zara waseem 40

بالی وڈ اداکارہ توبہ کی راہ پر گامزن شوبز کو الوداع

Spread the love

حکیم محمد شیراز، سائنسداں و لکچرر شعبہ معالجات، کشمیر یونیورسٹی، کشمیر

برائے رابطہ
+919797750472

ارشاد ربانی ہے:یا ایھا الذین امنو ا توبو الی اللہ توبۃ ً نصوحاً(سورۃ تحریم، آیۃ66)۔ترجمہ:’’اے ایمان والو! اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔‘‘

خوش نصیب ہیں اللہ کے وہ بندے اور بندیاں جنھیں سچی پکی توبہ کی توفیق نصیب ہو جائے۔ بالی ووڈ کی اداکارہ اور بگ باس 6 فیم ثناء خان نے گذشتہ دنوں شوبز کی دنیا کو الوداع کہہ کر اپنے اللہ کے حضور توبہ کرکے پاکدامنی کی زندگی گزارنے کا عہد کیا ہے نیز مسلمانوں سے ان کیلئے دعا کی اپیل کی ہے۔

انھوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اردو ہندی اور انگریزی میں ایک لمبا نوٹ لکھا کہ میں آج کے بعد سے ہی اعلان کرتی ہوں، میں نے اپنے شوبز طرز زندگی کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ دیا اور انسانیت کی خدمت اور اپنے خالق کے احکامات پر عمل کرنے کا عزم کیا ہے۔

تمام بہن بھائیوں سے التجا ہے کہ وہ میرے لئے اللہ سے دعا کریں کہ وہ میری توبہ قبول فرمائے اور مجھے اپنے خالق کے احکامات اور انسانیت کی خدمت میں گذارنے کے اپنے عزم کے مطابق زندگی گزارنے کی حقیقی صلاحیت عطا فرمائے، اور مجھے استقامت عطا کرے۔ آخر میں، تمام بھائیوں اور بہنوں سے گزارش ہے کہ وہ شوبز کے کسی بھی کام کے سلسلے میں مجھ سے مشورہ نہ کریں۔’’مرنے کے بعد کیا ہوگا‘‘یہ سوال ان کے احساس پر قبضہ جمائے ہوے تھا۔ اس کا جواب جب انھوں نے اسلام میں تلاش کیا تو اللہ کی جانب سے ہدایت کا پروانہ مل گیا۔”

وجہ تم ہو، جئے ہو اور بہت ساری دیگر علاقائی فلموں کے علاوہ، ثناء ٹی وی پر جھلک دکھلا جا 7، کامیڈی نائٹس بچاؤ، انٹرٹینمنٹ نائٹ اور کچن چیمپیئن جیسی رئیلٹی شوز کا حصہ رہی ہیں۔ ثنا کو کبھی کبھار بگ باس کے کئی سیزن میں بطور مہمان دیکھا جاتا رہا ہے۔

وجہ و ذریعہ چاہے جو ہو ، موصوفہ کا اپنے پاک پروردگار کی طرف رخ کرنا ایک خوش آئند بات ہے نیز ان تما م خواتین اور بچیوں کے لیے انتباہ ہے ، جن کا منتہائے مقصد گلیمر ، دکھاوا نیز فلمی آئی کَن بننا ہے اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے وہ کسی بھی حد کو پار کرنے کے لیے تیار ہیں۔

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

زائرہ وسیم کے نام سے تو آپ آشنا ہوں گے 2016 میں ریلیز ہونے والی سُپر ہٹ بالی وڈ فلم دنگل میں انھوں نے ایک مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر 15 سال تھی۔اس کے بعد وہ سیکرٹ سُپر سٹار جیسی انڈین فلمز میں نظر آئیں۔ ان دونوں فلموں میں انھوں نے بالی وڈ سٹار عامر خان کے ساتھ کام کیا تھا۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والی زائرہ وسیم نے، جن کی عمر اب 19 برس ہے، اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں فلمیں چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس پیشے کی وجہ سے ’دین کے ساتھ ان کا رشتہ خطرے میں پڑ رہا تھا۔‘

نیز انھوں نے مختصراً حضرت عمر ؓ اور دیگر اسلاف کا تذکرہ کیا۔عقائد اور ایمانیات پر باتیں کیں۔بس پھر کیا تھا، پوسٹ وائرل ہو گئی اور ان کے اس فیصلے کو مذہب سے جوڑنے پر کافی تنقید ہوئی۔بالی وڈ سٹارز سے لے کر صحافیوں تک کئی لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ اس فیصلے کو مذہب سے جوڑنا غلط تھا اور کیا وہ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ جو دوسرے مسلمان اس پیشے سے جڑے ہیں ’وہ گناہ گار ہیں؟‘ کچھ نے اس کے بعد اسلام پر تنقید شروع کر دی کہ ’یہ تو مذہب ہی خواتین کے حقوق کے خلاف ہے‘۔

تاہم یہاں کچھ باتیں قابل غور ہیں۔فلموں اور ڈراموں کی دنیا کی میں پردہ پر کیا ہوتا ہے پردہ کے پیچھے کیا ہوتا اس سے سب واقف ہیں۔ اس وقت دنیا میں عریانیت اور فحاشی کا جو سیلاب آیا ہوا ہے اس کے پیچھے فلمی دنیا کا بڑا ہاتھ ہے بلکہ پورا ہاتھ ہے۔ راقم، مادیت پرستی اور ہوا پرستی کی دنیا میں پڑے ہوئے لوگوں سے یہ عرض کرنا چاہتا ہے کہ جب تک انسان اجالے میں نہیں آتایا اجالے کو دیکھ نہیں لیتا اس وقت تک اسے اندھیرے اور اجالے کا فرق سمجھ میں نہیں آتا۔قلوب و اذہان پر جس وقت باری تعالیٰ کی جانب سے ہدایت کا فیضان ہوتا ہے اس وقت دلوں کی کیا کیفیت ہوتی ہے اس کو وہی شخص جانتا ہے جو اس مرحلہ سے گزرتا ہے۔

زر پرستی، زن پرستی، نفس پرستی، ہوا پرستی یہ سب بت پرستی کی اقسام ہیں ، خدا پرستی کوئی اور چیز ہے۔ آئیے اس چیز قرآن پاک کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے کہ وہ شخص جو مردہ تھا پھر اللہ نے اسے زندگی دی اور اسے ایک نور دیا جسے لیے ہوئے وہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے کیا وہ اس شخص کے مثل ہو سکتا ہے جو گمراہی کے اندھیروں میں پڑا ہو ا اور اس سے نکل ہی نہ سکتا ہو؟ یوں تو کافروں کے لیے ان کے کرتوت خوشنما بنا دیے گئے ہیں۔(سورہ انعام ، آیت نمبر ۲۲)

U may kiss the bride now

تاہم یہاں مصنف اپنی ان بچیوں اور خواتین اسلام سے جن کے خواب، اور تمنائیں فلمی دنیا تک ہی محدود ہیں اور وہ للچائی نظروں سے ہو ا پرستوں کو دیکھتی رہتی ہیں نیز ان کا منتہائے مقصد اداکارہ بننا ہے ا دبا ً عرض کرنا چاہتا ہے کہ اس سراب سے نکلیں۔حقیقت کی دنیا میں آئیں۔جو چیز پردے پر دکھائی جاتی ہیں ان کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا ۔حقائق تو قرآن نے بیان فرمائے ہیں۔پچھلی قوموں کے واقعات پیش کیے ہیں۔نیز ہوا پرستی کے نتیجے میں جو عذاب ان پر نازل ہوا ہے اس کو بیان کیا ہے۔آپ کے لیے سنا خاں اورزائرہ وسیم کا فیصلہ مشعل راہ ہے جنھوں نے چمک و دمک کی عروج پر پہنچ کر ہوا پرستی کو طلاق دی ہے۔پتہ نہیں یہ کس کی نگاہوں کا فیضان تھا کہ ان بچیوںنے ہدایت کے نور اور گمراہی کے اندھیرے میں تمیز کی۔اپنے اسلاف کی سیرت سے صحیح معنوں میں خوشہ چینی کی۔اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا۔بقول شخصی

حاصل یہ کہ کئی لوگ فیصلے کر کے، انھیں واپس لے لیتے ہیں اور کئی ان فیصلوں پر قائم رہتے ہیں۔ لیکن بہرحال لوگ اپنی زندگی کیسے گزارنا چاہیں یہ ظاہر ہے ان کا اپنا فیصلہ ہونا چاہیے۔تاہم علمائے حقانی قوم کے دیگر بزرگان دین نے ثناء خان کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔مزید بر آں عالم اسلام کی قد آور شخصیات نے اپیل کی ہے کہ ہم سب کو اس کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیئے۔ تاہم ہم بارگاہ الٰہی میں دعا گو ہیں کہ اللہ پاک اس بچی کو استقامت نصیب فرمائے۔ نا بکاروں اور نا ہنجاروں کی بات میں آکر ضمیر فروشی بلکہ قوم فروشی سے بچائے۔

بالی وڈ اداکارہ توبہ بالی وڈ اداکارہ توبہ بالی وڈ اداکارہ توبہ

اپنا تبصرہ بھیجیں