119

قانون اندھا نہیں اور نہ قانون والے اندھے ہیں

Spread the love

گل بخشالوی

موٹروے سانحہ کے سفاک مجرموں تک رسائی کی تفصیلات بتا تے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، صوبائی وزیرِ قانون راجہ بشارت اور آئی جی پنجاب انعام غنی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ سا نحہ کے مجرموں تک رسائی ہو گئی ہے اور مجرم جلد عدالت کے کٹہرے میں ہوں گے پنجاب پولیس نے بہتر گھنٹے کے اندر اندر مجرموں کا سراغ لگایا جو کہ قابلِ تحسین ہے مجرموں تک رسائی میں معاونین کو پچیس پچیس لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔

آئی جی پنجاب نے سوشل میڈیا اور مختلف ٹی وی چینلز پر حقائق کے منافی خبروں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا غیر تصدیق شدہ خبروں سے پرہیز کر ے ایسی بے بنیاد خبریں کیس پر اثر انداز ہوتی ہیں عوام کو گمراہ کرنے کے لئے ملزمان اور خاتون کی غلط تصاویر شیئر کی گئیں میڈیا اور عوام پولیس اور قانون پر اعتماد کریں !چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا تھا کہ موٹروے ڈکیتی کیس شرمندگی کے باعث ہے پولیس اپنے فرائض سے غافل ہے حالیہ واقعات پولیس کے نظام میں گراوٹ اور سیاسی مداخلت ظاہر کرتی ہے محکمہ پولیس کے ساکھ کو بحال کرنا ہو گا !!

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

پاکستان کی عوام اس حقیقت سے انکار نہیں کرے گی لیکن پاکستان میں مساجد سے آذان سے محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی اسلامی ملک کے باشندے ہیں لیکن اگر ہم اپنے اطراف میں دیکھیں تو ہر کوئی حسبِ طاقت فرعون صفت ہے ہر طرف دہوکہ فریب جھوٹ ظلم و جبراور بربریت کا راج ہے ،پنجاب پولیس نے اپنے دامن پر لگے لاپرواہی کے داغ کو دھونے کی حسب روایت کوشش کی لیکن ان کی اس کوشش پر تھانے میں اپنے خاندان کے ساتھ پیش ہو کر گرفتاری دینے والے ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا نہ تو میں مجرم ہوں اور نہ اس جرم میں ملوث ہوں متاثرہ خاتون نے بھی تصدیق کی کہ ملزم وقار الحسن میرا مجرم نہیں ۔

گاؤں کے باشندوں نے بھی وقارالحسن کی شرافت کی گواہی دی شیخوپورہ پولیس نے کہا کہ ملزم کا کوئی کرمنل ریکارڈ نہیں لیکن لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ ملز م تھانے میں پیش نہیں ہوا بلکہ اسے چھاپہ مار کر گرفتار کیا گیا اور ا س کا ڈی این اے سمپل لیبارٹری میں چلا گیا لیبارٹری رپورٹ میں وقارالحسن کے مجرم ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق ہوگی ۔

کورونا کے سائے اور عالمی یوم خواندگی

پاکستان کے عوام اپنے پاکستان کی پولیس کو بخوبی جانتی ہے پولیس ٹاچر سل میں بے قصور لوگ ظالمانہ تشدد سے نجات کے لئے خود کو قصور وار مان لیتے ہیں جہان تک لیبارٹری رپورٹ کا تعلق ہے تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی موجودگی میں بر آمد ہونے والی شراب اگر زیتون کا تیل بن سکتی ہے تو وقار الحسن کا ڈی این اے بھی میچ ہو سکتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستا ن میں یہ کوئی انہونی نہیں ہو گی یہا ں تو اندھی وارداتوں کے مجرم وہ ہوتے ہیں جن کے گلے میں پھندہ فٹ آتا ہے وہ ہی سولی پر لٹکتے ہیں اصل مجرم اول گرفتار نہیں ہوتے اور اگر غلطی سے ہوبھی جائیں تو عدالت میں جج گواہی اور ثبوت مانگتا ہے لیکن ایسوں کے خلاف گواہی کون د یتا ہے جرم سے پہلے وہ داستانے پہن لیا کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر خون کب نظر آتا ہے رہی بات عدالت میں انصاف کی تو ماضی کی دوری میں نہ جائیں ابھی کل ہی کی بات ہے بلوچستان کی ایک عدالت میں جج نے ایک ایم پی اے کو قتل کے جرم سے عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا حالانکہ موقع پر موجود لوگوں نے دیکھا پولیس سارجنٹ کو تیز رفتار گاڑی نے چوک میں کچل دیا۔

کچلنے والے ایم پی اے کو گاڑی سے اترتے موقع پر موجود لوگوں اور وڈیو میں دنیا نے دیکھا لیکن جج صاحب نے نہیں دیکھا جس ملک میں قانون والے اسقدر اندھے ہو ں تو شکوہ کس سے کریں جہان تک ڈی آئی جی کی میڈیا سے گزارش ہے تو کاش میڈیا والے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ایسی نوعیت کی واردات میں ان کی اپنی ماں بہن اور بیٹی متاثر ہوں اور میڈیا میں ان سے متعلق یہ کچھ ہو جو سانحہ گوجر پورہ کی متاثرہ خاتو ن کے حوالے سے کہا اور دکھایا جارہا ہے تو کیا ان کی غیرت گوارہ کرے گی ؟؟

جانے پاکستان کی مڈیا والے اس قدر بے حس کیوں ہیں اگر قانونی ضابطے کی بات ہو تو ضابطہ اخلاق کا قانون ہے کہ زنابالجبر۔جنسی بد اخلاقی۔ دھشت

گردی اغواءاور ایسی نوعیت کی خبر کے لئے متاثرہ خاندان کی اجازت ضروری ہے لیکن کون پوچتا ہے ایسے ضابطوں کو اور اگر کوئی پوچھ لیتا ہے توآزادیءصحافت پر قد غن کا شور مچ جاتا ہے رہی بات پولیس کی تو مان لیتے ہیں کہ پولیس غیر ذمہ دار ہے لیکن پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیںکالی بھیڑیں ہر ادارے میں ہوتی ہیں پولیس میں زندہ ضمیر بھی ہیں جو مجرم کو گرفتار کر کے عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کر دیتے ہیں لیکن عدالت والوں نے کھبی سوچاہے کہ سفاک مجرم ضمانت پر رہا اور بری کیوں ہو جاتے ہیں مجرموں کو تختۂ دار پر لٹکانے کی بجائے ان کے کیس عدالتوں میں کیوں لٹکا دئے جاتے ہیں عدالتوں میں انصاف کا خو ن کیوں ہو تا ہے شاید اس لئے کہ عوام کو بھی ایسے واقعات بھول جانے کی عادت ہے۔

گجر پورہ کے جنگل میں مظلوم خاتو ن اس کے بچے اور درندوں کے علاوہ ایک خدا تھا وہاں قانو ن نہیں تھا اور نہ کسی نے مجرموں کو جرم کرتے دیکھا مجرم صحتِ جرم سے انکار بھی کر سکتا ہے لازم ہے کہ گواہ کی ضرورت پڑے گی موقعہ کی گواہ خاتو ن کے سوا کوئی اور نہیں ہو گا تو کیا ہو گا وہ ہی جو ہوتا چلا آرہا ہے عدمِ ثبوت کی بنا پر مجرم بری ہو جائے گا ایسے حالات میں پولیس کیا کر سکتی ہے لیکن امید ہے ایسا نہیں ہو گا قومی عدالت ثابت کرے گی کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے یہاں قانون اندھا نہیں اور نہ قانو ن والے اندھے ہیں ان شاءا للہ !!!

قانون اندھا گل بخشالوی قانون اندھا گل بخشالوی قانون اندھا گل بخشالوی

اپنا تبصرہ بھیجیں