ماں قسط نمبر10 Mother novel 78

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 17

Spread the love

ماں میکسم گورکی قسط

آدے گھنٹے کے بعد وہ کارخانے کے پھاٹکے پر بڑے اطمینان اور اعتماد کے ساتھ کھانے کے خوانچوں کے بوجھ سے جھکی ہوئی کھڑی تھی۔ جو بھی احاطے میں داخل ہوتا دو سنتری بڑے بھدے انداز میں اس کی جامہ تلاشی لیتے جس کے بدلے میں انہیں مزدوروں کی گالیاں اور فقرے بازیاں سننی پڑتیں۔ ایک طرف ایک پولیس والا اور لمبی ٹانگوں، سرخ چہرے اور چھوٹی تیز آنکھوں والا ایک دوسرا شخص کھڑا تھا ماں نے اپنی بہنگی ایک کاندھے سے دوسرے کاندھے پررکھی اور لمبی ٹانگوں والے شخص کو کنکھیوں سے دیکھا کیوںکہ وہ سمجھ گئی یہ شخص خفیہ کا ہے۔(ماں میکسم گورکی قسط)

گذشتہ قسط ماں: میکسم گورکی قسط نمبر16

’’بے ہودہ کہیں کے! ارے ہمارے سر کی تلاشی لو، جیبوں میںکیا دیکھتے ہو؟‘‘ ایک بلند قامت گھنگھریالے بال والے نوجوان مزدور نے سنتریوں سے کہا جو اس کی جیبوں کی تلاشی لے رہے تھے۔

’’تمہارے سر میں جوئوں کے سوا ہے ہی کیا‘‘ ایک سنتری نے کہا۔

’’تو جائو جوئیں ما رو اور ہم سے دور ہی رہو‘‘ مزدور نے فقرہ چست کیا۔

خفیہ کے آدمی نے اسے تیز نظروں سے دیکھا اور حقارت سے تھوکا۔

’’ذرا مجھے جانے دو‘‘ ماں نے کہا۔ ’’دیکھتے نہیں۔ ایسے بوجھ کے نیچے کسی کی بھی کمر ٹوٹ جائے گیا!‘‘

’’جائو، جائو!‘‘ سنتری نے چڑھ کر کہا۔ ’’تمہارا بولنا بھی ضروری ہے کیا؟‘‘

ماں جب اپنی جگہ پہنچ گئی تو اس نے خوانچے زمین پر رکھ دیئے، چہرے سے پسینہ پونچھا اور چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔

دونوں گوسیف بھائیوں نے، جو فٹر تھے، ماں کو دیکھا اور اس کی طرف چلے آئے۔

’’پروگی ہے؟‘‘ واسیلی نے جو دونوں میں بڑا تھا تیوریوں پر بل ڈالتے ہوئے دریافت کیا۔

’’کل لائوں گی‘‘ اس نے جواب دیا۔ یہ شناختی الفاظ تھے۔ بھائیوں کے چہرے کھل گئے۔

’’ماں تم کتنی اچھی ہو!۔۔۔‘‘ ایوان چیخ پڑا۔

واسیلی خوانچوں میں جھانکنے کے لئے زمین پر بیٹھ گیا اور اسی وقت پرچوں کا ایک بنڈل اس کے کوٹ کے اندر پہنچ گیا۔

، ’’آج گھر نہیں جائیں گے ایوان‘‘ اس نے اونچی آواز میںکہا۔’’ آج ان ہی سے کھاناخرید لیں گے۔‘‘ یہ کہتے کہتے اس نے ایک اور بنڈل لانبے جوتوں میں ڈال لیا۔ ’’اس نئی خوانچے والی کا دل بڑھانا چاہئے۔‘‘

’’بالکل ٹھیک ہے‘‘ ایوان نے ہنس کر کہا۔

ماں نے بڑی احتیاط سے ادھر ادھر دیکھا۔

’’شوربا! گرم سیوئیں!اس نے آواز لگائی۔

جلدی جلدی اس نے پرچوں کے بنڈل نکال نکال کر بھائیوں کے دینے شروع کئے۔ ہر بار جب ایک بنڈل اس کے ہاتھ سے غائب ہوتا تو پولیس کے افسر کا زرد چہرہ دیا سلائی کی چمک کی طرح اس کی نظروں میں لہراجاتا اور وہ آپ ہی آپ مزے لے کر کہتی:

’’یہ لو مغرور آدمی !‘‘

پھر دوسرا بنڈل :

’’اوریہ بھی !‘‘مزدور ہاتھوں میں پیالے لئے ہوئے آئے۔ جب بھی کوئی نزدیک آنے لگتا ایوان گوسیف زور سے ہنستا اور ماں پرچے دینا روک دیتی اور کھانے کی طرف مڑ جاتی۔

’’تم ہو بڑی ہوشیار پلاگیا نلوونا !‘‘ دونوں بھائی ہنسے۔

’’ضرورت سب کچھ کرواتی ہے ‘‘ نزدیک کھڑے ہوئے ایک اسٹو کرنے ترشی سے کہا۔ ’’اس کے روٹی کمانے والے کو تو لے گئے، حرامزادے !یہ لو ہمیں تین کوپک کی سویاں دو۔ کوئی بات نہیں ماں، تم کسی نہ کسی طرح کام چلا ہی ہو گی !‘‘

’’ہمدردی کاشکریہ !‘‘اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

’’ہمدردی کے چند لفظ کہنے میں کیا جاتا ہے ‘‘اس نے بڑ بڑاتے ہوئے کہا اور ایک کونے میں چلا گیا۔

’’گرم شوربا!سویاں !دلیا!پلاگیا نے آورز لگائی۔

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

وہ سو چتی رہی کہ پرچوں کے متعلق اپنے پہلے تجربے کے بارے میںاپنے بیٹے سے کیا کہے گی لیکن اس کے ذہن کے کسی گوشے میں افسر کا پریشان، غصے والا زرد چہرہ لہراتارہا۔ اس کی سیاہ مونچھیں فکر سے پھڑک رہی تھیں اور اس کے بھنچے ہوئے دانت سکڑے ہوئے ہونٹوں میں سے سفید سفید چمک رہے تھے۔ ماں کے سینے میں خوشی کسی پرند کی طرح چہچہائی۔ اپنی بھوئوں کو بڑے انداز سے اوپر چڑہاتے اور کام کرتے ہوئے وہ اپنے آپ سے کہتی رہی:

’’یہ لو، یہ بھی لے جائو!‘‘

اس شام کو جب وہ چائے پی رہی تھی تو کیچڑ میں گھوڑو ں کی ٹاپوں کی آواز سنائی دی اور پھر ایک جانی پہچانی سی آواز آئی۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور باورچی خانے سے ہوتی ہوئی دروازے کی طرف لپکی۔ ڈیوڑھی میں جلدی جلدی چلنے کی آواز سنائی دی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ایک دم تاریکی سی چھا گئی اور اس نے کھمبے کا سہارالیتے ہوئے پائوں سے دروازہ کھولا۔

’’آداب ننکو !‘‘جانی پہچانی آواز آئی اور لمبے پتلے بازوئوں نے اسے اپنے حلقے میں لے لیا۔

پہلے اس کے میں مایوسی کی وجہ سے ایک ٹیس سی اٹھی اور۔۔۔ پھر آندری کو دیکھنے کی خوشی کی وجہ سے۔ دونوں احساسات ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک عظیم وبسیط جذبے میں تبدیل ہو گئے جس نے اس کے سارے جسم میں ایک گرم لہر سی دوڑادی اور اسے انتہائی بلندیوں پر پہنچادیا یہاں تک کہ وہ آندری کے کاندھے پر منہ رکھ کر مضبوطی سے تھام لیا۔ ماں دھیرے دھیرے رو رہی تھی اور وہ اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتا ہوا کہہ رہاتھا:

’’روئو مت ننکو، دل تھوڑا مت کرو۔ میں سچ کہتا ہوں وہ جلدی ہی چھوٹ جائے گا۔ وہ لوگ کوئی جرم بھی تو ثابت نہ کرسکے۔ ہمارے سب لوگ بالکل خاموش ہیں جیسے گم سم کے لڈو کھا گئے ہیں۔ ۔۔‘‘

ماں کو کاندھے سے سہارا دیتے ہوئے وہ اسے دوسرے کمرے میں لے آیا۔ ماں اسکے بالکل نزدیک اس سے لگی ہوئی بیٹھی رہی اور گلہری کی سی پھرتی کے ساتھ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے ایک ایک لفظ کو بغور سنتی رہی۔

کتب بینی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی

’’پاویل نے سلام کہا ہے۔ بالکل اچھا اور بہت خوش ہے۔ وہاں لوگ بہت زیادہ ہو گئے ہیں !تقریباً سو آدمیوں کو بھر دیا ہے۔ کچھ شہر کے لوگ ہیں ،کچھ ہمارے ساتھی۔ اور ایک ایک کوٹھڑی میں تین تین چار چار کو بند کر دیاہے۔ جیل کے عہدہدار اچھے خاصے ہیں اور ان بے ہودہ خفیہ پولیس والوں نے انہیں جتنا کام دیدیا ہے اس سے بے چارے پس گئے ہیں۔ عہدہ دار زیادہ سخت نہیں ہیں۔ وہ لوگ تو لہتے ہیں ’بس کوئی ھنگامہ نہ کرو یارو تاکہ ہم پر کوئی مصیبت نہ آئے!،اور ہر چیز مزے سے ہوتی رہتی ہے۔ ہمارے ساتھی ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں، ایک دوسرے کو کتابیں دیتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کھانے میں شریک ہوتے ہیں۔ جیل اچھا ہے۔ پرانا اور گندا تو ہے لیکن زیادہ تکلیف نہیںہوتی۔ مجرم قیدی بھی اچھے لوگ ہیںاور ہماری کافی مدد کرتے ہیں۔ بوکن کو، مجھے اور چار دوسرے آدمیوں کو رہا کیا گیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پاویل کا نمبر البتہ سب سے آخر میں آئیگا۔

وہ جس طرح گالیاں دیتاہے اس کی وجہ سے سب لوگ اس کے مخالف ہو گئے ہیں۔ خفیہ پولیس والے پولیس والیتو اس کی صورت بھی نہیں دیکھ سکتے۔ یاتو اس پر مقدمہ چلا دیا جائے گا یا کسی دن مار پڑے گی۔ پاویل کہا کرتا ہے: یہ باتیں چھوڑو، نکولائی!تمہاری گالیوں سے یہ لوگ سدھرنے سے رہے۔ لیکن بس وہ چلاتا ہی رہتا ہے: ’میں انہیں روئے زمین سے پھوڑے کی پپڑی کی طرح نکال کر پھینک دوں گا!، پاویل کا طور طریقہ بہت اچھا ہے۔ وہ اپنے کہ ثابت قدم اور مضبوط بتائے ہوئے ہے۔مجھے تو یقین ہے کہ اسے جلد ہی رہا کردیں گے۔‘‘

’’جلدی !‘‘ماں نے شفقت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ دہرایا۔ اسے کچھ تسکین ہو گئی تھی۔ ’’مجھے یقین ہے کہ جلدی ہی ہو گا۔‘‘

’’تو اب تو تمہیں اطمینان ہوگیا!اچھا ایک پیالی چائے کے بارے میں کیا خیال ہے اور ذرا یہ بھی سنائو کہ تمہارے حال چال کیاہیں ؟‘‘

اس نے مسکراتے ہوئے ماں کی طرف دکیھا۔ کتنی نرمی اور اتنی ہمدردی تھی اس میں۔ اور اس کی غمزدہ آنکھوں میں محبت کا شعلہ رقصاں تھا۔

’’مجھے کتنے اچھے لگتے ہو تم آندریوشا!‘‘ماں نے ٹھنڈا سانس بھرااور اس کے چہرے کا مطالعہ کرنے لگی جس پر سیاہ ڈاڑھی بڑھ کر عجیب مضحکہ خیز سی ہو گئی تھی۔

’’بس تھوڑی سی محبت مجھے خوش کرنے کے لئے کافی ہے‘‘

اس نے کرسی پر جہولتے ہوئے کہا۔ ’’مجھے معلوم ہے کہ تم مجھے چاہتی ہو۔ تمہارادل تو اتنا بڑا ہے کہ اس میں سب کی محبت سما سکتی ہے۔ ‘‘

قانون اندھا نہیں اور نہ قانون والے اندھے ہیں

’’لیکن میں تمہیں خاص طور پر چاہتی ہوں ‘‘ اس نے اصرار کیا۔’’اگر تمہاری ماں ہوتی تو ہر شخص اس پر رشک کرتا کہ اتنا اچھا بیٹا پایاہے۔‘‘

خوخول نے اپنا سر ہلایا اور دونوں ہاتھوںسے تیزی کے ساتھ اسے سہلایا۔

’’میری ماں ہے لیکن نہ جانے کہاں‘‘اس کی آواز مدہم تھی۔

’’جانتے ہو آج میں نے کیاکیا؟‘‘ اس نے پوچھا اور پھر بڑے جذباتی انداز میں اس نے بیان کرنا شروع کیاکہ وہ پرچوں کوکار خانے کس طرح لے گئی۔ اپنے جوش وخروش کی وجہ سے اس نے پورے قصے کو کچھ بڑہاچڑہاکر بیان کیا۔پہلے تو خوخول نے آنکھیں پھاڑ کر اسے تعجب سے دیکھا اور پھر قہقہہ مار کر ہنسنے لگا۔

’’اوہو!‘‘وہ خوشی سے چلایا۔’’یہ بات بہت اچھی ہوئی !بالکل ٹھیک!پاویل کے تو بے حد ہی خوش ہوگا! بہت ہی اچھا ہوا ننکو، پاویل کے لئے اور تمام دوسرے لوگوں کے لئے !‘‘

وہ سارے جسم سے ہل رہاتھا۔ پھر اس نے انگلیاں چٹخائیںاور بڑے وجد میں آکر سیٹی بجانی شروع کی۔ اس کے روئیں روئیں سے مسرت ٹپک رہی تھی اور ماں سے اس کا بھرپور جواب مانگ رہی تھی۔

ماں میکسم گورکی قسط

’’کتنے اچھے ہو تم آندریوشا!‘‘اس نے اس طرح کہا جیسے اس کے دل کے دروازے کھل گئے ہوں اور الفاظ کا دھارا تیزی سے بہتا ہوا خاموش مسرت میںچمکتا دمکتا چلاجارہاہو۔’’جب میں خود اپنی زندگی کے متعلق سوچتی ہوں۔ یا میرے یسوع! میں زندہ ہی کیوں تھی۔۔۔ سوائے خوف کے اورکسی چیز سے واقف نہیں تھی! مجھے معلوم کہ جب میرا شوہر زندہ تھا تو میں نے اس سے محبت بھی کرتی تھی یا نہیں۔ میرے سارے خیالات اور میری ساری فکریں ایک ہی چیز کے بارے میں تھیں۔ اپنے اس جنگلی کے پیٹ کا دوزخ اچھے کھانوں سے بھرنا اور بغیر انتظار کرائے اس کی خواہشات کو پورا کرنا تاکہ اسے غصہ نہ آئے اور مجھے مار کی دھمکیاں نہ ملیں، تاکہ اسے کبھی ایک بار تو مجھ پر رحم آجائے! لیکن مجھے تو یاد نہیں کہ اس نے مجھ پر ایک بار بھی رحم کھایا ہو۔ مجھے تو اس طرح مارتا تھا جیسے اپنی بیوی کو نہ مار رہا ہو بلکہ ہر اس آدمی کو جس کے خلاف اسے کوئی شکایت تھی۔ بس برس تک اسی طرح زندگی گذارتی رہی اور اب تو مجھے یاد بھی نہیں کہ شادی سے پہلے زندگی کیسی تھی۔ میں جب بھی پچھلی باتیں سوچتی ہوں تو مجھے اپنے سامنے ایک خلا سا نظر آتا ہے۔ یگور ایوانووچ یہاں کی آیا تھا۔ ہم دونوں ایک ہی قصبے کے ہیں۔ وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا لیکن میں۔ مجھے مکان بھی یاد آیا اور لوگ بھی یاد آئے لیکن یہ یاد نہیںآیا کہ لوگ رہتے کس طرح تھے اور کہتے کیا تھے، اور مختلف لوگوں کاکیا ہو گیا۔ مجھے ایک آگ لگنے کا واقعہ یاد ہے۔ دو واقعے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے میرے اندر سے ہر چیز مار مار کر نکال لی گئی ہو اور میری روح پر پردہ پڑ گیا ہو۔ نہ کچھ سنائی دیتا ہے نہ دکھائی دیتا ہے۔‘‘

اس نے اس طرح سانس لیا جیسے کوئی مچھلی سانس لیتی ہو جسے پانی سے باہر نکال لیا گیا ہو۔ آگے کی طرف جھک کر اور دھیمے لہجے میں اس نے اپنا قصہ جاری رکھا:

ماں میکسم گورکی قسط

’’میرا شوہر مر گیا۔ میں نے بیٹے سے آس لگائی۔ لیکن وہ اس زندگی میں مصروف ہو گیا۔ میرے لئے یہ سب کچھ برداشت کرنا مشکل تھا اور اپنے بیٹے کے لئے میرا دل خوف وہشت سے پر تھا۔ اگر اسے کچھ ہوگیا تو میں زندہ کیسے رہوں گی؟کتنا ڈرتی اور کانپتی رہتی تھی میں۔ جب کبھی میں نے سوچا کہ اسے کہیں کچھ ہو نہ جائے تو میرا دل پھٹنے سا لگا۔‘‘

ایک لمحے کے لئے وہ خاموش ہو گئی اور پھر اپنے سر کی جنبش کے ساتھ اس نے بڑے معنی خیز انداز میں کہنا شروع کیا:

’’ہم عورتوں کی محبت خالص محبت نہیں ہوتی۔ ہمیں ان ہی چیزوں سے محبت ہوتی ہے جن کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے، لیکن میں تمہیں دیکھتی ہوں کہ اپنی ماں کے لئے اتنا کڑھتے ہو۔ بھلا تمہارے لئے اسکی اہمیت کیا ہے؟ اور یہ دوسرے لوگ دوسرے لوگوں کی لئے مصیبتیں اٹھا رہے ہیں، جیل جا رہے ہیں کیچڑ، پانی اور برفباری میں شہر سے چار پانچ میل چل کر راتوں کو تن تنہا ہمارے گھر آہی ہیں! ان سے کون کہتا ہے؟ ایسا کیوں کرتے ہیں یہ لوگ؟ اس لئے کہ ان کے پاس بے پناہ خالص محبت ہے اور ان کے پاس اعتقاد ہے۔ گہرا اعتقاد ہے آندر یوشا! لیکن میں اس طرح محبت نہیں کر سکتی! مجھے توصرف اپنوں سے محبت ہے، جو چیزیں میرے نزدیک ہی!‘‘

ماں میکسم گورکی قسط

’’نہیں، تم کر سکتی ہو‘‘ خوخول نے کہا۔ وہ مڑگیا اور حسب عادت اس نے اپنے سر، گالوں اور آنکھوں کو تیزی سے سہلایا۔ ’’ہر شخص اسی کو چاہتا ہے جو اس کے نزدیک ہو، لیکن ایک وسیع دل دور کی چیزوں کو بھی اپنا لیتا ہے۔ تم بہت بڑی بڑی چیزیں کرسکتی ہو کیونکہ تم میں ماں کی بے پناہ مامتا ہے!‘‘

’’خدا ایسا ہی کرے!‘‘ اس نے زیر لب کہا۔ ’’مجھے محسوس ہوتا ہے کہ رہنے کا یہ طریقہ اچھاہے۔ میں اب تم سے محبت کرتی ہوں آندری۔ شاید پاشا سے بھی زیادہ۔ وہ اتنا خاموش اور تنہائی پسند ہے۔ ذرا دیکھو تو کہ ساشا سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن مجھ سے، اپنی ماں سے اس نے ایک لفظ بھی نہ کہا۔۔۔‘‘

’’یہ صحیح نہیںہے‘‘ خوخول نے اعتراض کیا۔’’ مجھے پورا علم ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔ وہ ساشا سے محبت کرتا ہے اور ساشا اس سے۔ یہ بالکل صحیح ہے۔ لیکن وہ لوگ شادی کبھی نہیں کریں گے، وہ تو چاہتی ہے لیکن پاویل شادی کرنا نہیں چاہتا۔‘‘

ماں میکسم گورکی قسط

’’اچھا تو یہ بات ہے‘‘ ماں نے کچھ سوچتے ہوئے اور اپنی دکھ بھری نظریں خوخول کے چہرے پر گاڑتے ہوئے کہا۔’’ اچھا تو ایسی بات ہے۔ لوگ اپنی مسرت کو ٹھکرا دیتے ہیں۔‘‘

’’پاویل بڑا غیر معمولی آدمی ہے‘‘ خوخول کی آواز میں نرمی تھی۔ ’’آہنی ارادے کا انسان ہے۔۔۔‘‘

’’اور اب وہ جیل میں پڑا ہوا ہے‘‘ ماں نے سوچتے ہوئے بات جاری رکھی۔ ’’اس بات سے ڈر لگتا ہے۔ لیکن بہت زیادہ نہیں۔۔۔ زندگی اب مختلف ہے اور میرے خوف بھی مختلف ہیں۔اب میں ہر شخص کے لئے خوف زدہ ہوں۔ اور میرا دل بھی مختلف ہے کیونکہ میری روح نے میرے دل کی آنکھیں کھول دی ہیں اور یہ اسے سب کچھ دیکھ کر وہ رنجیدہ ہے لیکن خوش بھی ہے۔ بہت سی چیزیں ایسی بھی ہیں جنہیں میں نہیں سمجھتی اور مجھے کتنی تکلیف ہوتی ہے کہ تم لوگ خدا پر یقین نہیں رکھتے۔ لیکن میں کر بھی کیا سکتی ہوں؟ مجھے تویہ نظر آتا ہے کہ تم لوگ صحیح معنوں میں اچھے لوگ ہو، عوام کی خاطر تم نے ایک سخت اورکٹھن زندگی اختیار کی ہے اور صداقت کی خاطر مشکل زندگی گزار رہے ہو۔ اور اب میں تمہاری صداقت کو سمجھنے لگی ہوں: جب تک امیر لوگ باقی ہیں اس وقت تک عام لوگوں کو کچھ بھی نہیں مل سکتا، نہ خوشی نہ انصاف۔ کچھ بھی نہیں۔ اب جب کہ میں تم لوگوں کے ساتھ رہ رہی ہوں تو کبھی کبھی راتوں کو اپنے ماضی کے متعلق سوچتی ہوں، اپنی جوانی کی امنگوں کے بارے میں سوچتی ہوں، جو پیروں تلے مسل دی گئیں اور میرا جوان دل گھونسوں سے زخمی کر دیا گیا اور خود اپنے لئے میرے دل میں ترحم اور تلخی کے جذبات بے دار ہوتے ہیں۔ لیکن اب میرے لئے زندہ رہنا آسان ہو گیا ہے۔ رفتہ رفتہ میں اپنے آپ کو دیکھنے لگی ہوں کہ میں کیا ہوں۔۔۔‘‘

ماں میکسم گورکی قسط

خوخول کھڑا ہو گیا۔ بلند قامت، دبلا اور متفکر۔ اور اس نے فرش پر ٹہلنا شروع کر دیا اور یہ کوشش کرتا رہا کہ کوئی آواز پیدا نہ ہو۔

’’تم نے کس خوبی سے سب باتیں کہی ہیں‘‘ اس نے دھیرے سے کہا۔ ’’ کتنی اچھی طرح سے! کیرچ شہر میں ایک نوجوان یہودی رہتا تھا جو شعر لکھتا تھا اور ایک دن اس نے یہ لکھا:

اور نہیں جو بے گناہ قتل کئے گئے
صداقت کی قوت پھر سے زندہ کر دیگی!۔۔۔

ماں میکسم گورکی قسط

اپنا تبصرہ بھیجیں