ماں قسط نمبر10 Mother novel 120

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر19

Spread the love

اس شام جب خوخول باہر چلاگیا تو ماں نے چراغ جلاکر موزہ بنناشروع کیا لیکن وہ جلدی ہی اٹھ کھڑی ہوئی، کچھ تذبذب کے عالم میں کمرے میں ادھر ادھر ٹہلی، پھر باورچی خانے میں گئی، دروازہ بند کیا اور واپس آئی تو اس کے ابرو پھڑک رہے تھے۔ کھڑکیوں پر پردے کھینچ دینے کے بعد اس نے الماری میں سے ایک کتاب نکالی اور میز پر دوبارہ بیٹھ گئی۔ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود وہ چوکنی ہوکر ادھر ادھر دیکھے بغیر نہ رہ سکی اور پھر وہ کتاب پر جھک گئی اور اس کے ہونٹ ہلنے لگے۔ سڑک کی طرف سے کوئی آواز آتی تو وہ چونک پڑتی، کتاب کو ہاتھ سے ڈھانک لیتی اور غور سے سننے لگتی۔ پھر اس نے اپنی پلکیں جھپکائیں اور منہ ہی منہ میں بدبدانے لگی :’’الف، ب، ج۔۔۔‘‘(ماں میکسم گورکی ناول)

کسی نے دروازے پر دستک دی اور ماں اچھل کر کھڑی ہو گئی، کتاب کو جلدی سے الماری میں رکھ دیا اور گھبراکر پو چھا:

’’کون ہے؟‘‘

’’میں۔ ۔۔‘‘

ریبن اپنی ڈاڑھی سہلاتے ہوئے اندر آیا۔

’’پہلے تو نہیں پوچھا کرتی تھیں ’کون ہے؟‘‘‘اس نے کہا۔

’’تنہا ہو؟ سوچا کہ شاید خوخول گھر ہی پر ہو گا۔ میں نے آج ہی اسے دیکھا تھا۔ جیل سے اسے کوئی نقصان تو نہیں ہوا۔ ‘‘

بیٹھ کر وہ ماں کی طرف مخاطب ہوا:

’’آئو کچھ باتیں کریں۔ ۔۔‘‘

اس نے ماں پر ایک معنی خیز، پر اسرار نظر ڈالی، جس سے اسے کچھ مبہم سا خطرہ محسوس ہوا

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

’’ہر چیز کے لئے روپیہ چاہئے‘‘ اس نے اپنی بھاری آواز میں کہنا شروع کیا۔ ’’پیدا ہونے کے لئے روپیہ چاہئے، مرنے کے لئے روپیہ چاہئے۔ کتابوں اور پرچوں کے لئے روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمہیں معلوم ہے ان کتا بوں کے لئے روپیہ کہاں سے آتاہے ؟‘‘

’’نہیں، مجھے نہیں معلوم‘‘ماں نے آہستہ سے کہا، اس نے محسوس کر لیاکہ دال میں کچھ کالاہے۔

’’مجھے بھی نہیں معلوم۔ اور پھر دوسراسوال۔ انہیں لکھتا کون ہے؟‘‘

’’کتابی علم رکھنے والے لوگ۔ ۔۔‘‘

’’رئیس لوگ‘‘ریبن نے کہا۔اس کا ڈاڑھی والا چہرہ عنابی ہوگیا۔’’یعنی دوسرے الفاظ میں پیسے والے ان کتابوں کو لکھتے ہیں اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اب ذرا تم ہی مجھے سمجھائوکہ اپنے خلاف عام لوگوں کو بھڑکانے پر روپیہ خرچ کرکے انہیں کیا فائدہ ہوتا ہے۔کیوں ؟‘‘

ماں کے منہ سے ایک خوفزدہ سی ھچکی نکلی اور اس نے اپنی آنکھیں جھپکائیں۔

’’تمہاراکیاخیال ہے؟‘‘

’’آہا‘‘ ریبن نے ریچھ کی طرح پلٹتے ہوئے کہا۔ ’’یہی تو بات ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ جیسے ہی یہ خیال میرے ذھن میں آیا تو مجھے ٹھنڈا پسینہ آگیا۔‘‘

’’تمہیں کچھ معلوم ہواہے کیا؟‘‘

’’بے وقوف بنایا گیا!‘‘ ریبن نے جواب دیا۔ ’’مجھے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم لوگوں کو احمق بنایا گیا۔ میرے پاس واقعات نہیں ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ ا س میں دھوکہ بازی ضرور ہے! یہ رئیس لوگ بڑی چالاک ہوتے ہیں۔ میںصداقت کو ڈھونڈھتا ہوں۔ اور اب میں صداقت کو سمجھنے لگا ہوں اور اب ان پیسے والوں کا ساتھ ہر گز نہ دوں گا۔ جب بھی ان کا دل چاہے گاتو مجھے ٹھکر اکر گرا دین گے اور میری ہڈیوںپر سے ایسے گزریں گے جیسے پل پر سے گزرتے ہوں۔۔۔

انڈیا کے سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں

اس کے الفاظ نے شکنجے کی طرح ماں کے جدل کو اپنی آہنی گرفت میںلے لیا۔

’’میرے یسوع!‘‘ وہ افسردہ ہو کر چلائی۔ ’’کیا یہ ممکن ہے کہ پاشا یہ کچھ نہیں سمجھتا؟اور تمام لوگ جو۔۔۔‘‘

اس کی نظروں کے سامنے یگور، نکولائی ایوانووچ اور ساشا کے سنجیدہ پر خلوص چہرے پھرنے لگے۔ اس کی نبض کی رفتار تیز ہو گئی۔

’’نہیں، نہیں‘‘ اس نے سر ہلا کر کہا۔ ’’میں یقین نہیںکرسکتی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ضمیر رکھتے ہیں۔‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘ ریبن نے سوچتے ہوئے سوال کیا۔

’’سب کے سب ان میں سب ایک ایک آدمی۔ میں نے یہ خوب دیکھ لیا ہے!‘‘

’’جہاں دیکھنا چاہئے وہاں نہیں دیکھ رہی ہو ماں۔ ذرا اور دیکھو‘‘ ریبن سر جھکاتے ہوئے کہا۔ ’’وہ لوگ جو ہمارے ساتھ مل گئے ہیں، ممکن ہے وہ خود بھی کچھ نہ جانتے ہوں وہ اعتقاد رکھتے ہیں، اور یہ اچھی بات ہے۔ لیکن ممکن ہے ان کے پیچھے اور لوگ ہوں۔ ایسے لوگ جنہیں صرف اپنا فایدہ عزیز ہے۔ کوئی شخص بغیر کسی وجہ کے اپنے خلاف نہیںہو جاتا۔‘‘

پھر اس نے ایک کسان کے اڑیل تیقن کے ساتھ کہا:

’’رئیسوں سے کبھی کسی کو کوئی فلاح نہیںمل سکتی۔‘‘

’’تم کیاکرنے کی سوچ رہے ہو؟‘‘ ماں نے دریافت کیا۔ وہ ایک بار پھر شک میں پڑ گئی۔

’’میں؟‘‘ ریبن نے اس کی طرف دیکھا، تھوڑی دیر رکا اور پھر کہا ’’رئیسوں سے جتنا دور رہا جائے بہتر ہے۔ بات دراصل یہی ہے۔‘‘

وہ پھر افسردہ اور خاموش ہو گیا۔

’’میں ان رفیقوں کے ساتھ شامل ہوجانا چاہتا تھا اور ان کے ساتھ چلنا چاہتا تھا۔ میں ایسے کام کے لئے بہت مناسب ہوں۔میںجانتا ہوںکہ لوگوں سے کس طرح بات کرنی چاہئے۔ لیکن اب میںجا رہا ہوں، میرا اعتقاد ختم ہو چکا ہے۔ اس لئے اب مجھے چلے جانا چاہئے۔‘‘

اس نے سر جھکایا اور کچھ سوچ میں پڑ گیا۔

’’میں تن تنہا گائوں میں اور دیہاتی علاقوں میںجائوں گا اور عام لوگوں کو بیدار کروں گا۔ انہیں ساری چیزیں اپنے ہاتھ میں لینی ہیں۔ ایک بار وہ سب کچھ سمجھ لیں تو پھر اپنا راستہ خود ہی بنا لیں گے۔ میرا کام انہیں سمجھانا ہو گا کہ ان کی واحد امید وہ خود ہی ہیں، ان کا واحد دماغ خود ان کا اپنا دماغ ہے۔ بات دراصل یہی ہے۔‘‘

ماں کو اس شخص پر ترس آنے لگا اور اس سے کچھ خوف بھی محسوس ہونے لگا۔ وہ جو اسے ہمیشہ ناپسند رہا تھا، اب کسی وجہ سے اسے بہت عزیز معلوم ہونے لگا اور اس نے بڑی نرمی سے کہا:

’’تمہیں پکڑ لیں گے۔۔۔‘‘

ریبن نے اس کی طرف دیکھا۔

’’یقینا پکڑ لیں گے، لیکن پھر رہا بھی کر دیں گے اور میں پھر وہی سب شروع کر وں گا۔‘‘

’’کسان خود تمہیں باندھ دیں گے۔ وہ تمہیں جیل میں ڈال دیں گے۔‘‘

’’سزا بھگت لوں گا۔ اور پھر باہر آجائوں گا۔ اور پھر سے کام شروع کروں گا۔ رہ گیا کسانوں کا سوال تو وہ لوگ ایک بار، تین بار باندھیں گے اور پھر خود ہی محسوس کرنے لگیں گے کہ اسے باندھنے سے بہتر ہے کہ اس کی بات سنی جائے۔ میںکہوں گا: ’مجھ پریقین مت کرو۔صرف سنو!‘‘ اور ایک بار سن لیں گے تو پھر مجھ پر یقین بھی کر لیں گے۔‘‘

وہ آہستہ آہستہ بول رہا تھا جیسے کہنے سے پہلے ایک ایک لفظ تول رہا ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں