73

انڈیا کے سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں

Spread the love

لاہور(مدثر بھٹی سے)انڈیا کے سابق وزیر خارجہ اور سابق وزیر دفاع جسونت سنگھ کا اتوار کی صبح انتقال ہو گیا ہے۔ وہ 82 سال کے تھے۔ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کی موت پر دُکھ کا اظہار کیا ہے اور انھیں مختلف سماجی اور سیاسی نظریے والے شخص کے طور پر یاد کیا ہے۔ خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق جسونت سنگھ سنہ 2014 میں اپنے گھر میں گِر پڑے تھے اور اس کے بعد انھیں آرمی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ گھر اور ہسپتال کا چکر کاٹتے رہے۔ انھیں رواں سال جون میں ایک بار پھر ہسپتال میں داخل کیا گیا

سابق مرکزی وزیر جسونت سنگھ ، جن کا آج صبح دہلی میں انتقال ہوگیا تھا، شام کے وقت راجستھان کے جودھ پور میں ان کے فارم ہاؤس میں ان کا آخری رسومات ادا کی گئیں۔ انڈین میڈیا کے مطابق ان کو عارضہ قلب کے باعث دہلی کے آرمی اسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل) میں داخل کیا گیا ڈاکٹروں کی کوشش کے باوجود 82 سالہ جسونت سنگھ جانبر نہ ہو سکے اور اتوار کی صبح 6 بجکر 55 منٹ پر چل بسے۔

ٹائٹینک کے ڈوبنے کی بڑی وجہ 108 سال بعد سامنے آگئی

کوویڈ وبائی مرض کے درمیان چہرے کے ماسک پہننے اور معاشرتی فاصلے کو برقرار رکھنے والے درجنوں کنبہ کے افراد اور قریبی دوست، اور ان کے بیٹے منویندر سنگھ آخری رسومات کے موقع پر موجود تھے۔ بھارتی فوج کی جانب سے پھولوں کی چادر بھی چڑھائی گئی۔

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے قریبی ساتھی، جسونت سنگھ کا طویل اور ممتاز سیاسی کیریئر رہا، جس نے ہندوستان کے وزیر خارجہ ، دفاع اور وزیر خزانہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ ملک کے سب سے طویل عرصے تک کام کرنے والے پارلیمنٹیرینز میں سے ایک تھے۔

جسونت سنگھ نے اجمیر کے میو کالج میں تعلیم حاصل کی اور 1950 ء اور 60 کی دہائی میں ہندوستانی فوج میں سینٹرل انڈیا ہارس رجمنٹ میں خدمات سرانجام دیں اور بعد میں استعفیٰ دے کر سیاست میں آگئے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے مسٹر سنگھ کی موت پر صدمے کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے کہا کہ جسونت سنگھ نے پہلے ایک سپاہی کی حیثیت سے فوج میں خدمات انجام دیں جبکہ ان کی سیاسی جدوجہد کا عرصہ بھی بہت طویل ہے۔

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

انہوں نے اپنے آبائی شہر جسول کے قریب، آسیان سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے اپنا پہلا انتخاب لڑا تھا۔ ان کا سیاسی کیریئر 1980 کے دہائی میں قومی سیاست میں آنے کے بعد، چار لوک سبھا انتخابات جیتنے اور راجیہ سبھا کے پانچ سالہ رکن پارلیمنٹ بننے کے بعد شروع ہوا۔ اہم موڑ اس وقت آیا جب انھوں نے 1970 کی دہائی میں اٹل بہاری واجپائی سے ملاقات کی۔ ان کی دوستی زندگی بھر قائم رہی۔

اٹل بہاری واجپائی اور جسونت سنگھ کو ادب سے خاص دلچسپی تھی۔ جسونت سنگھ کے بیٹے مانویندر نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ان کے والد کو اکثر “اٹل جی کا ہنومان” بھی کہا کرتے تھے۔

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ ، بی جے پی رہنما رام مادھاو، راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت سمیت سوشل میڈیا پر بہت سے افراد نے تعزیت کے ٹویٹ کیے۔

جسونت سنگھ کو پاکستان کے بانی محمد علی جناح پر کتاب لکھنے اور ان کی تعریف کرنے پر سنہ 2009 میں بی جے پی سے چھ سال کے لیے نکال دیا گیا تھا لیکن پھر بعد میں انھیں پارٹی میں شامل کر لیا گیا۔ اسی دوران انھوں نے آزاد امیدوار کے طور پر اپنے آبائی انتخابی علاقے سے انتخابات میں شرکت کی تھی اور ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے معروف سیاست دان اور حروں کے روحانی پیشوا پیر پگاڑا نے بارمیڑ میں اپنے پیروکاروں سے جسونت سنگھ کو ووٹ دینے کی اپیل کی تھی۔

باڑ میر میں اس وقت تقریباً ڈھائی لاکھ سندھی مسلم ووٹرز تھے۔ جسونت سنگھ کے بیٹے نے اخبار کو بتایا تھا کہ اس برادری کے لوگوں نے انھیں یہ خبر دی تھی کہ ان کے پیر صاحب نے انھیں ان کے والد یعنی جسونت سنگھ کو ووٹ دینے کے لیے کہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں