فیاض احمد علیگ ڈاکٹر 116

کووڈ۔۱۹ (COVID-19) اور طب یونانی میں اس کا علاج

Spread the love

ڈاکٹر فیاض احمد( علیگ)

اسسٹنٹ پروفیسر۔شعبہ تحفظی و سماجی طب، سنسکرتی یونانی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل۔متھرا

Mo. +919415940108

کووڈ۔۱۹((COVID-19کا ظہور سب سے پہلے ۳۰ دسمبر ۲۰۱۹ء؁ کو چین کے ایک شہر ووہان میں ہوا ،اور دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا تک یہ وباء پھیل گئی حتی کہ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے ۳۰ جنوری ۲۰۲۰ء؁ کو اس وباء کو Public Health Emergency of International Concern (PHEIC) ہونے کا اعلان کر دیا ۔ ۲۸ فروری کو عالمی ادارہ صحت نے دنیا کی تمام حکومتوں سے کورونا وائرس کے خلاف فوری اور ہنگامی اقدامات کرنے کی اپیل کی تھی۔تحقیقات کے بعد عالمی ادارہ صحت (WHO)نے اس نئے وائرس کو پہلے 2019 novel corona virus (2019-nCoV). کا نام دیا پھر۱۱ فروری ۲۰۲۰ء؁ کو WHO نے اسے کووڈ۔۱۹ ( COVID-19 )کا نام دیا ہے۔(مفردات اطباء میڈیکل سائنس)

چین میں اس وائرس کی پیشگی اطلاع، وہاں کے ایک ۳۴ سالہ ماہر امراض چشم ڈاکٹر لی وین لیانگ نے دسمبر ۲۰۱۹ء؁ کے اواخر میں ہی دے دیا تھا اور اپنے اس اندیشہ کو انھوں نے وہاں کی سوشل سائٹ پر شئیر بھی کیا تھا لیکن افسوس کہ چینی حکام اور انتظامیہ نے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجا ئے الٹا ان کو افواہ پھیلانے کے جرم میں گرفتار کرلیاتھا۔ ۳۰ دسمبر ۲۰۱۹ء؁ کوجب یہ وائرس وباء کی صورت میں ظاہر ہوا اور ایک بڑی آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،تب جا کر چینی حکام اور انتظامیہ کو ہوش آیا ۔لیکن افسوس کہ اس وقت تک معاملہ قابو سے باہر ہو چکا تھا’’اب پچھتائے کا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت‘‘۔اس پورے واقعہ کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس بیماری کی پیشگی اطلاع دینے والا ڈاکٹر مریضوں کی خدمت کرتے ہوئے خود اس بیماری کا شکار ہو کر موت کی نیند سو گیا۔

کورونا وائرس کیا ہے ؟ :۔ یہ در حقیقت وائرس کا ایک بڑاگروپ ہے جو عموماً جانوروں میں پایا جاتا ہے اور جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو کر بیماری کا سبب بن جاتا ہے۔اس طرح کی بیماری کو میڈیکل سائنس کی زبان میں Zoonotic Disease کہا جاتا ہے۔بسا اوقات یہ انسان اور جانور دونوں کو متاثر کرتا ہے ۔اس کے نام کی وجہ تسمیہ اس کا CROWN SHAPE ہونا ہے۔ یہ وائرس عام طور سے چمگادڑ،سانپ بالخصوص سمندری سانپ اور دودھ پلانے والے جانوروں میں پایا جاتا ہے ۔

کورونا وائرس کی شناخت سب سے پہلے ۱۹۶۰ء؁ میں ہوئی تھی لیکن آ ج تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ آخر یہ کہاں سے آیااور اس کی پیدائش کے اسباب کیا ہیں ؟ کورونا وائرس ماضی میں بھی سیویئر اکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (SARS) اور مڈل ایسٹ ریسپائرریٹری سنڈروم (MERS) جیسی عالمی وباء کا سبب بن چکا ہے۔

کورونا وائرس عام طور سے ناک کی غشاء مخاطی اور بالائی نظام تنفس میں تعدیہ کا سبب بنتاہے اور اس کی علامات نزلہ زکام یا فلو کی طرح ہی ہوتی ہیں لیکن اس کی کچھ صورتیں انتہائی خطرناک بھی ہوتی ہیں جبکہ اس کا انفیکشن اگر Lower Respiratory Tract تک پہنچ جاتا ہے تو مریض سانس کی سنگین بیماریوں جیسے نمونیہ اور(ARDS )Acute Respiratory Distress Syndrome میں مبتلاء ہو کر موت کے منہ میں جا سکتا ہے۔

کورونا وائرس چونکہ اکیسویں صدی کی دریافت ہے اس لئے طب یونانی میں اس کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں ملتا لیکن اطباء قدیم نے تعدیہ، متعدی امراض اور جراثیم کا تفصیلی و تحقیقی مطالعہ و مشاہدہ کیا ہے لیکن چونکہ اس دور میں خورد بین کا وجود نہیں تھا اس لئے خورد بینی جراثیم اور وائرس کا تذکرہ قدیم یونانی کتب میں نہیں ملتا ۔البتہ طب یونانی کے قدیم لٹریر میں نزلہ وبائی اور حمی وبائیہ کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے ۔جن کی علامات وعوارضات بہت حد تک کووڈ ۔۱۹ سے مشابہ ہیں اور ان کے علاج میںاطباء نے جن ادویہ کا استعمال کیا ہے وہی ادویہ کووڈ۔۱۹ سے تحفظ کے ساتھ ہی اس کی علامات و عوارضات کو کم کرنے میں بھی کارگر ثابت ہو رہی ہیں ۔البتہ حمی وبائیہ اور کووڈ ۔۱۹ کے اصول علاج میںبنیادی فرق یہ ہے کہ حمی وبائیہ میں اطباء نے ٹھنڈے پانی اور مشروبات پلانے کا حکم دیا ہے جبکہ کووڈ ۔۱۹ کی صورت میں ٹھنڈا پانی اور ٹھنڈے مشروبات مضر ثابت ہوتے ہیںاور نیم گرم پانی اور گرم مشروبات کا استعمال مفید ہوتا ہے۔

اسباب ـ:۔کورونا وائرس، چمگادڑ اور سانپ بالخصوص سمندری سانپ میںپایا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ مختلف دودھ پلانے والے جانوروں (Mammals) بالخصوص اونٹ وغیرہ میں ہوتا ہے ۔ اولاً یہ وائرس جانوروں سے انسانوںمیں پہنچتاہے، اس کے بعدایک انسان سے دوسرے انسان تک تیزی سے پھیلنے لگتاہے۔یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان کو Droplets کے ذریعہ ۶ فٹ کی دوری تک متاثر کرسکتا ہے ۔اس کا تعدیہ بھی ٹھیک اسی طرح Droplets کے ذریعہ ہوتا ہے جیسے کہ دیگر سردی ،زکام اور فلو پیدا کرنے والے وائرس سے ہوتا ہے یعنی متاثرہ افراد کے کھانسنے، چھیکنے یا پھر ان کے ذریعہ استعمال کئے جانے والے سامان جیسے رومال ،تولیہ وغیرہ استعمال کرنے یا پھر ان سے ہاتھ ملانے ،بوسہ لینے سے بھی یہ تعدیہ ہو سکتا ہے۔بسا اوقات اس سے متاثر مریض میں کوئی علامت نہ ہونے کے باوجود وہ دوسرے شخص کو متاثر کر سکتا ہے۔ چنانچہ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع رپورٹ کے مطابق چین کی ایک جرمن کمپنی میں کام کرنے والی متاثرہ عورت نے کوئی علامت نہ ہونے کے باوجود اس کمپنی کے چار افراد کو اس تعدیہ سے متاثر کیا جبکہ خود اس کے اندر اس وقت تک کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی تھی۔

اس وائرس کا تعدیہ عموماً سردی اور بارش کے موسم میں ہوتا ہے لیکن دیگر اوقات میں بھی لوگ اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

علامات:۔ اس کی علامات چارسے چودہ دن کے اندر ظاہر ہو سکتی ہیں ۔علامات عموماً وہی ہوتی ہیں جو عام طور سے بالائی نظام تنفس کے امراض میں ہوتی ہیںجیسے ناک بہنا، چھینک آنا،کھانسی،گلے میں خراش اور بخار وغیرہ۔جبکہ شدید صورتوں میں سانس میں تنگی اور آکسین کی شدید کمی کی وجہ سے مریض کی موت بھی ہو سکتی ہے۔

اگرکورونا وائرس کا یہ انفیکشن Lower Respiratory Tract یعنی نچلی سانس کی نلی اور پھیپھڑوں تک پہنچتا ہے تو نمونیہ یا پھر Acute Respiratory Distress Syndrome (ARDS ) بھی ہو سکتا ہے بالخصوص چھوٹے بچوں ،بوڑھے لوگوں میںاور ان لوگوں میں جن کی قوت مناعت (Immune Power)کمزور ہے یا پھر جن کو پہلے سے کوئی مزمن مرض جیسے ٹی بی،شوگر یا دل کی کوئی بیماری وغیرہ ہے ۔ایسی صورت میں یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

تفتیش (Investigations):۔ صرف علامات کی بنیاد پر یہ تشخیص کرنا ممکن نہیں کہ یہ کورونا وائرس کا تعدیہ ہے یا پھر کسی اور وائرس جیسے Rhinovirus وغیرہ کا تعدیہ ہے یا صرف موسمی نزلہ اور فلو وغیرہ ؟ اس لئے اس کی تشخیص کی لئے ناک اور گلے کی رطوبات کا کلچر اور خون کی جانچ ناگزیر ہوتی ہے۔

کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں میں عموماً کریات بیضاء (WBC) خاص طور سے Lymphocytesکی کمی ہوتی ہے ۔

اگر مرض معمولی ہوتا ہے یعنی صرف بالائی نظام تنفس (Upper Respiratory Tract) تک محدود رہتا ہے تو حلق اور ناک کی رطوبات کا نمونہ (Nasopharyngeal Swab) لے کر اس کی جانچ کی جاتی ہے۔جبکہ سنگین صورت حال میں درج ذیل جانچ بھی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

Chest X-ray

Real Time Polymerase Chain Reaction (RT-PCR)

Broncho Alveolar Lavage (BAL)

Immunofluorescence assay (IFA)

علاج:۔ کورونا وائرس کے علاج کے لئے ابھی تک کوئی موثر دوا موجود نہیں ہے ،نہ ہی کوئی Antiviralدوا اس کے علاج میں موثر پائی گئی ہے۔ عام حالات میںاس کا علاج بھی ٹھیک اسی طرح کرتے ہیں جیسے عام نزلہ (Common Cold) کا کیا جاتا ہے۔
کچھ مریضوں میں یہ معمولی انفیکشن شدید نمونیہ یا Acute Respiratory Distress Syndrome (ARDS) میں تبدیل ہو سکتا ہے ۔ایسی صورت میں مریض کو ہاسپٹل میں ایڈمٹ کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

طب یونانی بھی اس کے علاج کا دعوی نہیں کرتی ہے بلکہ Wholistic Approach کے طور پر مریض کی قوتوں کی نگرانی کرتے ہوئے چند ادویہ وتدابیر کے استعمال سے مریض کی قوت مدافعت و قوت مناعت کو قوی کرنے کی کوشس کی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں طبیعت خود مرض کا مقابلہ کرتی ہے اور طبیعت ہی مریضوں کو صحت یاب کرتی ہے۔

اصول علاج:۔وبائی امراض میں اصولاً مریض کی قوتوں کی نگرانی کی جاتی ہے ۔اعضاء رئیسہ کی تقویت کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ مفرحات و مقویات قلب ادویہ استعمال کی جاتی ہیں۔تسکین حرارت کے لئے اندرونی و بیرونی طور پر مسکنات(مطفیات حرارت) دی جاتی ہیں۔ دفع سمیت کے لئے ادویہ تریاقیہ کھلائی جاتی ہیں۔

یونانی فلاسفہ و اطباء کے مطابق طبیعت ہی اصل معالج ہوتی ہے ،جسے قوت مدبرہ بدن بھی کہا جاتا ہے ۔یہی قوت بدن کے تمام افعال کو کنٹرول کرتی ہے ۔طبیعت ہی کا کام مرض کی مدافعت کرنا ہے اور طبیب کا کام طبیعت کی معاونت کرنا ہے۔ا س نظریہ کو جدید اطباء اور فلاسفہ نے بھی تسلیم کیا ہے ۔چنانچہ ماہر نفسیات ڈاکٹر ویل فریڈ لکھتا ہے کہ

’’یونانی حکیم بقراط کے اس اصول پر میرا ایمان ہے کہ فطرت (طبیعت) ساری بیماریوں کی معالج ہے۔ہم خواہ کچھ کیوں نہ کریں حالات ہمیشہ آخر میں فطرت ہی کے سہارے کے لئے مجبور ہوتے ہیں ہم جس قدر فطری طریقے استعمال کرتے ہیں فطرت اسی قدر ہماری مدد کرتی ہے۔‘‘ (۱) اسی نظریہ کو ڈاکٹر لائل شیرالڈ نے ان الفاظ میں پیش کیا ہے۔ ’’کبھی کوئی ڈاکٹر اچھا نہیں کرتا ۔وہ جو کچھ بھی کرتا ہے صرف اتنا کہ مریض کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ خود کو ان حالات میں ڈھال دے جہاں فطرت اس کے علاج میں خود معاون ہو جائے۔‘‘(۱)

ہمہ جہت شخصیت – ملک زادہ منظور احمد

امراض سے تحفظ میں جو قوت کام کرتی ہے اس کو بھی طب جدید نے بعینہ تسلیم کیا ہے اور اس قوت کو قوت مدافعت یا ’’قوت مناعت‘‘ (Immunity)کہا جاتا ہے ۔چناچہ جب تک طبیعت اور قوت مناعت قوی رہتی ہے جراثیم اور تعدیہ کا اثر جسم پر نہیں ہوتا اور جب یہ کمزور ہوتی ہے تو معمولی وائرس اور جراثیم بھی مرض کا سبب بن جاتے ہیں۔اب تک کے مشاہدے اور تحقیقات کے مطا بق اس مرض (کووڈ ۔۱۹)میں بھی وہی لوگ مبتلا ہوتے ہیں جن کی طبیعت اورقوت مناعت (Immunity)کمزور ہوتی ہے جیسے بچے اور بوڑھے لوگ جنہیں اطباء ابدان ضعیفہ سے تعبیر کرتے ہیں یا پھر وہ لوگ جن کی قوت مناعت کسی مزمن مرض (جیسے دق،ذیابیطس امراض قلب وغیرہ)کے نتیجہ میں کمزور ہو گئی ہو۔اور بغیر کسی دوا کے وہی مریض صحت یاب ہوتے ہیں جن کی طبیعت اور قوت مناعت قوی ہوتی ہے یا دوران مرض مقوی غذائو ںاور دوائوں سے قوی کر دی جاتی ہے۔

طب یونانی کے مطابق طبیعت اورقوت مناعت کا انحصار رطوبت غریزیہ و حرارت غریزہ کی تقویت پر ہوتا ہے اور رطوبت غریزیہ و حرارت غریزیہ کی تقویت کا انحصار اسباب ستہ ضروریہ پر ہو تا ہے۔اس لئے طبیعت اور قوت مناعت کی تقویت کے لئے اسباب ستہ ضروریہ (۱۔ہوا ۲۔ماکول و مشروب ۳۔حرکت و سکون بدنی ۴۔حرکت و سکون نفسانی ۵۔نوم و یقظہ ۶۔احتباس و استفراغ )پر عمل ناگزیر ہے ۔ مذکورہ اسباب میں سے کسی کی بھی بے اعتدالی رطوبت غریزیہ وحرارت غریزیہ میں کمی کا باعث ہو گی جس کے نتیجہ میں طبیعت اور قوت مناعت کمزور ہو گی جوبہت سے امراض کا بھی پیش خیمہ ثابت ہو گی۔

اطباء قدیم ہوائی آلودگی اور اس سے پیدا ہونے والے امراض سے بخوبی واقف تھے یہی وجہ ہے کہ ان وبائی امراض سے بچنے کے لئے تحفظی تدابیر پر انتہائی جامع لٹریچر بھی طب یونانی میں موجود ہے۔خاص طور سے بقراط ، جالینوس اور زکریا رازی نے اس موضوع پر سیر حاصل کام کیا ہے ۔شیخ الرئیس ابن سینا نے وبائی امراض کا سبب ہوا کے تعفن کو قرار دیا ہے،جس کے نتیجہ میں بدن کے اخلاط متعفن ہو جاتے ہیں ، (۲)اسی طرح نجیب الدین سمرقندی لکھتے ہیں کہ ’’وباء ایک تعفن (عفونی تغیر ) ہے جو ہوا میں پیدا ہوتا ہے۔‘‘ (۳)

خوشبو کا سفر ، پروین شاکر بارے ایک بہترین تحریر

اس متعفن ہوا کو اطباء ہواء وبائی سے تعبیر کرتے ہیں جو عموما وبائی امراض کا سبب ہوتی ہے ۔ اس کے اسباب پر بحث کرتے ہوے ابن رشد بقراط کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ

’’کبھی ہواء وبائی اس طرح سے پیدا ہوتی ہے کہ پانی میں مردار اور سڑی ہوئی چیزوں سے اٹھنے والے بخارات جوہر ہواء میں مل جاتے ہیں اوروبائی امراض پیدا ہو جاتے ہیں۔‘ (۴) اطباء نے ہوا کی عفونت کے تعلق سے مذکورہ اسباب کے علاوہ بہت سے دیگر اسباب کا بھی ذکر کیا ہے ۔(۵) جن کی تفصیل اطباء قدیم کی تصانیف میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ وبائی امراض کے تعلق سے علی ابن ربن طبری کا خیال ہے کہ ’’جب ایک مرض تمام لوگوں میں عام ہو جائے اس وقت مرض کا سبب غذاء کا فساد نہیں بلکہ ہوا کا فساد ہوا کرتا ہے۔‘‘ (۶) کووڈ۔۱۹ کا تعلق چونکہ نظام تنفس سے ہے اس لئے اس سے تحفظ اور علاج دونوں کے لئے سب سے پہلے ہوا کا صاف ہونا ناگزیر ہے ۔ہوا جس قدر صاف ہو گی آپ اسی قدر اس مرض سے محفوظ رہیں گے ۔اسی طرح اس کے علاج کے لئے بھی سب سے پہلے ہوا کا صاف ہونا ضروری ہے جیسا کہ رازی کا خیال ہے کہ ’’اگر تم کسی مریض کا علاج بالکل صحیح طریقہ پر کر رہے ہو لیکن اس کے ارد گرد کی ہوا غیر موافق ہو تو تمہارا علاج بیکار ہے۔ اس لئے خیال رکھو کہ اس کے رہنے اور سونے کی جگہ کی ہواپوری طرح موافق ہو۔‘‘ (۷)

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

صاف ہوا کے ساتھ ہی مریض کو دیگر صحت مند افراد سے الگ تھلگ رکھنا بھی ضروری ہے مزید برآں اس جگہ کی ہوا کو صاف رکھنے کے لئے مختلف ذرائع( Sanitizers) کابھی استعمال کرنا چاہئے جیسا کہ رازی کا خیال ہے کہ ’’اگر ہواء میں عفونت پیدا ہو جائے اور نا پسندیدہ بو محسوس ہونے لگے اور چیچک ، خسرہ اور طاعون کی کثرت ہو جائے تو گہرے تہ خانوں ۔۔۔۔۔۔۔۔یا ایسے گھروں میں رہنا چاہئے جو ہواء سے دور ہوں مثلا وہ گھر جو عمارتوں کے وسط میں ہوں اور آس پاس سرکہ کا چھڑکائو کرنا چاہئے اور لوبان ،آسکے پتوںاور سعد کی دھونی دینی چاہئے اور کھانے پینے میں سرکہ کا کثرت سے استعمال کرنا چاہئے۔‘ ‘ (۷)

اسی طرح مجوسی نے بھی وباء کے ایام میں حفظ ما تقدم کے طو رپرہائش گاہ میں مختلف خوشبوں جیسے عود، صندل،کافور، مشک،سندروس اور کندر وغیرہ کی دھونی کرنے اور سرد پھولوں کے سونگھنے کے ساتھ ہی ایسی جگہ رہائش کا حکم دیا ہے جہاں سے اس متعفن ہوا کا گذر نہ ہو سکے جیسے کسی بلند مقام یا تہ خانے وغیرہ ،مزید برآں حفظ ماتقدم کے لئے دیواروں اور فرش پر سرکہ کا چھڑکائو اور خوشبودار پھولوں کو کثرت سے رکھنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔ (۵) اسی طرح ا طباء کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ وبائی مقام سے بھاگ کر لوگ دوسرے شہروں میں نہ جائیں ‘‘۔ (۳)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اطباء قدیم بھی Isolation اورSanitization کے اصول سے نہ صرف واقف تھے بلکہ متعدی امراض میں سختی سے ان اصولوں پر عمل بھی کرتے تھے۔

صاف ہوا کے ساتھ ہی صاف پانی کا استعمال بھی حفظ صحت اور علاج کے لئے نا گزیر ہے ۔اس لئے کہ پانی اگر فاسد ہو گا تو وہ غذا میں بھی فساد پیدا کر کے بہت سے امراض کا سبب بن جائے گا ۔جیسا کہ رازی کا خیال ہے کہ

’’اگر پانی فاسد ہے تو وہ غذاوں میں بھی فسادپیدا کر دے گا خواہ وہ غذائیں کتنی ہی اچھی ہوں ‘‘ (۷)

اس وباء کے دوران اس مرض سے تحفظ اور علاج کے لئے بالخصوص مریضوں کو نیم گرم پانی پلائیں۔برف کا پانی بالکل نہ استعمال کریں۔ سرد ہوا سے دور رہیں۔

ٖٖٖفکر فراہی کی ترویج وا شاعت میں مدرسۃ الاصلاح کی خدمات

مقوی اور متوازن غذا کا ستعمال کرنا چاہئے ۔اطباء کے مطابق وباء کے دوران مریض کو ،اگر قوت بحال ہو تو تین روز تک بالکل غذاء نہ دیں۔ اس کے بعد ملائم کھچڑی،مونگ کی دال کا پانی یا آش جو پلائیں۔زود ہضم اور مقوی غذائیں مثلاً شوربا یخنی،شیرہ مغز بادام میں پکایا ہواساگودانہ،مونگ کی دال چپاتی یا شوربا چپاتی کھلائیں۔

قابض وبادی اور گرم خشک چیزوں سے پرہیز کریںمثلاً دودھ،دہی،چھاچھ،ترشی ،تیل، اروی،آلو ،بھنڈی،گڑ،شکر اور لال مرچ بالکل نہ کھائیں۔

حد سے زیادہ جسمانی حرکت کرنا(محنت مشقت کرنا) یا بالکل حرکت نہ کرنا دونوں صورتوں میں حرارت غریزیہ ورطوبت غریزیہ کم ہوتی ہے ۔اسی طرح حد سے زیادہ رنج و غم یا ذہنی تنائو بھی رطوبت غریزیہ و حرارت غریزیہ میں کمی کا سبب ہو تاہے ۔اس لئے حسب استطاعت ہلکی پھلکی ورزش ضرور کریں۔

زیادہ جگنے یا زیادہ سونے سے بھی حرارت غریزیہ و رطوبت غریزیہ میں کمی کا سبب ہوتا ہے ۔ہر شخص کو متوازن نیند سونا چاہئے۔

احتباس و استفراغ کا اعتدال بھی حفظ صحت و امراض کے علاج کے لئے نا گزیر ہے ۔اس لئے زود ہضم غذائوں کا استعمال کرنا چاہئے تاکہ قبض نہ ہونے پائے ۔اور ایسی غذائوں سے پرہیز کرنا چاہئے جو اسہال کا سبب بن سکتی ہوں ،اس لئے کہ قبض اور اسہال دونوں حرارت غریزیہ و رطوبت غریزیہ میں کمی کا باعث ہوتی ہیں جس کے نتیجہ میں طبیعت اورقوت مناعت کمزور ہوتی ہے۔

کووڈ۔۱۹ کے اس وبائی دور میں وباء سے محفوظ رہنے اور وباء کا شکار ہونے کی صورت میں جلد صحت یاب ہونے کے لئے طب یونانی کے مذکورہ ذریں اصول یعنی اسباب ستہ ضروریہ پر عمل کرنا ناگزیر ہے ۔اس کے ساتھ ہی اصول علاج کو مد نظر رکھتے ہوئے درج ذیل ادویہ و تدابیر کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مریض کو صاف اور کشادہ ہوادار کمرے میں رکھیں۔مریض کے پاس دوسرے آدمیوں کا ہجوم قطعاً نہیں ہونا چاہئے۔

حکیم مختار اصلاحی فن اور شخصیت

بہدانہ (۳۔۵ گرام)،عناب (۱۵دانہ) ،سپستاں( نو دانہ) کرنجوہ (۳۔۵ گرام) کو ۲۵۰ ملی لیٹر پانی میں جوش دے کرشیرہ مغز کدو( ۰۱۔۰۲ ملی لیٹر)اضافہ کریں اور شربت بنفشہ (۱۰۔۲۰ ملی لیٹر) ملا کرنیم گرم پلائیں۔

اگر کھانسی شدید ہو تو مذکورہ نسخہ میں شربت بنفشہ کے بجائے شربت خشخاش یا شربت اعجاز (۱۰۔۲۰ ملی لیٹر) شامل کر کے پلائیں۔

گلے میں درد ہو تو مذکورہ نسخہ میں شربت بنفشہ کے بجائے شربت توت سیاہ (۱۰۔۲۰ ملی لیٹر)کا اضافہ کریں۔

اگر کسی مریض کے سینہ یا پہلو میں درد ہو یا نمونیہ ہو جائے تو روغن بابونہ یا قیروطی آرد کرسنہ کی نیم گرم مالش کریں ۔

سانس میں تنگی کی صورت میں حب ضیق النفس (۲ عدد)ولعوق کتاں (۱۰۔۲۰ گرام) کا استعمال کریں ۔

مریض کے صحت یاب ہونے کے بعدضعف و نقاہت کے ازالہ کے لئے خمیرہ گائوزباں عنبری یا خمیرہ گائوزباں جواہر والا (۳۔۵ گرام) اول الذکر نسخہ کے ساتھ دیں۔

دیگر ادویہ مرکبہ میں علامات و عوارضات کے مطابق حب سرفہ (۱۲۵۔۲۵۰ ملی گرام)،خمیرہ بنفشہ (۱۰۔۲۰ گرام)، لعوق سپستاں (۱۰۔۲۰ گرام)، شربت صدر (۲۰۔۴۰ ملی لیٹر)، حب بخار (۲۵۰۔۵۰۰ ملی گرام)، حب مبارک (۱۔۲ گرام)، شربت توت سیاہ (۲۰۔۴۰ ملی لیٹر)، حب ہندی ضیقی (۱۲۵۔۲۵۰ ملی گرام)تریاق نزلہ (۳۔۵گرام)، شربت عناب (۱۰۔۲۰ ملی لیٹر)، شربت نزلہ (۱۰۔۲۰ ملی لیٹر) کا استعمال حسب ضرورت کسی حکیم کے مشورہ سے کیا جا سکتا ہے۔

۔ مفردات میں کلونجی (۱۔۲ گرام)، لہسن (۲۔۳ گرام)زنجبیل (۵گرام)، اصل السوس (۵۔۱۰ گرام)، افسنتین (۳۔۵ گرام)،تخم کثوث (۱۵ گرام)، خیار شنبر (۱۰۔۲۰ گرام) گلوء (۵۔۱۰ گرام) وغیرہ کا استعمال حسب ضرورت کر سکتے ہیں۔

حالیہ وباء کے تناظر میںوزارت ایوش نے بھی مذکورہ ادویہ کو مفید بتاتے ہوئے ان کے استعمال کی سفارش کی ہے ۔

اطباء کے مطابق نزلہ وبائیہ میں آٹھویں روز کے علاج کے بعد مادہ ممرضہ سمیہ بالکل بدن سے خارج ہو جاتا ہے۔ (۸)نو دن کے بعد مریض بالکل صحت یا ب ہو جاتا ہے ۔ طب جدید کے مطابق کووڈ۔۱۹ (COVID-91)کا مریض بھی نو دن کے بعد دوسروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت نہیںرکھتا جیسا کہ انڈین میڈیکل ایسوسئیشن (IMA)کے سابق صدر ڈاکٹر کے کے اگروال کا کہنا ہے کہ ’’ کووڈ۔۱۹ (COVID-91)کی علامات ظاہر ہونے کے نو دن بعد آپ دوسروں کو انفیکٹ نہیں کر سکتے ۔باوجود اس کے کہ آپ کا کووڈ۔۱۹ ٹسٹ مثبت (Positive) آتا ہے ۔ان کے مطابق یہ ٹسٹ ۲۸ دن تک مثبت (Positive) رہ سکتا ہے لیکن نو دن کے بعد مریض Infectiousنہیں رہتا۔ اس لئے مزید ۱۴ یا ۱۷ دن کورنٹائن (Quarantine)کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ڈاکٹر کے کے اگروال کے مطابق یہ Game Changing Information ہے۔

نویں روز سے ایسی ادویہ استعمال کریں جو دماغ،معدہ اور آنتوں کو قوت دیں اور عام مقوی جسم ہوں مثلاً کشتہ مرجان جواہر والا،جواہر مہرہ، کشتہ زمردکشتہ یاقوت اور حب جواہر میں سے کوئی ایک دوا خمیرہ گائوزباں جواہر والا یا مفرح باردیا خمیرہ مرواریدیا خمیرہ گائوزباں سادہ (۵۔۱۰گرام )میں ملا کر کھلائیں۔

حفظ ما تقدم:۔ اس مرض کی نہ تو کوئی موثر دوا ہے اور نہ ہی آج تک کوئی ویکسین ہی ایجاد ہو سکا ہے۔ حالیہ وباء کے بعد سے ساری دنیا کے سائنسداں اور طبی ادارے مسلسل اس کی ویکسین تیار کرنے کی کوشسوں میں مصروف ہیں۔ خدا کرے کہ وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوں اور دنیا کو اس وباء سے نجات دلا سکیں۔

سویا بین کی طبی افادیت

جب تک اس کا کوئی موثر ویکسین وجود میں نہیں آ جاتا، اس سے تحفظ کے لئے احتیاطی تدابیر ہی موثر علاج ہے۔اس سے تحفظ کے لئے وہی تدابیر کی جانی چاہیئے جو عام طور سے نزلہ (Common Cold) کی صورت میں اختیار کی جاتی ہیں۔

وباء کے دوران حفظ ما تقدم کے طور پر تریاق وبائی ، تریاق اربعہ وغیرہ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

قوت مناعت کی تقویت کے لئے مقوی غذائوں و دوائوں کا استعمال کرنا چاہئے۔ خمیرہ مروارید خاص (۳۔۵ گرام) یا سفوف اسگند (۵گرام) کا استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ مفردات میں زنجبیل گلوء اور اصل السوس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ معمولی علامات کی صورت

کووڈ ۔۱۹ کا حملہ سب سے زیادہ نظام تنفس (Respiratory System) پر ہو تا ہے اس لئے نظام تنفس کی تقویت کے لئے نظام تنفس کی ورزش ضرور کریں ۔اس کے لئے حسب ضرورت Respirometer کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔

نظام تنفس کی صحت و تقویت کے لئے انکباب (Steam Inhalation) بھی انتہائی مفید ہے۔حسب ضرورت اس میں دوائوں کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔عرق عجیب کا استعمال انتہائی مفید ہو تا ہے۔

کسی بھی وبائی مرض سے سے تحفظ کی سب سے بہتر اور کامیاب تدبیر اس حدیث پر عمل کرنا ہے ۔(جب تمہیں کسی سرزمین میں ’’طاعون ‘‘ کی وباء کا علم ہو تو اس سرزمین میں داخل مت ہو۔اور جب کسی ایسی سرزمین میں ’’طاعون‘‘ پھیل جائے جہاں تم پہلے سے موجود ہو تو تم اس سرزمین سے باہر مت نکلو۔صحیح بخاری:۹۶۵۳۔باب:۔ما یذکر فی الطاعون) گو کہ مذکورہ حدیث طاعون کے حوالے سے ہے لیکن آج بھی وبائی امراض سے تحفظ کا یہی بنیادی اصول ہے اور جدید میڈیکل سائنس بھی تمام وبائی امراض کی روک تھام کے لئے اسی اصول پر عمل کرتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق سماجی دوری (Social Distancing) پر عمل کریں ۔

پر ہجوم جگہوں پر جانے سے پرہیز کریں۔اگر جانا ضروری ہو تو ماسک کا استعمال ضرور کریں۔

اپنے ہاتھوں کو صابن یا پھر کسی اچھے Sanitizerسے دن میں بار باراچھی طرح صاف کریں۔

اس کے علاوہ عمومی حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کریں

حلال کھائیں،حرام جانوروں اور حشرات الارض سے پرہیز کریںاور ان کی منڈیوں میں ہرگزنہ جائیں ۔

وٹامن سی سے بھرپور پھلوں اور غذاوں کا استعمال زیادہ کریں ۔

قوت مناعت (Immune power) کو تقویت دینے والی اغذیہ و ادویہ کا استعمال کریں ۔

سردی زکام کے مریضوں سے دور رہیں اور غیر ضروری ملاقات،اورمصافحہ ومعانقہ سے پرہیز کریں۔

اپنے ہاتھ اورانگلیوںکو آنکھ،ناک اور منہ سے دوررکھیں۔

متاثرہ افراد سے بہت زیادہ قربت (Close Contact) سے بچیں۔

مریضوں کے لئے ہدایات:۔

سردی، زکام ،بخار اور کھانسی ہونے پر خود کو الگ تھلگ (Isolate) رکھیں۔

ڈاکٹر کے مشورہ سے دوائیں لیں ۔ خود علاجی (Self Medication) سے پرہیز کریں۔

ادھر ادھر تھوکنے سے پرہیز کریں۔

کھانستے یا چھینکتے وقت منہ اور ناک کو صاف کپڑے یا رومال سے ڈھک لیں تاکہ Droplets فضاء میں نہ پھیلیں۔

ایک ہی رومال بار بار نہ استعمال کریں۔بہتر یہ ہے کہ ٹشو پیپر استعمال کریں اور اسے ادھر ادھر نہ پھینکیں بلکہ جلادیں یا کسی اور طریقے سے اسے ضائع (Dispose) کر دیں۔

۔وقفہ وقفہ سے نیم گرم پانی یا گرم مشروبات کا استعمال کرتے رہیں یعنی گلا خشک نہ ہونے دیں۔

زیادہ سے زیادہ آرام کریں۔

مصادر و مراجع

نوٹ:۔اس مقالہ میں مفرد ادویہ و مرکبات کے نسخے درج ذیل کتب اوروزارت ایوش کی گائڈ لائن سے ماخوذ ہیں ۔

۱۔اصول طب۔حکیم سید کمال الدین حسین ہمدانی۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی۔۲۰۰۶ء؁،ص،۴۲

۲۔ ترجمہ و شرح کلیات قانون ۔ابن سینا،جلد،۱ول و دوم ۔مترجمہ حکیم کبیرالدین،حیدرآباد،۱۹۵۴؁ء،ص۲۳۰، ۲۶۸،۲۶۹،۲۷۱

۳۔شرح اسباب ۔محمد کبیر الدین ،حکمت بک ڈپو،حیدرآباد حصہ چہارم، ب ت، ص ۲۴۱، ۲۴۳،۲۴۵

۴۔کتاب الکلیات۔ابن رشد، سی سی آر یو ایم ،نئی دہلی ،ب ت ،ص،۱۶۳،۳۵۵،۳۶۵

۵۔کامل الصناعہ۔جلد اول و دوم،علی ابن عباس مجوسی۔ مطبع نولکشور لکھنئو ۱۸۸۹؁ء،ص ۲۷۱، ۲۸۲۔

۶۔فردوس الحکمہ۔ ربن طبری ۔ہمدرد فاونڈیشن پریس،کراچی،ب ت، ص، ۳۳،

۷۔کتاب المرشد۔زکریا رازی۔ترقی اردوبیورو،نئی دہلی،۲۰۰۰؁ء، ص ۳۷،۳۸،۳۹،۴۳،۱۰۳

۸۔مطب عملی،ص،۸۱ ۔ اس نام سے کئی اطباء کی کتب موجود ہیں ۔ زیر نظرکتاب کے ابتدائی صفحات غائب ہیں۔اس لئے اس کے مصنف، ناشر اور سن اشاعت کا پتہ نہیں ۔

مفردات اطباء میڈیکل سائنس مفردات اطباء میڈیکل سائنس مفردات اطباء میڈیکل سائنس مفردات اطباء میڈیکل سائنس مفردات اطباء میڈیکل سائنس مفردات اطباء میڈیکل سائنس مفردات اطباء میڈیکل سائنس مفردات اطباء میڈیکل سائنس مفردات اطباء میڈیکل سائنس مفردات اطباء میڈیکل سائنس مفردات اطباء میڈیکل سائنس

اپنا تبصرہ بھیجیں