ماں قسط نمبر10 Mother novel 69

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر18

Spread the love

کیرچ ہی میں پولیس کے ہاتھوں وہ خود قتل ہو گیا۔ لیکن یہ اتنی اہم بات نہیں ہے۔ وہ صداقت کو سمجھ گیا تھا ار اس نے لوگوں میں اس کے بیج بودئے تھے۔ تم بھی ان میں سے ایک ہو جنہوں ’بے گناہ قتل کیا گیا،۔‘‘(ماں میکسم گورکی قسط)

’’لیکن اب میںکھل کر بات کرتی ہوں‘‘ماں نے بات جاری رکھی۔ ’’میں کھل کر بات کہتی ہوں اور اپنے الفاظ کو خود ہی سنتی ہوں اور اپنے کانوں پر مشکل سے یقین آتا ہے۔ ساری عمر میں نے صرف ایک ہی بات کے متعلق سوچا۔ ہر نئے دن سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے، کس طرح سب کی نظریں بچاکر رہا جائے تاکہ کوئی مجھے ہاتھ نہ لگا سکے۔ لیکن اب میرا ذہن دوسرے لوگوں کے متعلق خیالات سے بھرا رہتا ہے۔ ممکن ہے میں تم لوگوں کے مقصد کو پوری طرح نہ سمجھتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ تم سب خوش رہو اور خاص طور پر تم آندر یوشا!‘‘

وہ اس کے نزدیک آیا۔

’’شکریہ‘‘ اس نے کہا۔ ماں کا ہاتھ اس نے اپنے ہاتھ میں لیا اور زور سے دبایا اور اس کے بعد تیزی سے منہ موڑلیا۔ شدت جذبات سے نڈھال سی ہو کر ماں نے دھیرے دھیرے خاموشی کے ساتھ پیالیاں دھوتی رہی اور اپنے دل میں خاموش محبت کے مزے لیتی رہی۔

خوخول نے ایک سر ے سے دوسرے سرے تک ٹہلتے ہوئے اس سے کہا:

’’وسوف شیکوف سے بھی تھوڑی شفقت کا اظہار کرو، ننکو۔اس کا باپ جیل میں ہے۔ بوڑھا شرابی دو کوڑی کا بھی نہیں ہے! نکولائی جب کبھی کھڑکی میں اس کی جھلک دیکھ پاتا ہے گالیاں دینا شروع کر دیتا ہے۔ یہ بہت بری بات ہے!نکولائی فطرتاً نیک ہے۔ کتوں،چوہوں اور ہر قسم کے جانوروں سے محبت کرتا ہے لیکن اسے لوگوں سے نفرت ہے!ذرا غور تو کرو ایک انسان کاکیا حشر ہوسکتاہے!‘‘

فنکار بھی ٹرینوں کے لیٹ ہونے پر ناراض

’’اس کی ماں ختم ہو چکی۔ ۔۔باپ چور اور شرابی ہے ‘‘ماں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔

جب آندری سونے کے لئے چلا گیا تو ماں نے خاموشی سے اس کے اوپر صلیب کا نشان بنایا اور جب بستر پر لیٹے ہوئے آدھ گھنٹہ ہو گیا تو ماں نے آہستہ سے پوچھا:

’’سو گئے آندر یوشا؟‘‘

’’نہیں، کیوں ؟‘‘

’’خدا حافظ۔ ‘‘

’’شکریہ ننکو۔ شکریہ ‘‘اس نے احسان مند انداز میں کہا۔

دوسرے دن جب پلاگیا کار خانے کے دروازے پر آئی تو چوکیداروں نے اسے روک دیا اور اپنے خوانچے اتار نے کا حکم دیا تاکہ وہ ان کی تلاشی لے سکیں۔

’’ساری چیزیں ٹھنڈی ہو جائیں گی‘‘ اس نے احتجاج کی جب کہ وہ لوگ سختی سے اس کے کپڑے ٹٹول رہے تھے۔

’’زبان بند کرو!‘‘سنتری نے جھنجھلاکر کہا۔

’’میں تم سے کہہ رہا ہوں یہ لوگ جنگلے کے اوپر سے پرچے پھینکتے ہیں ‘‘دوسرے سنتری نے ماں کے کاندھے کو آہستہ سے دہکا دیتے ہوئے کہا۔

وہ احاطے کے اندر پہونچی تو سب سے پہلے اس کے پاس بوڑھا سیزوف آیا۔

’’تم نے کچھ سنا ماں ؟‘‘اس نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے آہستہ سے دریافت کیا۔

’’کیا؟‘‘

وہی پرچے۔ پھر نظر آنے لگے۔ ہر طرف بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں، جیسے روٹی پر نمک چھڑکا ہواہو۔ ان ساری تلاشیوں اور گرفتاریوں کا کیانتیجہ ہوا!میرے بھتیجے مازن کو بھی جیل میں ڈال دیاہے۔ آخر کیوں ؟تمہارے بیٹے کو بھی لے گئے لیکن اب ہر شخص محسوس کرنے لگا ہے کہ اس میں ان لوگوں کاہاتھ نہیں تھا۔‘‘

اس نے اپنی ڈاڑھی کو پکڑکر عجیب طرح اس کی طرف دیکھااور کہا:

’’میرے یہا ں آجایاکرو ،کبھی کبھی۔ آج کل تو بہت تنہائی محسوس کرتی ہوں گی۔ ‘‘

ماں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اپنی چیزوں کی آواز لگاناشروع کی وہ یہ بھی دیکھ رہی تھی کہ کارخانے میں آج غیر معمولی ھنگامہ ہے۔ ہر شخص کچھ جوش میں ہے، لوگ ایک جگہ جمع ہوتے تھے اور پھر جدا ہو جاتے تھے۔ وہ ایک کھاتے سے دوسرے کھاتے کی طرف جارہے تھے۔ دھوئیں سی بھری ہوئی فضا میں اسے جرات اور بہادری کی سی خوشبو محسوس ہوئی۔ طنزیہ جملے اور ہمت افزا کلمات ہر طرف سنائی دے رہے تھے۔ بوڑھے مزدور زیرلب مسکرارہے تھے، حکام پریشان پریشان سے ادھر سے ادھر جا رہے تھے۔ پولیس والے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے اور جب مزدوروں کے گروہ انہیں دیکھ لیتے تو یا تو وہ خاموشی سے ادھر ادھر ہوجاتے یاباتیں ختم کر کے ان جھیتھلائے ہوئے، برہم چہروں پر نظریں گاڑدیتے۔

مزدور کچھ صاف ستہرے، دھلے دھلائے معلوم ہو رہے تھے۔ ماں کو دراز قد بڑے گوسیف کی ایک جھلک نظرآئی اور اس کا ہنستا ہوابھائی اس کے پیچھے پیچھے جارہاتھا۔

بڑھئی کھاتے کافورمین واویلوف اور ٹائم کیپر ایسائی دھیرے دھیرے چلتے ہوئے ادھر سے گذرے۔ منحنی ٹائم کیپر کا سر ایک تر چھی سی جنبش کے ساتھ کبھی اونچا اٹھتا تھا اور کبھی ایک طرف مڑتاتھا تاکہ فورمین کے مہیب، مرعوب کن چہرے کو دیکھ سکے، اور وہ اپنی چگی ڈاڑھی کو ہلاہلا کر باتیں کئے جارہاتھا:

’’یہ لوگ اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں ایوان ایوانووچ۔

انہیں اس میں لطف آتا ہے حالانکہ اس میں ریاست کی تباہی ہے جیسا کہ ڈائر کٹر صاحب نے بتایاتھا۔ یہاں گھاس پات صاف کرنے سے کام نہیں چلے گا، اس زمین پر تو ہل ہی چلانا ہوگا۔۔۔‘‘

واویوف کمر پر ہاتھ رکھے اپنی انگلیوں کو مضبوطی سے بھینچے ہوئے چلا جا رہاتھا۔۔۔

’’جائو اور تمہارا جو جی چاہے چھاپو ،سور کے بچو‘‘اس نے زور سے کہا۔ ’’لیکن میرے بارے میں ایک لفظ بھی آیاتو خیریت نہیں !‘‘

