54

بابری مسجد کا انہدام منظم سازش کا نتیجہ تھا

Spread the love

لبراہن کمیشن رپورٹ کے اہم حصوں کی تلخیص

سہیل انجم

بابری مسجد انہدام معاملے میں خصوصی سی بی آئی عدالت کے فیصلے نے تمام انصاف پسند طبقات اور انہدام کے چشم دید گواہوں کو ششدر کر دیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے نے کہ بابری مسجد کے انہدام کی کوئی سازش نہیں رچی گئی تھی اور یہ واقعہ اچانک ظہور پذیر ہو گیا تھا، پوری دنیا میں بحث کا دروازہ کھول دیا ہے۔ ہندوستانی میڈیا کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا میں بھی اس فیصلے پر اظہار حیرت کیا جا رہا ہے اور عدلیہ کی غیر جانبداری پر شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ بابری مسجد کو منظم انداز میں گرائے جانے کا دلخراش منظر عالمی میڈیا نے بھی دیکھا تھا۔ لہٰذا اس سے بھی یہ فیصلہ ہضم نہیں ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی والی سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے9 نومبر 2019 کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں انہدام کو غیر قانونی و غیر آئینی عمل قرار دیا تھا۔ لہٰذا یہ امید تھی کہ اگر بڑے رہنماؤں کو چھوڑ بھی دیا گیا تو کم از کم دوسرے درجے کے رہنماؤں کو کچھ نہ کچھ سزا ضرور ہوگی۔ لیکن خصوصی عدالت نے ایک جھٹکے میں تمام ملزمان پر سے تمام تر الزامات کے داغ کو اس طرح دھو دیا جیسے وہ تھے ہی نہیں۔(لبراہن رپورٹ کار سیوک)

یہ بھی پڑھیں: دبنگ دادی، ہندوستانی و مغربی میڈیا اور دہلی پولیس

ہندوستانی عدلیہ سے وابستہ بہت سے لوگ بھی اس فیصلے کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔ ایسے لوگوں میں جسٹس ایم ایس لبراہن بھی شامل ہیں جنھوں نے انہدام کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی سربراہی کی تھی۔ یہ کمیشن 16 دسمبر 1992 کو قائم کیا گیا تھا اور اس کی رپورٹ 30 جون 2009 کو اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کو پیش کی گئی تھی۔

کسی نادیدہ طاقت نے نہیں بلکہ انسانوں نے مسجد گرائی تھی

جسٹس لبراہن نے بھی اس فیصلے کو ناقابل فہم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جانچ کے دوران وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ بابری مسجد کے انہدام کے لیے ایک سول سازش تیار کی گئی تھی اور اس پر ان کو آج بھی اتنا ہی یقین ہے جتنا رپورٹ لکھتے وقت تھا۔

انھوں نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا کہ میرے سامنے جو ثبوت پیش کیے گئے تھے اس سے یہ بالکل واضح تھا کہ مسجد کو منظم پلاننگ کے تحت گرایا گیا۔ مجھے یا دہے کہ اوما بھارتی نے واضح طور پر اس کی ذمہ داری لی تھی۔کسی نادیدہ طاقت نے نہیں بلکہ انسانوں نے مسجد گرائی تھی۔ انھوں نے اپنی رپورٹ میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے سینئر رہنماؤں جیسے کہ ایل کے آڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی وغیرہ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ اس میں اس وقت کی اترپردیش کی حکومت بھی ملوث تھی۔

اس رپورٹ نے اگر چہ نرسمہا راؤ وغیرہ کو بچا لیا تھا لیکن اس میں سازش کی قلعی بھی کھولی گئی تھی۔ جب یہ رپورٹ میڈیا میں آئی تو اس وقت اس پر ملک کی سرکردہ شخصیات نے اظہار خیال کیا تھا۔ راقم الحروف نے اس رپورٹ کے اہم حصوں کی تلخیص کی تھی اور رپورٹ کے سلسلے میں اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین کو یکجا کرکے ’’لبراہن رپورٹ اور بابری مسجد‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی تھی۔ اس کتاب میں درج کیے گئے اقتباسات کی تلخیص یہاں پیش کی جا رہی ہے:

مسجد گرانے کے لیے پیسے آر ایس ایس سے آتے رہے

’’ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس مہم کے لیے جتنے پیسوں کی ضرورت تھی وہ آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں کی تجوریوں سے آئے تھے۔ آر ایس ایس، بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے لیڈروں نے بھی وقتاً فوقتاً پیسے دیے۔ اربوں روپے اکٹھا کیے گئے اور انھیں 6 دسمبر 1992 کے واقعات کو انجام دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔ سرمایہ حاصل کرنے سے لے کر عمارت گرانے تک تمام کارروائیوں کو چلانا واضح طور پر ایک منظم منصوبے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ کارسیوکوں کو جٹانا اور ایودھیا اور فیض آباد میں ان کے قیام کا بند و بست کرنا پوری طرح منصوبہ بند تھا۔

مندر تحریک کے لیڈرو ںاور سیاسی و سماجی تنظیموں کے ذمہ داروں کے اس دعوے میں دم نہیں ہے کہ متنازعہ عمارت کا انہدام کارسیوکوں نے غصے اور جذبات میں آکر کیا تھا۔ حملے کا طریقہ، مسجد منہدم کرنے کے لیے بڑی تعداد میں آئے کار سیوکوں کے لیے جگہ کی کمی، گنبدوں میں گھسنے والے کارسیوکوں کی شناخت پوشیدہ رکھنا، گنبد کے نیچے سے مورتیوں اور کیش کے ڈبوں کو ہٹانا اور انھیں بعد میں عارضی مندر میں دوبارہ رکھنا، مندر کی تعمیر اور انہدام کے لیے اوزارو ںاور سامانوں کو اکٹھا کرنا یہ تمام باتیں واضح طور پر اس نتیجے کی جانب لے جاتی ہیں کہ عمارت گرانے کا کام پوری تیاری اور پیشگی منصوبہ بندی کے ساتھ ہوا تھا۔

حکومت نے اس وقت کے حالات کو ریکارڈ کرنے کے لیے ایک بھی ویڈیو کیمرے کا انتظام نہیں کیا۔

تمام ثبوتوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 6 دسمبر کے تمام واقعات جو رام جی کے جنم استھان پر پیش آئے ایک منظم پلاننگ کا نتیجہ تھے۔ کچھ غلط قسم کے لیڈروں نے رام جیسے آدرش وادی مہاتما کے نام پر عوام کے اژدحام کو ایک بے قابو بھیڑ میں بدل دیا۔ اس بات کے بھی ناقابل تردید شواہد ہیں کہ بی جے پی، آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد، شیو سینا اور بجرنگ دل کے کچھ لیڈران پیسے یا طاقت کے لالچ میں ا س مہم میں شریک ہوئے۔ یہ لیڈران کسی نظریے کے پابند نہیں تھے نہ ہی ان کو مذہب سے کوئی دلچسپی تھی۔

عمارت کو دھوکے اور ڈھٹائی کے ساتھ تباہ کیا گیا۔ یہ کارروائی ایک جمہوری انداز میں منتخب حکومت کے لیے مناسب نہیں تھی۔ جب کوئی حکومت اپنی خواہش کو چھپانے کے لیے گھٹیا طریقے اپناتی ہے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حکومت کا کام قانون کی رضامندی اور عوام کی توثیق سے محروم ہے۔

وزیر اعلیٰ اور ان کے کابینی رفقا کو ا س کا پورا احساس تھا کہ ان کا یہ کام پوری طرح غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔ کلیان سنگھ، ان کے وزرا اور بعض چنندہ افسران نے ایسے حالات پیدا کیے کہ ان کا عمارت کے انہدام کے علاوہ اور کوئی نتیجہ ہی نہیں نکل سکتا تھا۔ انھوں نے دو فرقوں کے درمیان کی خلیج کو بہت وسیع کر دیا جس سے پورے ملک میں قتل عام ہوا۔ انھوں نے اسٹیٹ کو قانونی، اخلاقی اور آئینی کنٹرول سے آزاد کر دیا اور عملاً اور عمداً ایک عبادت گاہ کا انہدام کروا دیا جس کے بعد انارکی پیدا ہو گئی۔

پولیس کو کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے روک دیا گیا تھا

اترپردیش حکومت کے حفاظتی انتظامات ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کے اہل تھے۔ لیکن ان انتظامات کو بے اثر کر دیا گیا۔ کلیان حکومت نے مرکزی حکومت اور سپریم کورٹ میں دروغ گوئی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پولیس اور ایڈمنسٹریشن سر عام آر ایس ایس کے کاموں کی حمایت کرتے رہے۔ آئین کے وقار کو مجروح کرنے والوں کے خلاف قانون کا استعمال نہیں کیا گیا۔ بلکہ ان کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا۔

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

کلیان سنگھ نے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی ان افسران کا تبادلہ شروع کر دیا تھا جو ایودھیا میں صورت حال کو جوں کا توں برقرار رکھنے کے حق میں تھے۔ فیض آباد اور ایودھیا میں نئے افسروں اور ہمدرد پی اے سی کو تعینات کیا گیا تاکہ عمارت کا انہدام کیا جا سکے۔ ایسے افسران تعینات کیے گئے جو ان کے مشن میں معاون تھے۔ یہ بھی یقینی بنایا گیا کہ جن کے ہاتھ میں ڈنڈا یا بندوق ہو وہ بھی دوستانہ جذبہ رکھنے والے ہوں اور کار سیوا میں کوئی خطرہ نہ بنیں۔

دراصل اس روز یہ وردی پوش کارسیوک بن گئے تھے۔ ان کو حکم تھا کہ وہ طاقت کا استعمال نہ کریں اور کوئی بھی حالات ہوں کارسیوکوں اور ان کے لیڈروں پر گولی نہ چلائیں۔ اس طرح پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا بھی استعمال نہیں کیا۔

تشدد پر آماد کارسیوکوں سے بچنے کے لیے پولیس کو جو ڈھالیں دی گئی تھیں وہ انھوں نے کارسیوکوں کو دے دیں اور کارسیوکوں نے ان کا خوب اور غلط استعمال کیا۔ جب دھینگا مشتی شروع ہوئی تو پولیس افسران وہاں سے ہٹ گئے اور وہاں ایسے حالات بنائے گئے کہ متنازعہ عمارت تک رسائی آسان ہو جائے۔

سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر سرکاری آلات کو بیکار کر دیا گیا تاکہ بدمعاشوں کی شناخت چھپی رہے اور وہ عمارت تک آسانی سے پہنچ سکیں۔

حکومت نے اس وقت کے حالات کو ریکارڈ کرنے کے لیے ایک بھی ویڈیو کیمرے کا انتظام نہیں کیا۔ حکومت و انتظامیہ کے اقدامات نے کارسیوکوں کو نڈر کر دیا تھا۔ انھیں اپنے تحفظ کی کوئی فکر نہیں تھی۔ مجموعی طور پر 6 دسمبر 1992 کو آئین و قانون کے وقار کے تحفظ کے کسی ارادے اور نیت کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ ریاست اس مشترکہ مہم میں اپنی مرضی سے سازشی اور معاون بن گئی تھی جس نے اسلام کی علامت کے طور پر موجود عمارت کو منہدم کرنے کے نام پر ہندوتو وادی نسل کے احیا کا اعلان کر رکھا تھا‘‘۔

لبراہن رپورٹ کار سیوک لبراہن رپورٹ کار سیوک لبراہن رپورٹ کار سیوک لبراہن رپورٹ کار سیوک

اپنا تبصرہ بھیجیں