47

کورونا موبائل اسکرین اور کرنسی نوٹ پر 28 دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے،محققین

Spread the love

کینبرا(صرف اردو آن لائن نیوز) کورونا موبائل اسکرین

آسٹریلوی محققین نے کہاہے کہ کووڈ 19 کا سبب بننے والا کورونا وائرس کرنسی

نوٹ، موبائل فون کے اسکرین، شیشہ اور اسٹین لیس اسٹیل کی سطح پر فلو کے

وائرس سے کہیں زیادہ، 28 دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق

آسٹریلیا کی نیشنل سائنس ایجنسی (سی ایس آئی آر او)کے سائنس دانوں کی ایک

تازہ تحقیق میں کہاگیاکہ 20 ڈگری سیلسیئس (68 ڈگری فارن ہائٹ)تک کے درجہ

حرات والے ماحول میں کورونا کی بیماری کا سبب بننے والا سارک 2وائرس کرنسی نوٹ اور موبائل فون کی اسکرین کی شیشے جیسی چکنی سطحوں پر

28 دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔وائرولوجی نامی جریدے میں شائع اس تحقیق میں

بتایا گیا کہ کورونا وائرس کے مقابلے میں انفلونزا اے کا وائرس اسی طرح کی

چکنی سطحوں پر صرف 17 دنوں تک ہی زندہ رہ پاتا ہے۔اس تحقیق کی سربراہی

کرنے والے ڈاکٹر شین ریڈل کا کہنا تھاکہ اس تحقیق سے ہاتھوں کو دھونے اور

جہاں ممکن ہو اس جگہ کو سینیٹائز کرنے اور وائرس کے ربط میں آنے والے

سطحوں کو صاف کرنے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ کورونا

وائرس کم درجہ حرارت پر کھردری یا ناہموار سطح میں کم وقت تک زندہ رہ پاتا

ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ کپڑے جیسی کھردری سطح پر یہ وائرس

14دنوں کے بعد زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔اس سے قبل تجربہ گاہوں میں کیے گئے

تجربات سے پتہ چلا تھا کہ کرنسی نوٹ اور شیشے پر کورونا وائرس دو یا تین

دنوں تک ہی زندہ رہ سکتا ہے۔ جب کہ پلاسٹک اور اسٹین لیس اسٹیل کی سطح پر

یہ چھ دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔لیکن آسٹریلوی ایجنسی سی ایس آئی آر او نے اپنی

تحقیق میں کہا کہ یہ وائرس کافی مضبوط ہے اور 20 ڈگری سیلسیئس درجہ

حرارت اور اندھیرے میں موبائل فون کے شیشے، پلاسٹک اور بینک کرنسی نوٹ

جیسی چکنی سطحوں پر 28 دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔یہ تجربات 20، 30 اور

40 ڈگری سیلسیئس کے مختلف درجہ حرارت والے ماحول میں کیے گئے۔ تحقیق

میں پایا گیا کہ گرم ماحول میں وائرس کے زندہ رہنے کی شرح کم ہوجاتی ہے۔

ریڈل کا کہنا تھا،گرمی کا موسم یقینی طورپر اس وائرس کے لیے ایک اہم عنصر

ہو گا کیونکہ زیادہ گرم درجہ حرارت میں یہ وائرس زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ

سکتا ہے۔آسٹریلوی محققین نے تمام تجربات تاریک کمروں میں کیے تاکہ ان پر

الٹروائلٹ روشنی کا اثر نہ پڑے کیوں کہ محققین کے مطابق سورج کی روشنی

وائرس کو ختم کر سکتی ہے۔کارڈف یونیورسٹی کے کامن کولڈ سینٹر کے سابق

ڈائریکٹر پروفیسر ران ایکسل نے اس تحقیق پر نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ

اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ وائرس 28 دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے، اس سے

لوگوں میں غیرضروری خوف پیدا ہو گا۔

کورونا موبائل اسکرین

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں