56

مذہبی آزادی میں مداخلت نہیں ہوتی‘جرمن عدالت نے اذان پرعائد پابندی ختم کردی

Spread the love

برلن (صرف اردو آن لائن نیوز) مذہبی آزادی میں مداخلت

اذان دینے پر یہ پابندی ایک مسیحی جوڑے کی شکایت پر عائد کی گئی تھی کہ

اذان سے ان کی مذہبی آزادی میں مداخلت ہوتی ہے تاہم عدالت نے اپنے فیصلے

میں کہا کہ اذان کی آواز سننے والوں کے کسی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔

مغربی جرمنی کے شہر مونسٹر کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مقامی

مسجد کو نماز جمعہ کے لیے اذان دینے کی اجازت ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ

اوہرایر کنشویک قصبے کی انتظامیہ کی اس اپیل پر سنایا جس میں مسجد کو اذان

دینے پر عائد پابندی کے سابقہ فیصلے کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی

تھی۔ ججAnnette Kleinschnittgerنے اپنے فیصلے میں کہا کہ’’ہر سماج

کو یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ لوگوں کواس کا علم ہونا چاہیے کہ دوسرے مذاہب

کے ماننے والے اپنے عقائد پر کس طرح عمل کرتے ہیں۔خیال رہے کہ 2018 میں

جرمنی میں ایک مقامی عدالت نے مسجد کے قریب رہنے والے ایک مقامی مسیحی

جوڑے کی شکایت پر جمعے کی نماز کے لیے مسجد میں اذان دینے پر پابندی لگا

دی تھی۔ یہ جوڑا مسجد سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر رہتا تھا۔ اس نے

اپنی شکایت میں کہا تھا کہ مسجد کے موذن کے ذریعہ جمعے کے روز لاؤڈ

انڈیا اور چین کا سرحد پر مزید فوج نہ بھیجنے پر اتفاق

اسپیکر پر دی جانے والی اذان ان کے مسیحی عقائد اور مذہبی آزادی کے منافی

ہے۔ اس مسجد کی کچھ دیواریں شیشے کی ہیں۔ بیرونی راستے سے سڑھیوں کی

مدد سے مسجد کے کمپاؤنڈ کی تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس کا ڈیزائن

کھلے پن کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں تمام مذاہب کو خوش آمدید

کہا جاتا ہے۔ اس مسجد کے دو مینار ہیں، جو پچپن بچپن میٹر بلند ہیں۔ مسجد کا گنبد

شیشے کا ہے، جس میں کنکریٹ کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ دور سے یہ مسجد

ایک کِھلتے ہوئے شگوفے کے مانند دکھائی دیتی ہے۔

مذہبی آزادی میں مداخلت

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں