51

سعودی عرب میں خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کی عدالتی تحقیقات

Spread the love

سعودی عرب خواتین وراثت

ریاض (صرف اردو آن لائن نیوز )سعودی عرب کی انسانی حقوق کونسل نے

انکشاف کیا ہے کہ مملکت میں خواتین کو وراثت میں ان کے آئینی اور شرعی

حقوق سے محروم کیے جانے کے بعض واقعات کی عدالتی سطح پر تحقیقات کی

جا رہی ہیں۔عر ب ٹی وی کے مطابق انسانی حقوق کونسل کا کہنا تھا کہ خواتین پر

تشدد، انہیں وراثت سے محروم کرنے اور ان کے دیگر بنیادی حقوق سے محروم

کرنے کے واقعات کے ضمن میں دائر متعدد درخواستوں کی چھان بین جاری ہے۔

انسانی حقوق کونسل کا کہنا تھا کہ ماضی میں خواتین بعض وجوہ کی بنا پر وراثت

میں اپنا حق مانگنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔ ان وجوہات میں لڑکیوں کو ان کے

خاندانوں کی طرف سے سماجی دباو یا خاندان کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کا

اندیشہ رہا ہے۔ ایک سبب خواتین کا وراثت میں شرعی حقوق کے حوالے سے آگاہ

نہ ہونا بھی ہے۔ سعودی عرب میں خواتین کے حقوق بالخصوص ان کے وراثت

میں حق کے حوالے سے موثر قوانین موجود ہیں۔ادھر سعودی عرب میں انسانی

حقوق کونسل کی رکن ڈاکٹر آمال الھبدان نے کہا کہ خواتین کو ان کے موروثی

حقوق سے محروم رکھنا ایک جرم ہے اور سعودی عرب میں ایسے جرم کی کوئی

گنجائش نہیں۔ مملکت کا قانونی ڈھانچہ ایسے تمام جرائم کی روک تھام کرتا ہے۔

بالخصوص سعودی عرب کی عدلیہ خواتین کو ان کے موروثی حقوق دلوانے میں

سب سے موثر ادارہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کونسل

عدالتوں اور دوسرے ذمہ دار اداروں کے ساتھ مل کر نا انصافی کا شکار خواتین

کو انصاف فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ

وہ اپنے حقوق کے لیے کسی دبائو میں نہ آئیں اور اگران کیساتھ ان کے خاندان کی

طرف سے کسی قسم کی نا انصافی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف آواز

بلند کریں۔ انسانی حقوق کونسل کے دفاتر میں فون کرکے اپنی شکایت درج کرائیں

یا کسی بھی متعلقہ کسی دوسرے ادارے سے رجوع کریں تاکہ بروقت کارراوئی

عمل میں لائی جا سکے۔

سعودی عرب خواتین وراثت

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں