42

اپاہج

Spread the love

کون چاہے گا 
کون اپنائے گا 
مجھ اپاہج کو
جو اپنا بوجھ بھی اٹھانے کے قابل اب نہیں رہا
جو بیساکھی کے سہارے بھی چل نہیں سکتا
جس کی زندگی وہیل چئیر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے
بھول جائیں امی
اب آپ کا بیٹا کبھی نارمل زندگی نہیں گزار سکتا
کبھی بھی نہیں
وہ سسک رہا تھا  
کس نے کہا آپ پیار کے قابل نہیں
ایک قدم تو بڑھائیں
زندگی بانہیں پھیلائے آپ کی منتظر ہے
معذور ہیں تو کیا ہوا
ہمارا پیار بیساکھی بن کر ہمیں سہارا دے گا
جسے کبھی حقارت سے ٹھکرایا تھا اسی نے محبت سے تھام لیا تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں