88

درندہ

Spread the love

وہ ایک درندہ تھا –
انسان کے روپ میں ایک بھیڑیا –
اپنے دوست کی جس چھ سالہ بیٹی پر اس کی بری نظر تھی
وہ اس کی بیٹیوں سے بھی کہیں چھوٹی ہوتی
اگر وقت پر اس نے شادی کر لی ہوتی –
اس کو وہ بہلا پُھسلا پر جس پارک میں لے آیا تھا
وہ گرمیوں کی اس چلچلاتی دوپہر میں ویران پڑا ہوا تھا –
جب بچی کی ماں اسے ڈھونڈتی ہوئی اس تک پہنچی
تو وہ ایک ہی بات بار بار پوچھتی، ہوئی بے ہوش ہو گئی
” امی انکل کو کیا ہو گیا تھا –
انہوں نے مجھے چوٹ کیوں لگائی “

اپنا تبصرہ بھیجیں