کرتی، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کیپٹن صاحب کو یہاں بطور ناظم الامور تعینات تو کیا گیا ہے مگر انہیں نہ تو میڈیکل کی الف ، ب کا علم ہے اور نہ ہی انتظامی امور کے بارے میں کچھ آگاہی ہے۔

ڈاکٹر فریداللہ نے موقف اختیار کیاکہ کیپٹن مظہر نے آج تک غیر قانونی طور پر بیٹھائے گئے ڈاکٹروں کو باہر کیوں نہیں نکالا جبکہ وہ اس کا اختیار رکھتے ہیں اور اگر نہیں نکالتے تو اس کی یہ صورتیں ہو سکتی ہیں کہ وہ غیر قانونی طور پر بیٹھائے گئے ڈاکٹروں سے خود کوئی مفاد لے رہے تھے جو اب موقوف ہوا ہے تو انہیں پریشانی کا سامناہوا ہے۔ اور یہ لوگ قانونی طور پر اس ادارہ میں کام کر رہے ہیں تو کیپٹن صاحب کی لاعلمی اور اہلیت کا اندازہ کرنا کوئی مشکل کام تو نہیں رہ جاتا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فریداللہ زمری نے کہا کیپٹن صاحب سے پوچھا جائے کہ فارما سیوٹیکل کمپنیوں سے کون سے قانونی مفادات ہیں جو ہم لینے کے اہل ہیں اور غیر قانونی مفادات کیا ہیں۔انہوں نے کہا کہ فارما کے نمائندوں کو ہسپتالوں میں آنے سے روکنے اور ڈاکٹروں سے ملنے سے روکنے کے بارے کوئی قانون موجود نہیں اگر ان لوگوں سے ایسے ہی مفادات لیے جاتے ہیں تو محکمہ صحت اور حکومت مل کر کیوں ان کے خلاف کوئی موثر قانون سازی نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ کیپٹن صاحب ہسپتال تو کیا گرد و نواح میں مقیم اور کاروبار کرنے والے لوگوں کو بھی بات بے بات دھمکاتے ہیں کہ تمہیں اندر کروادوں گا پرچہ کٹوا دوں گا۔

قریب موجود ایک میڈیکل سٹور کے مالک نے ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کیپٹن مظہر متعدد بار ان کو دھمکا چکے ہیں کہ اگر ہسپتال سے لکھ کر آنے والی ادویات دے گا تو لمبا اندر کروا دوں گا۔

باہر سے ادویات لکھنے اور فارما کمپنیوں سے مفادات کے ضمن میں ڈاکٹر زمری نے کہا کہ ریکاڈ چیک کیا جائیکہ جو ادویات باہر سے لکھی جاتی ہیں کیا ہسپتال کے پاس وہ ادویات یا اس کے متبادل ادویات موجود ہوتی ہیں، اگر موجود ہوتی ہیں تو اس پر ڈاکٹر مجرم ہے اور یہ ادویات ہسپتال میں موجود نہیں تو اس میں ڈاکٹر کا کیا قصور ہے۔

ڈاکٹر زمری نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ کیپٹن مظہر ہمیشہ ان کے کام کو لسانی بنیادپر زیر بحث لاتے ہیں اور ان کے رویے میں صوبائی تعصب کا عنصر نمایاں ہے۔

انہوں نے کہا کے میرے یہاں آنے سے قبل یہاں پر ایک ماہ میں محض چار پانچ آپریشن ہوا کرتے تھے جبکہ ریکارڈ کے مطابق اب تو یہاں روزانہ چار آٹھ آپریشن ہو رہے ہیں اگر عملہ موجود نہیں ڈاکٹر غیر حاضر ہیں تو لازمی بات ہے کہ یہ سارا کام کوئی دوسری مخلوق ہی کرتی ہوگی۔

غیر قانونی ڈاکٹروں کے حوالے سے کئے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا حکومت کی اجازت کے ساتھ یہاں پر دور دراز علاقوں سے ڈاکٹر تربیت کے لیے آتے ہیں اور یہی وہ زیر تربیت ڈاکٹر ہیں جن کو کیپٹن مظہر غیر قانونی بتا رہے ہیں۔

ڈاکٹر زمری نے مزید کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں اخلاقی طور پر صرف ان سوالات کا جواب دینے کا پابند تھا جو کیپٹن مظہر نے اٹھائے تھے۔

اینستھیزئسٹ ڈاکٹر علی نے کہا کہ بعض لوگ اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کے لیے اچھے بھلے اداروں کو برباد کر دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ فوج ایک معتبر اور بہترین ادارہ ہے جس کی ملک و ملت کے لیے خدمات قابل قدر ہیںلیکن بعض نااہل لوگ اس ادارے کی ساکھ کو خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر علی نے کہا کہ ہمیں اس امر سے کوئی غرض نہیں کہ ادارے میں انتظامی امور کن کے ہاتھ میں دیئے جائیں گے بس ہمیں ہمارا کام ہمارے طریقے سے کرنے دیا جائے۔

زیرتربیت ڈاکٹروں کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد نے کہا کہ ہم دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور یہاں تربیت کے لیے موثرذرائع سے آئے ہیں جن میں صوبائی حکومت کی منظوری شامل ہے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ یہاں فارغ نہیں رہتے صبح سے شام تک کام کرتے ہیںلیکن ہمیں یوں سمجھا جا رہا ہے جیسے ہم کسی دشمن ملک سے آئے ہوں، انہوں نے کہا کہ ہمیں اس ذہنیت کے حامل افراد سے اداروں کو بچانا ہوگا ورنہ اداروں کو بربادی سے کوئی بچا نہیں سکے گا۔

کیپٹن ریٹائرڈ مظہر معطل کیپٹن ریٹائرڈ مظہر معطل کیپٹن ریٹائرڈ مظہر معطل

اپنا تبصرہ بھیجیں