واسیلی گوسیف ماں کے پاس آیا۔

’’تمہارے کھانے کی کوئی دوسری چیز کیوں نہ چکھی جائے ماں !تمہارا کھانا ہے اچھا!‘‘اس نے کہا۔ اور پھر نیچی آوازمیں اور آنکھیں سکیڑ کر اس نے کہا ’’ہمیں عین میں اسی کی ضرورت تھی۔ بہت اچھا کام ہے ماں !‘‘

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ماں نے اس کی طرف شفقت سے سر کااشارہ کیا۔وہ اس بات سے خوش تھی کہ یہ شخص جو ساری بستی میں شورش پسند مشہور تھا اس سے بڑی بڑی عزت سے بات کررہاتھا۔ وہ کارخانے میں جوش وخروش کے مظاہرے سے بھی خوش تھی اور دل ہی دل میں سوچ رہی تھی:

’’اگر میں نہ ہوتی ـــ۔۔۔‘‘

تین غیر ہنر مند مزدور اس کے نزدیک آکر رک گئے۔

’’کہیں بھی نہ مل سکے۔ ۔۔‘‘ان میں سے ایک نے دھیرے سے افسوس کے لہجے میں کہا۔

’’جی چاہتاہے کہ یہ معلوم ہوکہ ان میں لکھاکیاہے!میں خود پڑھنانہیں جانتا،لیکن یہ بات تو صاف ہے کہ تیر نشانے پر بیٹھاہے۔۔۔‘‘دوسرے نے کہا۔

تیسرے نے چاروں طرف دیکھااور بہت آہستہ سے کہا:

’’چلو بائلر کے کمرے میں چلیں۔ ۔۔‘‘گوسیف نے ماں کی طرف دیکھااور آنکھ ماری۔

’’دیکھا کیا ہو رہاہے ؟‘‘اس نے کہا۔

پلاگیا نشاط ومسرت کے عالم میں گھر واپس آئی۔

’’لوگوں کو افسوس اس بات کا ہے کہ انہیں پڑھنانہیں آتا‘‘اس نے آندری سے کہا۔’’جب میں جوان تھی تو میں پڑھنا جانتی تھی لیکن اب بالکل بھول گئی۔ ‘‘

’’لیکن سیکھ کیوں نہیں لیتیں ‘‘خوخول نے تجویز پیش کی۔

’’اس عمر میں ؟لوگ سنیں گے تو ہنسیں گے نہیں ؟۔۔۔‘‘

لیکن آندری نے الماری میں سے ایک کتاب نکالی اور سرورق پر ایک حرف کی طرف اشارہ کیا۔

’’یہ کیاہے ؟‘‘اس نے پوچھا۔

’’ر‘‘اس نے مسکراکر جواب دیا۔

’’اور یہ؟‘‘
’’الف۔۔۔‘‘

وہ جھینپ گئی اور کچھ شرما سی گئی۔ محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے آندری کی آنکھیں اندر ہی اندر اس پر ہنس رہی ہیں اور اس نے اس سے نظریں نہیں ملائیں۔ لیکن آندری کی آواز میں نرمی اور شفقت اور اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔

’’تم سچ مچ مجھے پڑھانے کی سوچ رہے ہو آندریوشا؟‘‘اس نے ایک مختصر، غیر ارادی ہنسی ہنستے ہوئے دریافت کیا۔

’’کیوں نہیں ؟‘‘اس نے جواب دیا۔’’اگر تم پڑھنا جانتی تھیں تو بڑی آسانی سے سیکھ جائو گی۔ ’لگ گیا تو تیر نہیں تو تکا‘۔‘‘

’’لیکن ایک دوسری کہاوت بھی ہے!’دیوتائوں کی مورتیوں کو دیکھ دیکھ کر کوئی دیوتانہیں بن سکتا‘!‘‘

’’ہونہ!‘‘خوخول نے سر کو جنبش دیتے ہوئے کہا۔

’’کہاوتیں تو بہت سی ہیں، مثلاً’علم جتناکم ہو نیند اتنی ہی اچھی آئے گی،۔ لیکن صرف پیٹ ہی ایسی باتیں سوچتا ہے اور روح کو ایسی کہاوتوں میں جکڑ دیتا ہے تاکہ اس کو آسانی سے قابو میں رکھا جاسکے یہ کیا حرف ہے؟‘‘

’’ل‘‘ماں نے کہا۔

’’ٹھیک !اور یہ کیا ہے؟‘‘

اس نے بھولے ہوئے حرف کو یاد کرنے کے لئے آنکھوں پر زور دیا، تیوریوں پر بل ڈالا اور ہر چیز سے بے خبر سی ہو گئی لیکن بہت جلد ہی اس کی آنکھیں تھک گئیں۔ پہلے وہ تھکن کے آنسو روتی رہی اور پھر ناامیدی کے۔

’’پڑھنا سیکھ رہی ہوں !‘‘اس نے سسکی لے کر کہا۔

’’چالیس برسی عمر ہو گئی اور اب الف، بے، تے سیکھنے بیٹھی ہوں !‘‘

’’روئو مت!‘‘خوخول نے تسکین دیتے ہوئے کہا۔ ’’تم نے اپنی زندگی خود تو پسند نہیں کی تھی لیکن کم سے کم تمہیں اتنا تو احساس ہے کہ یہ زندگی کتنی خراب تھی۔ اگر چاہتے تو ہزاروں انسان بہتر زندگی بسر کر سکتے تھے لیکن وہ جنگلیوں کی طرح زندگی گذارتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ یہ کون سی بڑی بات ہے کہ آج انسان نے کام کیا اور کھانا کھالیا، اور کل کام کیا اور کھاناکھالیااور ساری زندگی یہی کرتارہا۔ کام کرنا اور کھانا۔ ان دونوں سے وقت ملا تو بچے پیدا کر لئے جن سے پہلے تودل بہلاتے رہے لیکن جب بڑے ہو کر کھانے کا مطالبہ زیادہ بڑھاتو ان پر غصہ اتارا اور گالیاں دیں۔ جلدی سے بڑے ہو جائو سورو، جلدی سے نوکری کرو !ایسے لوگ اپنے بچوں کو خانگی جانور بنادینا چاہتے ہیں لیکن بچے خود اپنے پیٹ کے لئے کام کرنے لگتے ہیں۔ بس اپنی زندگیوں کو گھسیٹتے رہتے ہیں۔ انسان کہلانے کے قابل توصرف وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی انسانی ذہن کو زنجیروں سے آزاد کرانے کے لئے واقف کر دیتے ہیں۔ اور تم نے بھی اپنی صلاحیت کے مطابق یہی کام اپنے سر لیاہے۔ ‘‘

’’میں نے ؟ ‘‘اس نے ناپسندیدگی سے کہا۔’’میں کیا کر سکتی ہوں ؟‘‘

’’ایسا کیوں کہتی ہو؟ہم سب بارش کی طرح ہیں جس کا ہر قطرہ زمین کو سیراب کرتا ہے اور جب تم پڑھنا شروع کر دوگی۔۔۔‘‘

وہ کہتے کہتے ہنس پڑااور پھر اٹھ کر اس نے ٹہلنا شروع کر دیا۔

’’تمہیں پڑھنا تو ضرور چاہئے۔ جلد ہی پاویل گھر آجائے گا اور تب۔ اوھو!‘‘

’’آہ آندریوشا!‘‘ماں نے کہا۔ ’’جوانی مین ہر چیز آسان نظر آتی ہے لیکن بعد میں۔ اتنی زیادہ پریشانیاں، اتنی کم طاقت اور پھر دماغ ندارد۔۔۔‘‘

ماں میکسم گورکی قسط ماں میکسم گورکی قسط ماں میکسم گورکی قسط ماں میکسم گورکی قسط ماں میکسم گورکی قسط

اپنا تبصرہ بھیجیں