62

شیعہ عالم دین ضمیر اختر نقوی انتقال کر گئے

Spread the love

لاہور(ظہیر عباس سے) (ضمیر اختر نقوی انتقال)علامہ ضمیر اختر نقوی کو طبیعت خراب ہونے

پر 12 اور 13 ستمبر کی درمیانی شب کراچی کے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ خالق حقیقی

سے جا ملے۔ااہل تشیع مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علامہ ضمیر اختر نقوی سوشل میڈیا پر

بھی بہت مشہور تھے، وہ اپنی تقریروں، قصے و واقعات بیان کرنے کے حوالے سے منفرد

شہرت رکھتے تھے۔علامہ ضمیر اختر نقوی کولڈن جعفری کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور ان کے

بیانات کو سوشل میڈیا پر خوب شیئر کیا جاتا تھا۔ کراچی میں علامہ ضمیر اختر نقوی کو ضمیر

گھوڑوی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ علامہ ضمیر اختر نقوی گھوڑوں کی دعوت

کیا کرتے تھے اور ان کے لیے باقاعدہ شامیانے لگا کر میزوں پر دودھ جلیبیوں کی پرات سجا کر وہاں

لایا جاتا اور اس طرح کی مجالس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اکثر زیر بحث رہتی ہیں۔

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ضمیر اختر نقوی نے ایک ویڈیو میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا پاکستان ذوالجناح کی وجہ سے بنا اور اس

کی وجہ بیان کرتے ہوئے اپنی مجلس میں بیان کیا کہ مسٹر جناح کی دادی ذوالجناح کے پاس گئیں اور

ذوالجناح نے ان کے کان میں کچھ کہا پھر کچھ عرصہ بعدمسٹر جناح پیدا ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا

کہ مسٹر جناح کے نام کے ساتھ لفظ ’’جناح‘‘ ذوالجناح کی ہی نسبت سے ہے کیونکہ ان کی پیدائش

ذوالجناح کی دعا وغیرہ سے ہوئی تھی۔

قومی ایئر لائن کا آڈٹ مکمل کرلیا گیا

اہل خانہ کے مطابق علامہ ضمیر اختر نقوی کی نماز جنازہ آج بعد نماز مغرب کراچی میں انچولی

کے علاقے میں قائم امام بارگاہ میں ادا کی جائے گی۔عالم دین کے انتقال پر گورنر و وزیر اعلیٰ سندھ

سمیت اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے علامہ کی خدمات کا اعتراف کیا۔

ضمیر اختر نقوی 24 مارچ 1944ء میں بھارت شہر لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید

ظہیر حسن نقوی تھا جب کہ ان کی والدہ کا نام سیدہ محسنہ ظہیر نقوی تھا۔ پیدائش کے وقت نام ظہیر

رکھا گیا تھا۔ 1967ء میں وہ نقل مقام کر کے پاکستان چلے گئے اور مستقلًا کراچی شہر میں

سکونت اختیار کیے۔ تعلیمی اعتبار سے وہ لکھنؤ کے حسین آباد اسکول سے میٹرک پاس کیے

اور گورنمنٹ جوبلی کالج، لکھنؤ سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیے۔ انہیں گریجویشن کی سند شیعہ کالج

لکھنؤ سے حاصل ہوئی۔

علامہ ضمیر اختر نقوی نے جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی، انہیں

سائنس، فلسفے، ادب، ثقافت، صحافت، سماجی مسائل، اسلامی تعلیمات اور خصوصی طور پر اہل

تشیع مکتبہ فکر سے متعلق دینی تعلیمات پر عبور حاصل تھا۔علامہ ضمیر نقوی میر انیس اکیڈمی کے

صدر بھی تھے، ساتھ ہی وہ میگزین آل کلام کے ایڈیٹر ان چیف بھی تھے۔

علامہ ڈاکٹر سید ضمیر اختر نقوی نے عشرہ مجالس کے علاوہ تاریخ، اردو غزل اور کربلا، واقعاتِ

کربلا غزل کے آئینے میں، فرہنگِ ذکر کربلا، غزل میں مماثلت بلا واسطہ اشعارِ غزل، شوق تشنگی

اور سوانح حیات پر مبنی 43کتب بھی تحریر کیں۔علامہ ضمیر اختر نقوی کی وفات پر متعدد عالم دین

نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی موت کو بڑا نقصان قرار دیا۔

ضمیر اختر نقوی انتقال ضمیر اختر نقوی انتقال

اپنا تبصرہ بھیجیں