ماں قسط نمبر10 Mother novel 90

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 20

Spread the love

’’میں نے پچھلے دنوں بہت کچھ دیکھا اور سنا ہے اور میں نے کافی کچھ سیکھ لیا ہے۔‘‘

’’تم بالکل ختم ہو جائو گے، میخائل ایوانووچ!‘‘ اس نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے کہا۔

اپنی سیاہ، حلقے والی آنکھوں سے وہ ماں کو متوقفانہ انداز میں کچھ عجیب سی طرح دیکھنے لگا۔ اس کا مضبوط جسم آگے کی طرف جھکا، اس نے ہاتھوں سے کرسی کے تختے کو پکڑا اور سیاہ ڈاڑھی میں سے اس کا سیاہی مائل چہرہ زرد سا نظر آنے لگا۔

’’یاد ہے نا یسوع نے بیج کے متعلق کیا کہا تھا؟ پھر سے زندہ ہونے کے لئے اسے مرنا پڑتا ہے۔ لیکن موت مجھے جلدی نہیں آئے گی۔ میں لومڑی کی طرح چالاک ہوں۔‘‘

وہ کرسی میں کسمسایا اور آہستہ سے اٹھا۔

’’اب شراب خانے جائوں گا اور تھوڑی دیر لوگوں کے ساتھ بیٹھوں گا۔ خوخول تو آہی نہیں چکتا۔ پھر اسی کام میںلگ گیا؟‘‘

’’ہاں‘‘ ماں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

’’بہت خوب، میرے بارے میں اس سے کہہ دینا۔۔۔‘‘

U may kiss the bride now

وہ آہستہ آہستہ کاندھے سے کاندھا جوڑھا، ایک دوسرے کی طرف دیکھے بغیر کچھ جملے کہتے ہوئے باورچی خانے تک پہونچے۔

’’اچھا، خدا حافظ!‘‘

’’خدا حافظ۔ کارخانے میں کام چھوڑنے کی اطلاع کب دے رہے ہو؟‘‘

’’دے بھی چکا۔‘‘

’’اور جا کب رہے ہو؟‘‘

’’کل۔ صبح سویرے۔ خدا حافظ!‘‘

بادل ناخواستہ اور بھدے پن سے ریبن جھک کر دروازے سے نکلا اور ڈیوڑھی میں چلا گیا۔ ایک لمحے کے لئے ماں اس کے بھاری قدموں کی چاپ اور خود اپنے سینے میں اٹھتے ہوئے شبہات کی آواز کو سنتی رہی۔ پھر وہ خاموشی سے مڑی، دوسرے کمرے میں گئی اور اس نے کھڑکی کا پردہ ہٹا دیا۔ باہر تاریکی چھائی ہوئی تھی۔

’’میں تاریکی میں جی رہی ہوں‘‘ اس نے سوچا۔

اس باوقار کسان پر اسے رحم آیا جو اس قدر طاقتور اور صحت مند تھا۔

آندری بہت خوشی اور انبساط کے عالم میں گھر واپس آیا۔

جب اس نے ریبن کے متعلق بتایا تو وہ بولا:

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

’’جانے دو اسے گائوں میں۔ چکر لگائے گا، عدل وانصاف کا مطالبہ کرے گا اورلوگوں کو جگائے گا۔ ہم لوگوں کے ساتھ چلنا اس کے لئے مشکل ہے۔ اس کے دماغ میں کسانوں کے خیالات بھرے ہوئے ہیں۔ ہمارے خیالات کے لئے وہاں کوئی جگہ نہیںہے۔۔۔‘‘

’’وہ رئیسوں کے بارے میںکہہ رہا تھا۔ اس نے جو کچھ کہا اس میں کچھ جان تو ہے‘‘ ماں نے محتاط طریقے سے کہا۔ ’’خیال رکھو کہ وہ لوگ تمہیں احمق نہ بنا دیں!‘‘

’’وہ تمہیں ناپسند ہیں نا؟‘‘ خوخول ہنسا۔ ’’ارے ننکو روپیہ! اگر ہمارے پاس روپیہ ہی ہوتا تو کیا تھا! ہم اب بھی دوسروں کے سہارے کام چلا رہے ہیں۔ مثال کے طو رپر نکولائی ایوانووچ کو پچھتر روبل مہینہ ملتے ہیں۔ وہ ہمیں پچاس دے دیتا ہے۔ دوسرے بھی یہی کرتے ہیں۔ بعض اوقات یونیورسٹی کے نیم فاقہ کش طلبا ایک ایک پیسہ جمع کر کے ہمیں چندہ بھیجتے ہیں۔ رئیس بھی الگ الگ قسم کے ہوتے ہیں۔ کچھ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، کچھ دھوکا دے جاتے ہیں، لیکن ان میں سے سب سے اچھے ہمارے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں۔۔۔‘‘

اس نے دونوں ہاتھ باندھ لئے اور تیقن سے باتیں کرتا گیا:

’’ہماری آخری فتح تو دور ہے۔ حد نظر سے بہت دور لیکن یکم مئی کے تہوار کے دن ہم مظاہرہ ضرور کریں گے۔ اور وہ بہت شاندار ہو گا۔‘‘
ریبن کے پیدا کئے ہوئے شبہات خوخول کے جو شیلے پن کی وجہ سے ختم ہو گئے۔ خوخول اپنے بالوں کو الجھاتا فرش پر نظریں جمائے ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا۔

ـ’’کبھی کبھی وفور جذبات سے دل کا یہ عالم ہو جاتا ہے کہ مشکل ہی سے برداشت ہو سکتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جہاں کہیں بھی جائو ہر شخص رفیق ہے، سب کے سینوں میں ایک ہی شعلہ فروزاں ہے، سب اچھے، ہمدرد اور ہنس مکھ ہیں۔ ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے بات کرنا بھی ضروری نہیں۔ سب مل کر ایک واحد عظیم کورس بن جاتے ہیں جس میںہر دل خود اپنا گیت گا رہا ہو اور سارے گیت چشموں کی طرح ہوں جو ایک ہی دریا میں گرتے ہیں اور دریا آزادی کے ساتھ پھیلتا بڑھتا نئی زندگی کے پر مسرت ساگر کی طرف چلا جا رہا ہو۔‘‘

ماں بے حس وحرکت بیٹھی رہی کیوں کہ اسے خطرہ تھاکہ کہیں اس کے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ نہ جائے اور اس کی بات کٹ نہ جائے۔ دوسروں کے مقابلے میں وہ اس کی بات ہمیشہ بہت غور سے سنتی تھی۔ دوسروں کے مقابلے میں وہ سادگی سے باتیں کرتا تھا اور اس کے الفاظ دل میں اتر جاتے تھے۔ پاویل مستقبل کے بارے میں کبھی بات نہیں کرتا تھا۔ لیکن خوخول کے وجود کا ایک حصہ ہمیشہ اسی مستقبل میںرہتا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس کی باتوں میں ان مسرتوں کا ذکر ہوتا جو دھرتی کے تمام باسیوں کے لئے آئیں گی۔ اور ماں کے لئے اسی خواب نے زندگی میں، اور اس کے بیٹے اور بیٹے کے تمام رفیقوں کے کام میں معنویت پیدا کر دی تھی۔

’’پھر ایک دم سے ہوش آجاتا ہے‘‘ خوخول نے سر کو جھٹکتے ہوئے بات جاری رکھی۔ ’’چاروں طرف نظر دوڑائو تو ہر چیز سرد مہر اور غلیظ نظر آتی ہے ہر شخص تھکا ہوا اور چڑچڑ سرد مہر اور غلیظ نظر آتی ہے ہر شخص تھکا ہوا اور چڑچڑا ہو رہا ہے۔۔۔‘‘

وہ بڑے دکھ سے کہتا رہا:

’’انسانوں پر اعتماد مت کرو، مجھے معلوم ہے اس سے تکلیف ہوتی ہے لیکن ان سے ڈرنا چاہئے بلکہ۔ نفرت بھی کرنا چاہئے۔ انسان کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ اگر یہ چاہو کہ اس سے صرف محبت کی جائے تو یہ کیسے ممکن ہے؟ ایسے آدمی کوکس طرح معاف کیا جا سکتا ہے جو تم پر جنگلی جانوروں کی طرح جھپٹے، جو تمہاری زندہ روح کو نہ دیکھ سکے او رتمہارے انسانی چہرے کو کچل کر رکھ دے؟ اسے تو کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا! اپنی وجہ سے نہیں۔ خود تو ہر چیز برداشت ہو سکتی ہے۔ بلکہ اس لئے کہ ہم انہیں یہ سمجھنے کی اجازت نہیں دے سکتے کہ ہم اس چیز کو پسند کرتے ہیں۔ ہم انہیں دوسروں کو مارنے کی مشق کرنے کیلئے اپنی پیٹھ تو پیش نہیں کر سکتے۔‘‘

اس کی آنکھوں میں ایک سرد شعلہ لپک رہا تھا، اس کا سر ہٹیلے انداز سے نیچے کی طرف جھکا ہو اتھا اور وہ زیادہ مضبوطی سے بول رہا تھا:

’’مجھے کسی غلطی کو معاف کر دینے کا حق نہیں خواہ اس سے مجھے تکلیف نہ بھی پہونچی ہو۔ اس دھرتی پر میں ہی اکیلا تو نہیںہوں!آج میں کسی کو اپنے ساتھ نا انصافی کرنے کی اجازت دے دوں بلکہ اس پر ہنس بھی دوں کیونکہ اس کی اہمیت ہی کیا ہے۔ لیکن میرے اوپر اپنی قوت آزمانے کے بعد ممکن ہے کل وہ کسی اور کو ڈرانے دھمکانے لگے۔ ہر شخص کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھ جا سکتا۔ بہت ہی ٹھنڈے دل سے ہر ایک کو پر کھنا چننا ہوگا: یہ میری طرح ہے اور یہ نہیں ہے۔ یہ کچھ بہت تسکین بخش باتیں نہیںہیں، لیکن یہ صحیح ہیں۔‘‘

کسی وجہ سے ماں کو ساشا کا خیال آیا اور پھر افسر کا۔

’’بغیر چھانے ہوئے آٹے کی روٹی اور کیسی پک سکتی ہے؟‘‘ ماں نے ٹھنڈا سانس بھر کر کہا۔

’’یہی تو اصل مشکل ہے‘‘ خوخول نے کہا۔

’’ہاں‘‘ ماں نے کہا۔ اس کے ذہن میں اپنے شوہر کی تصویر پھر گئی، ایک بڑے پتھر کی طرح، جس پر کائی جم گئی ہو، بھاری او رٹھس۔ اس نے تصور کیا کہ اگر خوخول نے نتاشا سے اور اس کے بیٹے نے ساشا سے شادی کر لی تو کیسا رہے گا۔

’’اور ایسا کیوں ہے؟‘‘ خوخول نے اپنے موضوع کی طرف پلٹتے ہوئے کہا، جس کے لئے اس میں اور زیادہ دل چسپی اور جوش پیدا ہو گیا تھا۔ ’’یہ اتنی ہی واضع بات ہے جیسے میرے چہرے پر یہ ناک۔ یہ سب اس لئے ہی کہ لوگ ایک ہی سطح پر نہیں ہیں۔ انہیں ایک ہی سطح پر لانا ہمارا کام ہے۔ دماغ نے جو کچھ سوچا اور ہاتھ نے جو کچھ بنایا ہے اس سب کو تقسیم کر دیں، لوگوں کو خوف اور حسد کا غلام نہ ہونے دیں، انہیںلالچ اور حماقت کا شکار نہ بننے دیں!۔۔۔‘‘

اس کے بعد ان لوگوں میں اس قسم کی باتیں کئی بار ہوئیں۔

نخود کا کو کارخانے میںپھر سے کام مل گیا۔ وہ اپنی ساری تنخواہ ماںکو دے دیتا تھا، اور وہ اس کے پیسے اسی سادگی سے قبول کر لیتی تھی جیسے پاویل سے لیا کرتی تھی۔

بعض اوقات آندری آنکھوں میں شرارت کی چمک لا کر اس سے کہتا:

’’تھوڑی سی پڑھائی ہو جائے ننکو؟‘‘

وہ ہنس دیتی لیکن سختی سے انکار کرتی۔ اس کی آنکھوں کی شرارت سے اس تکلیف پہونچتی۔

’’اگر تمہیں یہ بات مذاق معلوم ہوتی ہے تو پھر فکر ہی کیوں کرتے ہو؟‘‘ وہ اپنے دل ہی دل میں سوچتی۔

لیکن اب اکثر وبیشتر وہ اس سے کسی نہ کسی لفظ کے معنے پوچھنے لگی اور اس وقت وہ اس سے نظریں نہیںملاتی تھی اور اپنے لہجے میں بے نیازی پیدا کر لیتی تھی۔ وہ تاڑ گیا کہ ماں چوری چھپے پڑھ رہی ہے اور اس کی شرم کا خیال کر کے اس نے پڑھنے کے متعلق کہنا چھوڑ دیا۔

’’میری آنکھیں کمزور ہو رہی ہیں آندریوشا، مجھے عینک کی ضرورت ہے‘‘ ایک دن اس نے کہا۔

’’یہ کون بڑی بات ہے!‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’اتوار کو تمہیں شہر کے ڈاکٹر کے پاس لے چلوں گا اور عینک دلا دوں گا۔‘‘

معیاری نایاب اردو کتب معیاری نایاب اردو کتب معیاری نایاب اردو کتب معیاری نایاب اردو کتب

اپنا تبصرہ بھیجیں