83

عالمی یوم حجاب پر خصوصی پروگرام کریں گے:عائشہ سید

Spread the love
جماعت اسلامی حلقہ خواتین پاکستان کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور سابق ممبرقومی اسمبلی عائشہ سید کی پر یس کانفر نس

اسلام آباد (مہتاب پیرزادہ سے )(عالمی یوم حجاب عائشہ) جماعت اسلامی حلقہ خواتین پاکستان کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور سابق ممبرقومی اسمبلی عائشہ سید نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے زیر اہتمام سات ستمبر کو اسلام آباد میں قومی حجاب سیمینار منعقد ہوگا، جس سے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اور جماعت اسلامی خواتین کی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی اور معاشرے کی دیگر خواتین خطاب کر یں گی۔

انھوں نے کہا عاملی یوم حجاب کے موقع پر ہم حکومت سے مظالبہ کر تے ہیں کہ وہ ملک میں حیا اور حجاب کے کلچر کی ترغیب اورحوصلہ افزائی کے لیے خصوصی اقدامات، جائے ملازمت پر عورت کو عزت، وقار اور تحفظ فراہم کیا جائے، تعلیمی نصاب اس طرح مرتب کیا جائے کہ چھوٹی عمر سے ہی بچوں اور بچیوں میںحیا کی آبیاری ہو سکے،جبکہ پرنٹ ،الیکڑ نک اور سوشل میڈیا پر ایسے مواد کے نشرکرنے پر پابندی عائد کی جائے جو بے حیائی، عریانی، فحاشی پھیلانے کا سبب بن رہے ۔

معیاری اور نایاب اردو کتب پڑھنے اور داونلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

عائشہ سید نے کہا ا یوم حجاب منانے کا مقصد معاشرے میں حیا کی اقدار کی بحالی اور معاشرے کومسلمان عورت کا باوقار مقام یاد دلانا ہے،2004 میں دنیا بھر میں قائم مسلمان تنظیموں کی جانب سے 4 ستمبر کو عالمی سطح پر یوم حجاب قرار دیا گیا ہے۔حلقہ خواتین جماعت اسلامی کے تحت یہ دن پاکستان میں ہر سال منایا جاتا ہے اس کا مقصد دنیا بھر میں پردے اور حجاب کی بنیاد پر امتیازی سلوک یا تعصب کا نشانہ بننے والی خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے، عائشہ سید نے کہارواںسال کو بھی جماعت اسلامی خواتین نے جماعت اسلامی پاکستان نے”حیا وحجاب۔۔ تحفظ بھی،رحمت بھی “ کے عنوان سے عشرہ حجاب منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں عالمی یوم حجاب کے موقع پر پر یس کانفر نس کر تے ہو ئے کیا ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کی سابق ایم این اے بلقیس سیف ، پنجاب کی نائب ناظمہ سکینہ شاہد ، اسلام آباد کی ناظمہ نصرت ناہید،شبانہ ایاز ،رخسانہ غضنفر، راحیلہ ارم ساجدہ ابصار ، قدسیہ مدثر ،، فر قانہ قاضی اور دیگر خواتین رہنماءبھی موجو د تھیں ۔عائشہ سید نے کہا میڈیا پر عورت کا استحصال اور بے راہ روی کے یہ رجحانات معاشرے میں عورت کے تحفظ اور احترام کی صورتحال کو مزید خراب کررہے ہیں،آج بچہ ہو یابچی پہلے سے کہیں زیادہ غیر محفوظ ہو گئے ہیں،عالمی یوم حجاب کے اس موقع پر ہم ان منفی رجحانات کی اصلاح کرنے کے لیے معاشرے کے با شعور طبقات کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں،ہمارے معاشرے میں حیا کی قدریں کمزور پڑ گئی ہیں، حیا اور شائستگی کی جگہ بے باک اور بولڈ رویے عام ہوگئے ہیں۔

مادر پدر آزادی کسی بھی معاشرے کیلئے زہرقاتل ‘ نعمان اعجاز

انھوں نے کہا میڈیا اور کاروباری ادارے جس طرح عورت کی خوبصورتی کواشتہارات میں کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں، ہم پاکستانی خواتین اس کی مذمت اور مخالفت کرتی ہیں اور اس استعمال کو اپنی نسوانیت کی توہین سمجھتی ہیں۔ ہم یہ بھی باور کراناچاہتے ہیں کہ مسلمان عورت کوئی پراڈکٹ نہیں ہے جس کو اشتہارات میں نامناسب طور پر استعمال کیا جائے یا اس کے حسن سے اشیا کی قیمتیں متعین کی جائیں، یہ عورت کا کھلا استحصال ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کی عطا ہے۔

انھوں نے کہا سروے کے مطابق پاکستان میں 98% عورتیںگھر سے نکلتے وقت پردے کی کسی نہ کسی صورت کی حامی ہیں، جب کہ صرف دو فیصدخواتین سر ڈ ھانپنا ضروری نہیں سمجھتیں۔بلقیس سیف نے کہا حجاب نہ صرف مسلمان عورت کے وقار کی علامت ہے بلکہ یہ عورت کا اعتماد بھی ہے جو اسے معاشرے میں ایک متحرک اور فعال کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے ،ہماری ہر علاقائی ثقافت میں خواتین کا لباس ساتر اور باپردہ ہے یہاں خواتین کی بھاری اکثریت با حجاب ہے ۔

شہروں میں خواتین اورنوجوان لڑکیاں بڑی تعدادمیں خود کوکسی نہ کسی شکل میں ڈھانپ کر باہر نکلنا پسند کرتی ہیں۔انھوں نے کہا ایسے میں یہ ضروری ہے کہ اچھی روایات و اقدار کی بقا اور تقویت کے لیے معاشرے میں خیر کی قوتیں باہم مل کر کوشش کریں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ پردہ یا حجاب کبھی بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا ہے۔

گستاخانہ خاکوں کی مذمت،اقوام متحدہ اس مسئلہ کا تدارک کرے،شاہ محمود قریشی

الحمداللہ ہماری خواتین حجاب میں رہتے ہوئے پارلیمنٹ، تعلیم خدمت ،میڈیا غرض ہر شعبہ ہائے زندگی میںاعتماد کے ساتھ خدمات سرانجام دے رہی ہیں ۔سکینہ شاہد نے کہا ڈراموں میں قریبی اور محترم رشتوںکی حرمت کوپامال کیا جارہا ہے،۔ بچے تو بچے،باشعور افراد بھی دل و نگاہ کی حفاظت سے بے بہرہ ہوتے جا رہے ہیں۔ میڈیانے بھی اس ضمن میں بہت حد تک منفی کردار ادا کیا ہے الیکڑانک میڈیا پہ مغربی اور بھارتی کلچر کے اثرات کے باعث ہمارے ہاں بھی عریانیت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کے تحت عشرہ حجاب کے موقع پر منعقد ہو نے والی سر گر میاں

٭….یکم ستمبر کو زوم پر بین الاقوامی حجاب ویبینار کا اہتمام کیا گیا۔

٭….بڑے شہروں میں سیمینارز‘ کانفرنسز اور ڈسکشن فورمز رکھے جائیں گے(گجرات ،سرگو دھا،منڈی بہاالدین اور اسلام آباد)

٭…..۷ستمبر بروز پیر سپہر ساڑھے تین بجے شیش محل ہال اسلام آباد ہوٹل میں سیکٹری جنرل حلقہ خواتین دردانہ صدیقی کی زیر صدارت حجاب سیمینارحیاو حجاب رحمت بھی تحفظ بھی کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔جس سے سینیٹر سراج الحق امیر جماعت اسلامی پاکستان خصوصی خطاب کریں گے۔

٭…. جے آئی یوتھ،شعبہ اطفال اور شعبہ تعلقات عامہ کے زیر اہتمام ڈسکشن فورمز،اسٹڈی سرکلزاورمباحثے منعقد کیے جائیں گے۔

٭….محفوظ معاشرے کی تشکیل میں مردوں کی زمہ داریوں پر لیکچرز رکھوائے جائیں گے۔

٭….معاشرے کی مختلف طبقات کی خواتین کی آراپرسروے کرایاجائیگا۔

٭…. میڈیا پرسنز،اینکرز کے نام خطوط ارسال کیے جائیں گے۔

٭….بیوٹی پارلر اور بوتیک مالکان کو خطو ط اور لٹریچرپہنچا یا جائے گا۔

٭….بڑے شہروں میں شاہراہوں پر بل بورڈز اور حجاب سے متعلق ہورڈنگز آویزاں کیے جائیں گے۔

٭….بڑے شہروں میں موجود شاپنگ مالز میں مالکان سے ملاقات کر کے ان کے تعاون سے حجاب اسٹالز لگائے جائیں گے۔

٭….لباس تہذیب کی علامت یا ”لباس فیشن اور اسلام “کے عنوان سے کتابچے بڑی تعداد میں تقسےم کیے جائیں گے۔

٭….شعبہ نوجوان کے تحت گرافک آرٹس کے مقابلہ کا انعقاد کیا جائے گا۔٭….قومی و صوبائی اسمبلیوں کی خواتین ممبران سے ملاقات کی جائی گی۔

٭….آن لائن ادبی نشست کا انعقاد کیا جائے گا ۔

٭….قرآن انسٹیوٹ اور جامعات میں مختلف تقاریر و مباحثوں کا اہتمام۔

عالمی یوم حجاب عائشہ عالمی یوم حجاب عائشہ

اپنا تبصرہ بھیجیں