81

کرونا میں احتیاط ہی علاج ہے ڈاکٹر شائستہ حبیب اللہ

Spread the love

ڈاکٹر شائستہ حبیب اللہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر NIRM

اسلام آباد (مہتاب پیرزادہ سے)صوبائی اور وفاقی حکومت کے تعلیمی اداروں کو کھولنے کے فیصلے پر بڑے پیمانے پر تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد ایک خوف کی فضا بھی بہرحال قائم ہے لوگ اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سےگھبرا رہے ہیں اس صورتحال کے پیش نظر NIRM اسلام آباد کی ایگزیکٹوڈائریکٹر ڈاکٹر شائستہ حبیب نے صرف اردو ڈاٹ کام سے بات کرنے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت نے کرونا کے خلاف موثر اقدامات کے پیش نظر جلد قابو پانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور ہمیں وہ نقصان نہیں اٹھانا پڑا جو دیگر ممالک کو اٹھانا پڑا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کرونا کے خلف جنگ میں ہر انسان نے ایک سپاہی کا کردار ادا کیا ہے البتہ محکمہ صحت کے کارکنان اور ڈاکٹروں نے صف اول کے مجاہدین کا کردار ادا کیا ہے جس کی تعریف تو کی جا سکتی ہے مگر ان کا شکریہ ادا نہیں کیا جا سکتا۔

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

انہوں نے کہا کہ گذشتہ مہینوں میں بھی اس بیماری کا مقابلہ احتیاط سے ہی کیا گیا ہے اور آئندہ بھی احتیاط ہی سے کامیابی ملے گی انہوں نے کہابڑوں سے تو ایس او پی پر کسی طریقہ پر عمل کرا لیا گیا ہے اور آئندہ بھی ایسا کرنے میں کچھ خاص مشکل پیش نہیں آئے گی لیکن اس مشکل کا سامنا اب کرنا پڑے گا کیوں کہ بچوں سے ایس او پیز پر عمل درآمد کرانا مشکل اور کٹھن ہوگالیکن آنے والی نسلوں کے بچاؤ کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کرونا وبا کے SOP پر بچوں سے ہر صورت میں عمل درآمد کروائے اور یہ بات ہر صورت میں یقینی بنایا جائے کے ہر بچہ ہر دو گھنٹے کے بعد ہاتھ صابن سے 20 سکینڈ تک دھوئےاور سکول انتظامیہ اس امر کی بھرپور طریقہ سے نگرانی کرے اور اس بات کا بھی سختی سے خیال رکھا جائے کہ چھٹی کے وقت بچوں کی بھیڑ نا بننے دیں۔ چھٹی کے وقت بچوں کو ایک ایک کر کے کلاس سے نکالیں اور مناسب فاصلے پر پہنچنے کے بعد ہی دوسرا بچہ کلاس روم سے روانہ کیا جائے۔

فوج کا سیاسی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ،عسکری قیادت

انہوں نے یہ کہا کہ والدین اور سکول انتظامیہ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ بچے ماسک اتار کر نا پھینکیں۔ ماسک کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماسک ہونا لازمی ہے یہ بات زیادہ اہم ہے کہ ماسک استعمال کیا جائےیہ کپڑے کا بھی ہوسکتا ہے اصل مقصد ناک اور منہ کا ڈھانپ کر رکھنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یورپ میں تھوڑی سی لا پرواہی کی وجہ سے کرونا کی دوسری لہر آئی ہے اور وہاں کی حکومت دوبارہ لاک ڈاون کی طرف جا رہی ہے ہمیں اس صورتحال سے ہر صورت میں بچانا ہے۔ڈاکٹر شائستہ حبیب اللہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں دوبارہ وبا کے پھیلنے کا کوئی اندیشہ تو نہیں ہے، اس کا واحد علاج فی الحال تو احتیاط ہی ہے۔ اگر خدانخواستہ وبا دوبارہ سے سر اٹھائے تو اس کے لیے ہماری منسٹری میں پروفیشنل آفیشلزموجود ہیں جو اس وبا کو خالص سائنسی تحقیق اور میڈیکل بنیادوں پر کنٹرول حاصل کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اخبارات اور ٹی وی پر مختلف سپرے اور صابن وغیرہ کے اشتہارات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کرونا کے خاتمے کے لیے اہم ہے تو اس سلسلہ میں کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کیونکہ کہ کرونا کا فی الحال تک تو علاج صرف اور صرف احتیاط ہےعوام کو چاہیے اور خود بھی احتیاط کریں اور اپنے بچوں کو بھی اس کی ہدایت کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں