67

تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ میں پھر سماعت ملتوی

Spread the love

نئی دہلی(صرف اردو ڈاٹ کام آن لائن نیوز)(تبلیغی جماعت سپریم کورٹ)کروناوائرس کو مرکز نظام الدین سے جوڑ کر مسلمانوں بالخصوص تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں کا تشخص داغدار کرنے اور ہندو اورمسلمانوں کے درمیان منافرت پھیلانے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں اور پرنٹ میڈیاکے خلاف مولانا سید ارشدمدنی جمعیت علمائے ہند کی ہدایت پر داخل کردہ پٹیشن پر آج چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی تین رکنی بینچ کے روبرو سماعت عمل میں آنے والی تھی لیکن آج پھر چیف جسٹس آف انڈیا نے معاملے کی سماعت ملتوی کردی،اس سے قبل کی سماعت پر بھی چیف جسٹس آف انڈیا نے بغیر سماعت سنوائی ملتوی کردی تھی۔

دبنگ دادی، ہندوستانی و مغربی میڈیا اور دہلی پولیس

چیف جسٹس جسٹس اے ایس بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرامنیم نے حتمی بحث کے معاملات جس میں جمعیت علمائے ہند کی پٹیشن بھی شامل تھی پر سماعت کیئے بغیر8 اکتوبر کو اگلی تاریخ دے دی، حالانکہ جمعیت علمائے ہند کی جانب سے بحث کر نے کے لیئے سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول موجود تھے۔ جمعیت علمائے ہند کی جانب سے داخل پٹیشن میں گلزار احمد اعظمی مدعی بنے ہیں جس میں عدالت کی توجہ ان ڈیڑھ سو نیوز چینلوں اور اخبارات کی جانب دلائی گئی ہے جس میں انڈیا ٹی وی،زی نیوز، نیشن نیوز،ری پبلک بھارت،ری پبلک ٹی وی،شدرشن نیوز چینل اور بعض دوسرے چینل شامل ہیں جنہوں نے صحافتی اصولوں کو تار تار کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل آزاری اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی ناپاک سازش کی تھی پر کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

واضح رہے کہ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کا موقف رہا ہے کہ سماج میں انتشار و افتراق اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے خواہ وہ میڈیا ہو یا تنظیم یا کوئی اور ذرائع ابلاغ ہوں، اس کے خلاف کارروائی ضروری ہے کیونکہ اس سے سماج میں نفرت پھیلتی ہے اور معاشرہ زہرآلود ہوجاتا ہے جس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور دنیا میں ہندوستان کی شبیہ خراب ہوتی ہے۔

اسی لئے جمعیت علمائے ہند نے ہندوستان کی عظمت اور جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لئے تبلیغی جماعت کے خلاف مہم چلانے والے بے لگام میڈیا پر قدغن لگانے کے لئے سپریم کورٹ میں گزشتہ 6اپریل کوعرضی دائر کی تھی اور نفرت پھیلانے والے میڈیا کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی کوشش انصاف کے حصول تک جاری رہے گی۔ کیوں کہ یہ جمعیۃ علماء ہند یا مسلمان یا تبلیغی جماعت کے حق میں ہی نہیں ہوگا بلکہ پورے ملک کے حق میں بھی بہترہوگا۔

تبلیغی جماعت سپریم کورٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں