ماں قسط نمبر10 Mother novel 113

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر16

Spread the love

ماں جب کمرے میں واپس آئی تو اس نے تشویش کے ساتھ کھڑکی سے باہر دیکھا۔ تاریکی میںبرف کے نم گالے گر رہے تھے۔(ناول ماں میکسم گورکی)

’’پروزوروف کا خاندان یاد ہے؟‘‘ یگور نے دریافت کیا۔

وہ پائوں پھیلائے بیٹھااپنی چائے کو زور زور سے پھونک رہا تھا،اس کا چہرہ سرخ اور نم اور مطمئن تھا۔

’’ہاں مجھے یاد ہے‘‘ ماں نے میز کی طرف آڑا آڑا چل کر آتے ہوئے کچھ سوچ کر کہا۔ وہ بیٹھ گئی اور اس نے یگور کی طرف دکھ بھرے انداز میں دیکھا۔

’’چہ۔ چہ۔ چہ !بیچاری ساشا! کیسے پہنچے گی شہر وہ ؟‘‘

’’ تھک جائے گی‘‘ یگور نے اتفاق کیا۔ ’’جیل نے اسے کافی کمزور کر دیا۔ پہلے بہت اچھی صحت تھی۔ بڑے آرام وآسائش سے پلی ہے۔۔۔ معلوم ہوتا ہے اس کے پھیپھڑوں پر ایک دھبہ تو آگیا ہے۔۔۔‘‘

’’کون ہے یہ؟‘‘ ماں نے آہستہ سے دریافت کیا۔

’’ایک صاحب جائداد کی بیٹی ہے۔ اس کے کہنے کے مطابق اس کا باپ بالکل سور ہے۔ تمہیں معلوم ہے وہ لوگ شادی کرنا چاہتے تھے؟‘‘

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

’’وہ اور پاویل۔۔۔ لیکن کچھ ہو ہی نہیں چکتا۔ جب وہ باہر ہوتا ہے تو یہ جیل میں اور جب یہ باہر تو وہ جیل میں۔‘‘’’مجھے یہ نہیں معلوم تھا‘‘ ماں نے کچھ وقفے کے بعد کہا۔ ’’پاویل کبھی اپنے بارے میں بات ہی نہیں کرتا۔۔۔‘‘

اب لڑکی کے لئے اس کا دل اور بھی دکھنے لگا اور غیر ارادی نا پسندیدگی کے ساتھ وہ اپنے مہمان کی طرف مڑی۔

’’تم نے اسے گھر تک کیوں نہیں پہنچا دیا؟‘‘ اس نے دریافت کیا۔

’’نہیں پہنچا سکتا تھا‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’مجھے یہاں بستی میں بہت سے کام کرنے ہیں۔ صبح سویرے سے دن بھر مجھے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا ہے اور مجھے جیسے آدمی کے لئے جس کا اتنی جلدی سانس پھول جاتا ہے یہ آسان کام نہیں ہے۔‘‘

’’بڑی اچھی لڑکی ہے‘‘ ماں نے کہا۔ اس کے ذہن میں اب تک وہی بات گھوم رہی تھی جو یگور نے اسے ابھی بتائی تھی اپنے بیٹے کے بجائے ایک غیر سے یہ بات سن کر اسے تکلیف ہوئی اور اس کی تیوریوں پر بل پڑگئے اور اس نے اپنے ہونٹ بھینچ لئے۔

’’یقیناً اچھی لڑکی ہے‘‘ یگور نے ہاں میں ہاں ملائی۔ ’’میںجانتاہوں اس کے لئے تمہارا دل دکھ رہا ہے۔ لیکن کوئی فائدہ نہیں۔ اگر ہم باغیوں پر یوں دل دکھاتی رہیں تو تمہارا دل کہیں کا نہ رہے گا۔ سچ پوچھو تو ہم میں سے کسی کی زندگی بھی آرام سے نہیں کٹتی۔ میرا ایک ساتھی جلاوطنی سے ابھی واپس آیا ہے۔ جب وہ نیژنی نووگرود پہنچا تو اس کی بیوی اور بچہ سمولینسک میں اس کا انتظار کر رہے تھے لیکن جب وہ سولینسک پہنچا تو وہ لوگ ماسکو جیل میں پہنچ چکے تھے۔ اب اس کی بیوی کے سائبیر یا جانے کی باری ہے۔ میری بھی بیوی تھی۔ بے حد ہی اچھی عورت۔ اس قسم کی پانچ برس کی زندگی نے اسے قبر میں پہنچا دیا۔‘‘

حکومت چین نے کورونا سے نمٹنے کیلئے 4ملین ڈالر کی امداد دی،وزارت صحت

اس نے ایک گھونٹ میں چائے ختم کر دی اور اپنی کہانی جاری رکھی۔ اس نے اپنی جیل اور جلاوطنی کی سزا کے سال اور مہینے گنائے۔ مختلف مصیبتوں مثلاً جیل میں مار کھانے اور سائبیریا میں فاقے کرنے کے واقعات سنائے۔ ماں اس کی طرف دیکھتی رہی اور جس پرسکون سادگی کے ساتھ وہ اپنی مصیبتوں اور اذیتوں کی زندگی کی کہانی کو سنا رہا تھا اس پر تعجب کرتی رہی۔

’’لیکن اب کام کی باتیںکریں۔‘‘

اس کا لہجہ تبدیل ہو گیا اور چہرے پر زیادہ سنجیدگی آگئی۔ اس نے دریافت کرنا شروع کیا کہ وہ کارخانے میں پرچے وغیرہ کیسے لے جائے گی اور ماں کو اس کے تفصیلات کے علم پر سخت حیرت ہوئی۔

اس موضوع پر بات ختم کرنے کے بعد ایک بار پھر انہوں نے اپنے وطن کی باتیں شروع کیں۔ اس کا لہجہ مذاحیہ تھا لیکن ماں ماضی کے اوراق پلٹتے ہوئے کچھ سوچ رہی تھی۔ اور اسے ایسا معلوم ہوا کہ اس کا ماضی غیر معمولی طورپر ایک دلدل سے مشابہت رکھتا تھا جہاں ننھے ننھے سرو اور سفید برچ اور نازک اندام لرزتے ہوئے آسپین کے درخت بھی اگتے تھے۔ برچ کے پودے آہستہ آہستہ بڑے ہوتے گئے اور اس گندی زمین میں پانچ برس تک رہنے کے بعد وہ گر کر سڑگئے۔ اس نے یہ سارا منظر دیکھا اور اس کے دل میں ترحم کا ایک اتھاہ جذبہ بیدار ہو گیا۔ پھر اسے ایک نوجوان لڑکی کی شکل نظر آئی، ایک لڑکی جس کے خدوخال نمایاں اور چہرہ سخت تھا۔ وہ لڑکی برف کے گیلے ڈھیر میں راستہ بناتی ہوئی تھکی ماندی تنہا چلی جا رہی تھی۔۔۔ اور ماں کا بیٹا جیل میں تھا۔ ممکن ہے ابھی تک سویا بھی نہ ہو بلکہ لیٹا کچھ سوچ رہا ہو۔۔۔ لیکن وہ اس کے بارے میں، اپنی ماں کے بارے میں نہیں سوچ رہا ہو گا۔ اب تو اس کے پاس ایک اور زیادہ عزیز ہستی تھی۔ بادلوں کے پھٹے ہوئے ٹکڑوں کی طرح یہ تکلیف دہ خیالات اس کے ذہن میں آتے رہے اور اس کی روح پر تاریکی سی چھا گئی۔۔۔

عراق میں راکٹ حملے حکومتی رِٹ کو سبوتاژ کر رہے ہیں ، امریکی سفیر

’’ماں، تم تھک گئی ہو۔ چلو سوجائیں‘‘ یگور نے مسکراتے ہوئے کہا۔

اس نے خدا حافظ کہا اور آہستہ سے باورچی خانے میں چلی گئی۔ اس کے دل میں بلا کی تیز تلخی بھری ہوئی تھی۔

دوسرے دن ناشتے پر یگور نے کہا:

’’اگر ان لوگوں نے تمہیں پکڑ لیا اور پوچھاکہ یہ خطرناک پرچے کہاں سے ملے تو کیا کہوگی؟‘‘

’’میںکہوں گی اس سے تمہارا کوئی تعلق نہیں‘‘ اس نے جواب دیا۔

’’لیکن میرا خیال ہے کہ وہ تم سے اتفاق نہ کریں گے‘‘ یگور نے اعتراض کیا۔ ’’انہیں پورا یقین ہے کہ اس کا ان سے تعلق ہے۔ وہ لوگ تم سے کرید کرید کر پوچھتے رہیں گے۔‘‘

لداخ سے چلے جاؤ ورنہ سردی مار دے گی، چینی فوج کا لائوڈ سپیکر پر بھارتی اہلکاروں کو پیغام

’’لیکن میں انہیں بتائوگی نہیں۔‘‘

’’وہ تمہیں جیل میں ڈال دیں گے۔‘‘

’’تو کیا ہوگا؟ میں تو خدا کا شکر ادا کروں گی کہ میں اس قابل تو ہو گئی!‘‘ اس نے ٹھنڈا سانس بھر کر کہا۔ ’’میری ضرورت کسی کو ہے؟ کسی کو نہیں، اور پھر وہ لوگ مجھے اذیت بھی نہ دیں گے وہ کہتے ہیں۔۔۔‘‘

’’ہونہہ!‘‘ یگور نے اس کی طرف نظریں جما کر کہا۔ ’’نہیں وہ تمہیں اذیت نہ دیں گے لیکن اچھے آدمیوں کو اپنا خیال رکھنا چاہئے!‘‘

’’تمہیں بھلا یہ کہنے کا کیا حق ہے!‘‘ ماں نے کچھ ہنس کر جواب دیا۔

یگور بغیر کچھ جواب دئے کمرے میں ٹہلتا رہا۔ پھر وہ ماں کے پاس گیا اور بولا:

’’بہت مشکل ہے ماں۔ مجھے معلوم ہے تمہارے لئے کتنا مشکل ہے۔‘‘

’’ہر شخص کے لئے مشکل ہے‘‘ اس نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔’’ ممکن ہے جو لوگ سمجھتے ہوں ان کے لئے اتنا مشکل نہ ہو۔ لیکن آہستہ آہستہ میں نے سمجھنا شروع کر دیا ہے کہ اچھے لوگ کس چیز کی تلاش میںہیں۔‘‘

’’ایک بار یہ سمجھ گئیں تو پھر ہر شخص کو تمہاری ضرورت ہو گی ماں۔ ہر شخص کو!‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا۔
ماںنے اس کی طرف دیکھا اور کچھ کہے بغیر مسکرائی۔

دوپہر کو اس نے کارخانے جانے کی تیاری شروع کی۔ اپنے کپڑوں کے نیچے اس نے پرچے وغیرہ اس ہوشیاری سے باندھے کہ جب یگور نے دیکھا تو بڑے اطمینان او ر مزے سے چٹخارہ لیتے ہوئے بولا:

’’زیر گٹ!‘ جیسے تمام بھلے جرمن بیر کا پہلا گھڑا ڈکار جانے کے بعد کہتے ہیں۔ ان پرچوں وغیرہ نے تم میں ذرا سی بھی تو تبدیلی نہیں پیدا کی، ماں۔ تم وہی شفیق، ادھیڑ عمر کی عورت ہو، لمبی اور کچھ مٹاپے کی طرف مائل۔ تمہاری اس معمولی سی ابتدا پر سارے دیوتائوں کا سایہ رہے!‘‘

ناول ماں میکسم گورکی ناول ماں میکسم گورکی ناول ماں میکسم گورکی

اپنا تبصرہ بھیجیں