فیاض احمد علیگ ڈاکٹر 157

چٹانوں کا گلاب۔ پروازؔ جونپوری

Spread the love

(1936ء تا 2011ء)

ڈاکٹر فیاض احمد (علیگ)
dr.faiyaz.alig@gmail.com
Mo. 9415940108

شاہ محمد پرواز جونپوری


روزپھول کھلتے ہیں سیکڑوں گلستاں میں
بات ہے چٹانوں میں اک گلاب ہو جانا
گلستاں میں پھولوں کا کھلنا کوئی کما ل کی بات نہیں ہے۔ کمال تو اس گلستاں کی زرخیز مٹی کا ہے، جس کی زرخیزی نے ان کو جنم دے کر ان کو آب و دانہ مہیا کر کے ان کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور پھر گلستاں کے مالی نے انہیں تراش خراش کر ان کے حسن و جمال میں اضافہ کیا۔ اس طرح بحیثیت مجموعی ان پھولوں کی پیدائش و افزائش اور ان کے حسن وجمال میں ان کا اپنا ذاتی کوئی کمال نہیں بلکہ اس کی تمام ترخو بیاں اس مٹی کی زرخیزی اور مالی کی دیکھ بھال کا نتیجہ ہیں۔ اس کے برعکس اگر کسی پتھریلی چٹان پر کوئی پھول کھلتا ہے اور اپنے وجود کی بقاء کے ساتھ ساتھ اپنا حسن و جمال بھی برقرار رکھتا ہے، تو یقیناً یہ اس کا ذاتی کمال ہوتا ہے۔ موسم کے تلخ و تند کو جھیلنا اور بغیر کسی سہارے و بنا کسی اضافی غذاء کے اپنے وجود کو قائم رکھنا اس کی مضبوطی و پائیداری کی دلیل ہے۔ اس میں نہ تو اس مٹی کی زرخیزی کا دخل ہے نہ کسی مالی کا احسان ہی شامل ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ان پھولوں میں وہ کشس نہ آ سکے جو تتلیوں کو اپنی طرف راغب کر سکے۔ اس کے باوجود وہ خود رو پھول زندگی کی علامت تو ہے۔

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

پروازؔ جونپوری بھی چٹانوں کے خود رو گلاب کی مانند ضلع جونپور کے انتہائی پسماندہ و غیر معروف گاوئں لکھماں پور میں پیدا ہوئے اور تا عمر اپنے وجود کی بقاء کے لئے زندگی سے لڑتے رہے۔ ان کی شاعری میں نہ تو لکھماں پور کی مٹی کا کوئی دخل ہے اور نہ ہی یہ انہیں وراثت میں ملی ہے۔ نہ ہی کبھی ان کے سرپر کسی ’’گاڈ فادر ‘‘کا ہاتھ رہا ہے بلکہ ان کا فکر و فن اور ان کی شاعری خالص ان کی ذاتی محنت و صلاحیت کا نتیجہ ہے۔ ہاں ! اتنا ضرور ہے کی آب و دانہ کی کمی ان کی صحت و صلاحیت دونوں پر اثر انداز ہوئی ہے۔ اس کے باوجود یہ خود رو گلاب زندگی کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ابھی یہ سرزمین بالکل بنجر نہیں، اس کی کوکھ بالکل بانجھ نہیں ہے۔ پروازؔ جونپوری کا وجود اور ان کا فن اس بات کا اشارہ ہے کہ یہاں بھی مردم خیزی کے امکانات ہیں بشرطیکہ ان چٹانوں کی مستقل آبیاری کی جائے۔ کوئی چشمہ تو پھوٹے جو ان چٹانوں کو تر کر سکے، تو نہ جانے کتنے گلاب کھل اٹھیں۔ بقول شاعر

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

پروازؔ جونپوری کا پورا نام شاہ محمد انصاری ولد وزیر انصاری ہے۔ وہ ضلع جونپور کی ایک تحصیل شاہ گنج کے ایک چھوٹے سے گائوں لکھماں پور میں ۱۹۳۶ءمیں پیدا ہوئے۔ ۱۴ سال کی عمر میں ہی ۱۹۴۸ءمیں والد کا انتقال ہو گیا۔ چونکہ پروازؔ جونپوری اپنے والدین کی اکلوتی و آخری اولاد نرینہ تھے۔ بڑی تین بہنیں اپنے اپنے گھر کی ہو چکی تھیں۔ اس لئے والد کے انتقال کے بعد فکر معاش دامن گیر ہوئی، توتعلیم کو انگوٹھا دکھا کرتلاش معاش میں کلکتہ چلے گئے۔ دوسال بعد والدہ کابھی انتقال ہو گیا۔ اب پروازؔ جونپوری ؔبالکل تنہا رہ گئے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں اور کہاں جائیں؟بھوک نے ستایا تو ایک بار پھر کلکتہ کا رخ کیالیکن وہاں کی آب و ہوا راس نہ آئی۔ تلاش معاش میں پروازؔ جونپوری ۱۹۸۰ءمیں عروس البلاد ممبئی پہنچ گئے۔ وہاں در در کی ٹھوکریں کھانے کے بعد، اس دور کے مشہور زمانہ موہن اسٹوڈیو میں کانچ کا کام کرنے کا موقع ملا۔ فن شیشہ گری میں پروازؔ جونپوری کو کافی مہارت حاصل تھی چنانچہ مشہور فلم ’’مغل اعظم ‘‘ کے شیش محل میں کانچ کے ٹکڑوں کی نقاشی و سجاوٹ پروازؔ جونپوری ہی کی رہین منت ہے۔ اسی دوران فرصت کے اوقات میں کے آصف، دلیپ کمار،سہراب مودی، اور وی شانتا رام وغیرہ پروازؔ ؔجونپوری سے ان کی غزلیں سنا کرتے تھے اور اسی دوران کے آصف نے یہ وعدہ کیا تھا کہ ان کی اگلی فلم ’’شاہجہاں ‘‘ میں وہ پروازؔ جونپوری کے دو گانے شامل کرکے انہیں بریک دیں گے مگر قسمت نے اس سے پہلے ہی انہیں بریک دے دیا۔ ہوا یوں کہ ۱۹۵۶ء میں ’’مغل اعظم‘‘ کے شیش محل کی نقاشی کے دوران پروازؔ جونپوری کا پیر پھسلا اور وہ عرش سے فرش پر آ رہے۔ دلیپ کمار نے فوراً اپنی کار سے ہاسپٹل پہنچایا۔ اس حادثہ میں ان کے پاوئں میں کافی چوٹیںآئیں، جس کی وجہ سے وہ مہینوں صاحب فراش رہے۔ ابھی پوری طرح اپنے پیروں پر کھڑے بھی نہ ہو سکے تھے کہ چیچک نے آ دبوچا۔ جس کے نشانات تمام عمر ان کے چہرے پر موجود رہے۔ چیچک سے شفا یابی کے بعد فلمی دنیامیں واپس نہ جا کر بھیونڈی کا رخ کیا اور وہیں سکونت اختیار کر لی۔

میک اپ کرنے سے بہت چِڑ ہے،اداکارہ ثنا جاوید

شاعری کا شوق پرواز ؔ جونپوری کو بچپن سے تھا۔ طبیعت موزوں تھی۔ بھیونڈی پہنچ کر شعری مذاق کو مزید جلا ملی۔ وہاں کے مقامی شعراء سے ربط ضبط بڑھا، تو شعری نشستوں میں بھی شرکت کرنے لگے۔ شعری نشستوں کے دوران ہی وہاں کے مشہور زمانہ استاد شاعر محمد عمر شفقؔ سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ۱۹۸۶ء میں باقاعدہ ان کے شاگرد ہو گئے۔ ۲۰۰۱ء میں ان کے انتقال کے بعد سے آخری عمر تک ہوشؔ نعمانی رامپوری سے مشورہ سخن کرتے رہے۔ آخری عمر میں اپنے آبائی گاوں لکھماں پور واپس آ گئے اور ۲۰۱۱ء میںوہیں ان کا انتقال ہوا۔

پروازؔ جونپوری بچپن سے ہی گردش حالات کا شکار رہے ہیں اور دکھوں سے ان کا بہت قریبی رشتہ رہا ہے۔ ان دکھوں سے جو ان کے حصہ میں کاتب تقدیر نے لکھے، ان دکھوں سے جو انہیں وقت اور حالات نے دیئے، ان دکھوں سے جو انہیں دوستوں اور رشتہ داروں سے ملے، ان دکھوں سے جو انہیں سماج اور معاشرے نے دیئے۔ غرض دکھوں کی جتنی اقسام ہو سکتی ہیں سب ان کے حصے میں آئے۔ اس کے باوجود یہ درد آشنا شاعر کبھی جھنجھلایا نہیں بلکہ سارے دکھوں کو گلے لگائے بڑی خندہ پیشانی سے زندگی جیتا رہا۔ ہاں! اتنا ضرور ہے کہ ان دکھوں کی جھلک ان کی صحت اور شاعری دونوں میں نمایاں رہی۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

رنج میں، فکر میں، دردر میں، سوز میں
عمر پروازؔ ساری بسر ہو گئی

دنیا میں اپنی بیتی ہے اس طرح زندگی
ر دم شکار گردش دوراں رہے ہیں ہم

غزل سرائی کا جذبہ تو دل میں ہے لیکن
تاڑ رہی ہے ابھی فکر روزگار مجھے

پرواز ؔ جونپوری کی زندگی میںابتدا سے جو اتھل پتھل رہی ہے اورتمام عمر جس کا سلسلہ جاری رہا۔ بچپن میں یتیمی تو جوانی میں بے روزگاری سے برسرپیکار رہنے والے، سماجی سطح پر ناقدری جھیلنے والے پرواز’ؔ جونپوری کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ وہ تما م عمر اولاد گزیدہ شخص رہے۔ جی ہاں! چونکئے نہیں۔ یہ محاورہ نیا ضرور ہے لیکن آج کے پس منظر میں انوکھا نہیں۔ سگ گزیدہ بھونکتا ہے، زن گزیدہ آہیں بھرتا ہے۔ مار گزیدہ پل میں اگلے جہاں سِدھارتا ہے لیکن اولاد گزیدہ اتنا بے بس ہوتا ہے کہ آنسو بھی نہیں بہا سکتا۔ اس لئے کہ جس طرح بچے ظالم باپ سے کانپتے رہتے ہیں ویسے ہی بوڑھا باپ جاہل و نا خلف اولاد کے خوف سے بے بسی کی تصویر بن جاتاہے۔ یہ صورت حال اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتی ہے جب مالی حالت نا گفتہ بہ ہو۔ بعینہٖ یہی تصویر پروازؔ جونپوری کی آخری عمر میں رہی۔

وزیر اعظم کی تلاش

پرواز ؔ جونپوری کے پانچ بیٹے تھے۔ پانچ بیٹوں اور بہوئوں کے ہوتے ہوئے بھی پروازؔ جونپوری اپنی فالج زدہ بیوی کے ساتھ اسی گائوں میں تنہا رہتے تھے۔ ذریعہ آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے فاقہ کشی کا شکار تھے۔ دانے دانے کو محتاج ہو چکے تھے تو بیوی کا علاج کیا کرتے۔ پانچ بہوئوںکے ہوتے ہوئے بھی وہ خود ہی کھانا پکاتے، بیمار بیوی کی دیکھ بھال کرتے حتی کہ پاخانہ پیشاب بھی خودہی کرواتے تھے۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ایک ضعیف آدمی کا بھوکے پیاسے رہ کرتنہا فالج زدہ بیوی کی دیکھ بھال کرنا اور اس کی تمام حوائج ضروریہ کے ساتھ صاف صفائی کا خیال رکھنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے؟ مزید ستم یہ کہ دوا علاج تو دور کی بات، کھانے کے بھی لالے پڑے ہوں۔ آخری وقت میں ان کی مفلسی و لاچاری کا عالم میں نے دیکھا ہے۔ بارہا میں نے ان کو کھانے کی جگہ پارلے بسکٹ کو پا نی میں ڈبو کر کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اسی کسم پرسی کے عالم میں پہلے ان کی بیوی کا انتقال ہوا اور پھر ایک سال بعد ان کا بھی انتقال ہوگیا۔ اب یہ کہنا مشکل ہے کہ دونوں کا انتقال بیماری سے ہوا یا پھر بھوک سے؟ گرچہ وہ اپنے اس دکھ کو چھپانے کی بھرپور کوشس کرتے تھے اور کبھی چہرے پر شکن تک نہیں آنے دیتے تھے لیکن اولاد گزیدگی کا یہ دکھ لا شعوری طور پر ان کی شاعری میں در آیا ہے۔ صرف دو شعر میں انہوں نے اپنے سارے دکھ نچوڑ کر رکھ دئے ہیں۔ ملاحظہ ہو

صبر و برداشت کی توفیق بھی دے اس کو خدا
اس زمانے میں جسے صاحب اولاد کیا

بجز خدا کے مرے کون سہارا دیتا
اپنی اولاد کوئی غم گسار تھی ہی نہیں

پروازؔ جونپوری نے مذہبی، سماجی، سیاسی، معاشی، اور اخلاقی تمام موضوعات پر خامہ فرسائی کی ہے۔ ان کے مجموعہ میں غزلوں کے ساتھ ساتھ حمد و ثنا، نعت محمد ﷺ ’’آرزوئے مدینہ‘‘ ’’مدینے میں‘‘ ’’خدا ملا‘‘ ’’یا خدا‘‘ ’’ہمارا رسول‘‘ ’’شاہ امم‘‘ وغیرہ جیسی حمد و نعت بھی شامل ہیں۔ ان کا نعتیہ کلام بارگاہ رسالت میں خوصورت نذرانہ عقیدت ہے جو ان کو خوش نوا نعت گو کی سعادت سے سرفراز کرتا ہے۔ حمد و نعت کے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔
خدا کے لطف و کرم نے یہ شان بخشی ہے
وگرنہ وقت مرے حق میں سازگار نہ تھا

سوا خدا کے کیوں کسی کا آسرا چاہیں
ہو اس کا حکم تو مہرباں صیاد ہوتا ہے

تاریخ صحابہ کو ہم جب سے بھلا بیٹھے
پروازؔہوئے تب سے برباد و پریشاں ہم

پروازؔ جونپوری کی تعلیم کم سہی لیکن مطالعہ و مشاہدہ بڑا وسیع ہے۔ وہ نہ تو ماضی سے بیزار ہیں نہ ہی دور حاضر کے تقاضوں سے لا علم۔ ان کی دور بیںنگاہیں ہمیشہ تیزی سے رنگ بدلتی اقدار و روایات پر رہی ہیں۔ ٹوٹتی بکھرتی تہذیب کی کسک کو دل کی گہرایئوں سے محسوس کرتے ہوئے ان احساسات کو شعری پیکر عطا کرتے رہے ہیں۔

اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے (افسانہ) علامہ راشد الخیری

جنوں میں میں نے اڑائی ہیں دھجیاں لیکن
خرد میں جیب و گریباں چھپائے جاتا ہوں

وہ جس کے جھونکے تمہیں لے اڑیں زمانے میں
خدا گواہ، مجھے وہ ہوا پسند نہیں
وہ شداد، نمرود، فرعون و ہاماں
ہوئے سب کے سب بے نشاں دھیرے دھیرے
پروازؔ جونپوری ایک محب وطن شاعر ہیں اور ان کو اپنے مذہب کے ساتھ ہی وطن کی آبرو بھی عزیز ہے۔ وہ کہتے ہیں

فصل گل کی آبرو، صحن چمن کی آبرو
ہم کو رکھنی ہے بہر صورت وطن کی آبرو

حب الوطنی کے باوجود وہ وطن کے رہنمائوں اور نظام حکومت سے نالاں ہیں۔ آزادی کے بعد سے اب تک مسلمانوں کے ساتھ جو امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے۔ سیاسی، معاشی اور تعلیمی ہر میدان میں جس طرح مسلمانوں کا استحصال کیا جاتارہا ہے۔ فسادات میں انتظامیہ کا جو رویہ ہوتا ہے۔ دن کے اجالے میں قتل و خون، غارت گری و عصمت دری کے جو واقعات ہوتے ہیں۔ مزید ستم یہ کہ انہیں مظلوم و مجبور مسلمانوں کو مجرم بھی قرار دیا جاتا ہے۔ نا کردہ گناہوں کی پاداش میں انہیں دہشت گرد و غدار بھی کہا جاتا ہے۔ ان حالات میں مسلم رہنما نہ سہی لیکن شاعر و فنکار ضرور آواز اٹھاتا ہے۔ اس لئے کہ شاعر یا فنکار بنیادی طور پر بے حد حساس ہوتا ہے اور اپنے فن کے ذریعہ اپنے لوگوں کے دکھ درد کی عکاسی کرنا اپنا فریضہ سمجھتا ہے اور ظلم و ستم حد سے گذر جائے تو تو شاعر کا یہ احساس چیخ بن کر ابھرتا ہے۔ سچا شاعر وہی ہوتا ہے جو ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کاحوصلہ رکھتا ہو کیونکہ اس کا قلم اس کی قوم کی امانت ہوتا ہے۔ پروازؔ جونپوری کو اپنی اس ذمہ داری کا احساس بخوبی تھا۔ ان کی غزلوں میں جا بجا اس کا اظہار بھی ملتا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

صیاد! آشیاں بھی ہمارا نہیں رہا
آزاد ہو کے بھی تیرے گرفتار کیا کریں

ہر ایک فرد یہاں بے وطن سا لگتا ہے
وطن کا اپنے یہ کیسا نظام ہے لوگو

یوں تو الزام بہت تم نے لگائے لیکن
قاتلوں میں کب یہاں کوئی مسلماں نکلا

پروازؔ جونپوری اپنے سینے میں ایک درد مند دل رکھتے تھے۔ ان کے کلام کے مطالعہ سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ انسانی اقدار و روایات انہیں کس قدر عزیز ہیں۔ انسان دوستی اور رواداری و محبت ہی اصل زندگی ہے۔ یہ جذبات اگر کسی انسان میں موجود نہیں تو پھر بحیثیت اشرف المخلوقات اس کی زندگی بیکار ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ
جی رہے ہیں سبھی اپنی خاطر
زندگی یہ بھی کیا زندگی ہے

کام آئے جو ہر آدمی کے
بس وہی آدمی، آدمی ہے

جس آدمی نے توڑ دیا آدمی کا دل
اس آدمی کی کیوں نہ ہو بیکار زندگی

گذاروں خدمت خلق خدا میں زندگی اپنی
عبادت ہے یہی میری، یہی بس دین و ایماں ہے

مادیت پرستی کے اس دور میں زندگی کا تصور جس تیزی سے بدلا ہے۔ زندگی کے رویوں اور رجحانات میں جو تبدیلیاںآئی ہیں۔ شرافت کی قدریں جس طرح پامال ہوئی ہیں۔ وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں تو ایک شاعر کی نظروں سے کہاں اوجھل ہو سکتی ہیں۔ شاعر تو در حقیقت اپنے سماج کا آئینہ ہو تا ہے۔ اس کی نظریں نہ صرف پل پل بدلنے والے حالات پر ہوتی ہیںبلکہ وہ ان بدلتے ہوئے حالات کا بڑی ایمانداری سے تجزیہ بھی کرتا ہے۔ پروازؔجونپوری بھی اپنے سماج اور معاشرے کے حالات پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے۔ چنانچہ انہوں جب اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیا تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ وہ جس ماحول اور معاشرے میں جی رہے ہیں اس کی سب سے اہم روایت جہالت اور سب سے اہم قدر مادیت پرستی ہے۔ علم و آگہی سے دور کا واسطہ نہیں۔ جو شخص ملا جاہل ملا، جس گھر میں جھانکا،تاریکی ملی،جس گلی سے گذرے بداخلاقی ملی، جس منڈیر پہ نظر ڈالی عیاشی ملی۔ اس کی تہ تک پہنچنے کوشس کی اور دل ودماغ پر زور ڈالا تو بصیرت کی بھول بھلیوں کی پہلی منزل پر ہی یہ انکشاف ہوا کہ معاشرہ کے زوال، رشتوں کے انتشار، بکھرتی تہذیب اور اقدار و روایات کی پامالی کا واحد سبب چار سو پھیلی جہالت ہے، اور اس جہا لت کا واحد سبب خلیج کا رجحان اور سماج میں پھیلی مادیت پرستی ہے۔ چنانچہ وہ بلا تکلف یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ
کل تک جو بے وقار تھا سب کی نگاہ میں
آج اپنے شہر میں وہ بڑا با وقار ہے

اپنے وطن میں اس کا ستارہ ہے اوج پر
اس کا جوان بیٹا سمندر کے پار ہے

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ درہم و ریال کی آمد سے آدمی کا وجود کھوتا جا رہا ہے۔ اپنے پرائے کی شناخت دولت کی بھول بھلیوں میں گم ہو گئی ہے۔ خون کے رشتوں کی بنیادیں کھوکھلی ہو گئی ہیں۔ گھر اور خاندان بکھر چکا ہے۔ بھاگتی دوڑتی زندگی میںدولت کو ہی اولیت حاصل ہے۔ دولت ہی اب شرافت کا معیار اور رشتوں کی اصل بنیاد بن گئی ہے۔ ایک غریب آدمی کی سماج میں کیا حیثیت ہے۔ گھر خاندان اور رشتہ دار غربت میں کس طرح پیش آتے ہیں۔ اس کا بھی پروازؔ جونپوری کو بڑا تلخ تجربہ رہا ہے۔ تا عمر وہ غریبی جھیلتے رہے اور شرافت ڈھوتے رہے جبکہ کردار کے لحاظ سے انتہائی گھٹیا لوگ صرف دولت کی وجہ سے صاحب دستار ہو گئے۔ چور اچکے مسند نشیں ہوگئے۔ زندگی کی اس تلخ حقیقت کا جب پروازؔ جونپوری نے قریب سے مشاہدہ و تجزیہ کیا تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ

دولت اگر ہے پاس تو آسان ہے بہت
خالی اگر ہے جیب تو دشوار زندگی

منظر یہی ملے گا جہاں جایئے گا آپ
مجبور ہے کہیں، کہیں لاچار زندگی

ہے کون اس جہاں میں غریبوں کا دوستو
یہ وقت، یہ زمانہ تو بس اہل زر کا ہے

میرے اپنے بھی پرائے کی طرح ملتے ہیں
کیا مقدر بھی مرا گردش دوراں نکلا

درحقیقت پٹرو ڈالر نے ہمارے دماغ کی چولیں ہلا دی ہیں۔ ہماری نسلوں کو گمراہ کر دیا ہے۔ ہماری تہذیب کا جنازہ نکل چکا ہے۔ ہماری محبتیں نیلام ہو چکی ہیں۔ انسانیت سسک رہی ہے۔ اخوت و بھائی چارہ دم توڑ چکا ہے۔ بے حیائی گھروں میں پائوں پھیلا چکی ہے۔ شرم وحیا عنقاء ہو چکی ہے۔ پاکیزہ رشتوں کی دھجیاں اڑ چکی ہیں۔ اسلاف کی روحیں شرمندہ ہو رہی ہیںاور ہمارا سماج ذلت کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی حساس و خوددار انسان کا سر اٹھا کے جی لینابھی کوفہ میں ایمان بچا لینے کے مترادف ہے۔ منافقوں کی بھیڑ میںپروازؔجونپوری ایمان کے نقیب تھے۔ شہر مصر میں وہ مثل یوسف جیتے رہے اور انتہائی غربت کے باوجود دولت کی زلیخا کے اسیر نہیں ہوئے۔ ان کی سب سے بڑی دولت ان کی غیرت و حمیت تھی۔ وہ حالات سے کبھی دلبرداشتہ نہیں ہوئے بلکہ بڑے صبر اور حوصلے سے فقیرانہ زندگی جیتے رہے۔ چنانچہ وہ بڑے فخر و اعتماد سے کہتے ہیں کہ

چند سکوں کے لئے، عارضی شہرت کے لئے
اپنی غیرت کا کسی طرح بھی سودانہ کرو

شاعر یا فنکار جب اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیتا ہے تو نفسیاتی طور پر خود احتسابی کی کیفیت طاری ہوتی ہے لیکن انکشاف ذات کا سلیقہ اور نفس پر قابو پانے کا حوصلہ ہر شخص کو نہیں ہوتا۔ پروازؔ جونپوری کے اندر اس کا سلیقہ بھی ہے اور حوصلہ بھی۔ غیروں کی عیب جوئی اور کردار کشی سے حتی الامکان گریز کرتے رہے۔ دوسروں کے دامن پر داغ ڈھونڈنے کے بجائے ہمیشہ اپنے دامن کا جائزہ لیتے رہے۔ اپنی عادات و اطوار کا محاسبہ اور اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کا تجزیہ اور پھر ان کی اصلاح کو ہمیشہ اولیت دیتے رہے۔ در اصل یہی عرفان ذات ہی عرفان خدا کی پہلی سیڑھی ہے۔ ’’من عرف نفسہٖ فقد عرف ربہ‘‘جس نے خود کو پہچان لیا اس نے خدا کو پہچان لیا۔ عرفان ذات کی یہی کیفیت پروازؔ جونپوری کے یہاں بھی ملتی ہے جس کا اظہار ان کی شاعری میں جا بجا موجود ہے۔(مغل اعظم پرواز جونپوری)


دیکھ کر سب کو جب اپنے پرنظر ڈالی ہے
ہم سے اچھے تو سبھی لوگوں کے کردار لگے

دل کی گہرایئوں میں جب کبھی دیکھا ہم نے
ہم ہی ٹھہرے ہیں برے، ہم ہی گنہگار لگے

ہم کسی کی خامیوں پر کیا نظر رکھتے حضور
ہم تو اپنے آپ میں اپنی کمی ڈھونڈا کئے

غیروں کے عیب و داغ پر ہنسنے سے پیشتر
خود اپنی خامیوں پہ بھی شرمانا چاہیے

پرواز جونپوریؔ کی شاعری میں تغزل کے ساتھ رومان و محبت کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔ محبوب کی ملاحت، غزل کی لطافت، پیار کی خوشبو، دل کا اضطراب، ہجر کی تڑپ اور وصال کی لذتیں بھی موجود ہیں۔ احباب کی نا قدری کے با وصف محبوب کی محبت ہی انہیںجینے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ زندگی کی دشوار گذار راہوں میں محبوب کا خیال ہی ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ

آرزو کی راہوں سے منزل محبت تک
یاد رہنما تیری، شوق ہم سفر میرا

ہنستے ہیں میرے زخم تمنا پہ کس لئے
یہ التفات آپ کے تیر نظر کا ہے

مشتاق یوسفی کا کہنا ہے کہ مرد پہلی بار عشق کرتا ہے، دوسری بار بدمعاشی اور تیسری بار نری عیاشی۔ بڑی خوش آئند بات یہ ہے کہ پرواز ؔ جونپوری کے مزاج اور ان کے حالات نے انہیں پہلے مرحلے سے آگے بڑھنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ اس لئے زندگی اور شاعری دونوں میں بدمعاشی کا گذر ہو سکا نہ ہی عیاشی کا۔ ان کی شاعری محض ابتدائے عشق کا نمونہ ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

جب سے دیکھا ہے میں نے کسی کو
ساری دنیا مجھے دیکھتی ہے

یاد تو تمہیں ہو گا دور وہ محبت کا
ہر سوال پر میرے لا جواب ہو جانا

گردش حالات نے انہیں غم جاناں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ہی نہیں دیا۔ اس لئے ان کی شاعری کا یہ پہلو ذرا پھیکا اور دھندلا رہ گیا اور یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی اور شاعری دونوں میں پاکیزگی کی خوشگوار فضا برقرار رہی۔ در اصل زندگی اور شاعری دونوں میں پاکیزگی کی فضاء کا برقرار رہنا اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ شاعر یا فنکار نے محبت کس سے اور کس انداز سے کی ہے۔؟ عشق کی اصل بنیاد کیا ہے۔ ؟ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عشق کا جادو چاہے تو دیوتا بنا دے اور چاہے تو راکشس۔ توحید کے علمبردار پروازؔجونپوری عشق میں بھی توحید کے قائل رہے ہیں اس لئے ان کے پہلے عشق کی وحدت نے انہیں فرشتہ بنا یا نہ شیطان بلکہ وہ ایک بھرپور انسان بنے جو فریق مخالف کے انسان ہونے پر یقین رکھنے کے ساتھ ہی اس کا تہ دل سے احترام بھی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس عمر میں لوگ سجدہ تلاوت ادا کرتے ہیں اس عمر میں بھی پرواز ؔ جونپوری سجدہ محبت ادا کرنے میں مصروف رہے،جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ

سجدہ محبت کی رسم ٹوٹ جائے گی
تیرے آستانے سے اٹھ گیا جو سر میرا

محبوب کے آستانے پر سجدہ شوق ادا کرنے کے باوصف پروازؔ جونپوری کو عشق کی خودی کا پورا احساس ہے۔ اس کا مطلب حسن کی بندگی یا برتری ہرگز نہیں بلکہ صرف جذبہ محبت کا اظہار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حسن کو وقتاً فوقتاً یہ احساس بھی دلاتے رہتے ہیں کہ بلا وجہ حسن مغرور نہ ہو، ا س لئے کہ حسن کی قدر و قیمت عشق کی ہی رہین منت ہے۔ عشق کی چاک دامانی میں ہی حسن کی بقاء ہے۔ حسن کے ناز نخرے اٹھانے کے لئے اگر عشق نہ ہو تو حسن بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ اس لئے حسن کو بھی عشق کی حوصلہ افزائی ناگزیر ہے۔(مغل اعظم پرواز جونپوری)

بات پروازؔ کی یاد رکھنا، عاشقوں سے نہ دامن بچانا
حسن کو سارے عالم میں شہرت، عشق کی بدولت ملے گی
ہم نہ ہوں گے تو ستم کس پہ کرو گے
اک ہمیں تو ہیں ترے ناز اٹھانے والے

بحیثیت مجموعی پروازؔ جونپوری کا شعری مجموعہ ’’چراغ راہ‘‘ مختصر مگر گراں قدر شعری سرمایہ ہے جو اس پرآشوب دور میں بھی اردو ادب میں ایک قابل قدر اضافہ ہے۔ کیونکہ ان کی شاعری زندگی کی تلخ حقیقتوں کی ترجمان ہونے کے ساتھ ساتھ تاریک ماحول میں واقعی چراغ راہ ہے۔ جس کی روشنی میں نئی نسل کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ہی ان کی گم گشتگی کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ ’’چراغ راہ ‘‘ سے پروازؔ جونپوری کی متوازن ذہنیت کے ساتھ ہی ان کی حق گوئی و بے باکی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔

مغل اعظم پرواز جونپوری

حق بات پہ جیتے ہیں، حق بات پہ مرتے ہیں
ڈرتے نہیں باطل سے ہم دار و رسن والے

ہم حقیقت سے گریزاں نہیں ہونے والے
بات ہونٹوں پہ جو آئے گی کھری آئے گی

اس منافق عہد میں ان کی یہ حق بیانی لائق ستائش ہے اور ان کی شاعری کایہی نمایاں پہلو ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش کے مسائل کا تجزیہ بڑی صاف گوئی سے کرتے ہیںاور امیر شہر کی تائید و حمایت کے بجائے حق کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جبکہ بیشتر شعراء اعزاز و اکرام کی خواہش میں محض قصیدہ خوانی کرتے ہیں یا پھر حقیقت سے انحراف کرتے ہوئے محض تخیل کی وادیوں میں گم خیالی باتیں کرتے ہیں۔ اول الذکر رویہ کو لوگ دور اندیشی تو موخرالذکر کو فن کی معراج سمجھتے ہیں۔ ایسے بے ضمیر، مصلحت پسند اور تخیلات کی وادی میں گم شعراء کے لئے قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ ’’انما الشعراء ہم الغائون‘‘(رہے شعراء تووہ بالکل گمراہ ہیں)۔ ایسے گمراہ شعراء سے محتاط رہنے کے ساتھ نئی نسلوں کو بھی ان سے بچانے کی ضرورت ہے۔ بقول پروازؔ

حالات کی خبر ہے، نہ کچھ اپنا سراغ ہے
میں کیسے مان لوں کہ وہ حاضر دماغ ہے

قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ چٹانوں کے اس گلاب کو آج تک گلستان شعر و ادب میں کوئی جگہ نہ مل سکی۔ اس کی خوشبو کو کبھی سراہا نہیں گیا۔ اس کے نام کوئی شام منسوب نہ ہو سکی۔ جبکہ ان کے ہم عصر بہت سے بے ضمیر و مصلحت پسند شاعر دولت کے سہارے آسمان ادب پر چھا گئے۔ گروپ بندی و پروپیگنڈے کے ذریعہ عالمی شاعر بن گئے۔ خوشامد اور چاپلوسی کر کے صاحب اعتبار ہو گئے۔ مگر مفلسی نے پروازؔ جونپوری کے سارے پر ہی کتر لئے۔ ان کی خودی نے ان کے سب بازو اکھاڑ دئے۔ اس میں ان کا کوئی قصور نہیںکہ دولت کے پجاری سماج میںمفلسی سب سے بڑا گناہ، فنکار کی پیشانی پر سب سے بد نما داغ اور اس کی راہ کا سب سے بڑا روڑہ ہے۔ جس کے باعث اسے ہر قدم پر شکست سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ بقول پروازؔ جونپوری

ہے کون اس جہاں میں غریبوں کا دوستو !
یہ وقت، یہ زمانہ، تو بس، اہل زر کا ہے

مغل اعظم پرواز جونپوری مغل اعظم پرواز جونپوری مغل اعظم پرواز جونپوریمغل اعظم پرواز جونپوری مغل اعظم پرواز جونپوری مغل اعظم پرواز جونپوری مغل اعظم پرواز جونپوری مغل اعظم پرواز جونپوری مغل اعظم پرواز جونپوری

اپنا تبصرہ بھیجیں