سانحہ بلدیہ فیکٹری 40

سانحہ بلدیہ فیکٹری،رحمان بھولا،زبیر چریا کو265با رسزائے موت

Spread the love

کراچی ( صرف اردو آن لائن نیوز ) سانحہ بلدیہ فیکٹری

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 8 سال بعد سانحہ بلدیہ

فیکٹری کا فیصلہ سنا دیا۔عدالت نے بھتا نہ دینے پربلدیہ فیکٹری میں آگ لگا کر

ڈھائی سو سے زائد افراد کو قتل کرنے کے اس مقدمے میں رحمان بھولا اور زبیر

چریا کو 264 مرتبہ سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں

4 ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا جن میں ایم کیو ایم رہنما رؤف

صدیقی، ادیب خانم، علی حسن اور عبدالستار شامل ہیں۔عدالت نے 4 ملزمان فضل

احمد، علی محمد، ارشد محمود اور فیکٹری منیجر شاہ رخ کو بھی سہولت کاری

کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔عدالت نے واردات کے ماسٹر مائنڈ حماد

صدیقی اور علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دیا ہے اور ان کے دائمی وارنٹ

جاری کردیے گئے ہیں۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فریقین کے دلائل سننے

کے بعد 2 ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔عدالت کے تحریری حکمنامے

مین کہا گیا ہے کہرحمان بھولا اور زبیر چریا کو 264 افراد کے قتل 264مرتبہ

سزائے موت دی جائے دونوں مجرموں کو فیکٹری کے اندر ملازمین کو قتل کے

جرم 264 مرتبہ عمر قید کی سزا سنا دی۔ 60 لوگوں کو زخمی کرنے کے جرم

میں 10،10 سال قید اور 1, 1 لاکھ جرمانہ بھی عائدکیا گیاعدالت نے264 جاں

بحق افراد کے ورثا کو 2، 2 لاکھ روپے دینے کا حکم دیا۔ مجرموں کو بھتا خوری

کے الزم میں 10، 10 سال قید اور 1،1لاکھ روپے جرمانہ کیا گیاعدالت نے کہاکہ

روف صدیقی، حسن قادری، ڈاکٹر عبدالستار اور ادیب خانم کے خلاف استغاثہ جرم

ثابت نہیں کر سکے عدالت نے مفرور ملزم حماد صدیقی اور علی حسن کے دائمی

وارنٹ گرفتاری جاری کردییعدالت نے چار مجرموںشارخ،علی محمد،فضل محمد،

ارشد محمود کوسہولت فراہم کرنے الزام میں عمر قیدسزا سنائی جنہوں نے

مجرموں کو فیکٹری میں داخل ہونے میں مدد کی فیکٹری منیجر شاہ رْخ، علی

انڈین ملٹری اکیڈمی میں کورنا متاثرین کی تعدد 100 سے زائد

احمد، فضل محمد اور ارشد محمود کو سہولت کاری کے الزام میں عمر قید کی سزا

سنائی گئی ہے، ان چاروں کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے رحمان بھولا اور زبیر چریا

کیلئے فیکٹری کے گیٹ کھلوائے اور آتش گیر کیمیکل فیکٹری کے اندر لانے کی

راہ ہموار کی۔ایم کیو ایم کے سابق صوبائی وزیر روف صدیقی، حسن قادری، ڈاکٹر

عبدالستار اور ادیب خانم کو عدم شواہد کی بنا پر بری کردیا گیا۔ان پر سیاسی اثر

ورسوخ استعمال کرنے اور لواحقین کی امداد کے نام پر فیکٹری مالکان سے پانچ

کروڑ روپے وصول کرنے کا الزام تھا۔عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ملزمان سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو دیت کی مد میں 27 لاکھ

77 ہزار 353 روپے فی کس کے حساب سے ادا کریں۔سزائے موت پانے والازبیر

چریا واردات کے بعد سعودی عرب فرار ہوگیا تھا اور اسے کراچی واپس آنے پر

رینجرز نے گرفتار کیا تھا جبکہ رحمان بھولا کو دسمبر 2016 میں انٹرپول کی

مدد سے اْس وقت پکڑا گیا جب وہ بینکاک سے جنوبی افریقا فرار ہونے کی کوشش

کررہا تھا۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں