44

فیس بک نے مودی کو لانے کی راہ ہموار کی، راہول گاندھی

Spread the love

سرینگر(صرف اردو آن لائن نیوز) فیس بک مودی کو

بھارتی سیاسی تنظیم کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے بی جے پی اور فیس بک مابین بد

صورت گٹھ جوڑ بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا نے بی جے پی اور مارک زرک

برگ مابین گٹھ جوڑ کا پردہ فاش کر دیا ہے فیس بک نے انتخابات میں بی جے پی کیلئے راہ ہموار

کی مودی سرکار فیس بک انڈیا کے مجرموں کو بچانے آئی ہے بی جے پی کی انتخابی تشہیر سے

منسلک شخص بھارت میں واٹس ایپ کا اعلی افسر ہے کسی کو بھی ہمارے اندرونی معاملات میں

دخل اندازی کی اجازت نہیں دی جا سکتی اس لئے مارک زرک برگ ضروری اقدامات لیں بین

الاقوامی میڈیا کے مطابق فیس بک سے بی جے پی کے راست تعلق سامنے آنے کے بعد کانگریس

نے ایک بار پھر فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ کو خط لکھ کر ضروری اقدامات کرنے کی

اپیل کی ہے بی جے پی اور فیس بک کے مابین سازباز کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس کے سابق

صدر راہول گاندھی نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا نے بھارت کی جمہوریت اور معاشرتی ہم آہنگی پر

سوشل میڈیا کی ‘ڈھٹائی’کو بے نقاب کردیا ہے انہوں نے اپنے ٹویٹ میں سوشل میڈیا کو نشانہ بنایا اور

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک حالیہ رپورٹ کو ٹیگ کیا جس میں ایک ایگزیکٹونے مبینہ طور پر بی

جے پی کے حق میں داخلی پیغامات پوسٹ کرنے کے بعد فیس بک کے ملازمین کی جانب سے اس

کی ہندوستان ٹیم کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھائے تھے مشہور امریکی رسالہ ‘ٹائم’ میں شائع خبر

کی بنیاد پر کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ واٹس ایپ پر پے منٹ سہولت کا لائسنس حاصل کرنے

کے لیے فیس بک نے بی جے پی کی انتخابی تشہیر سے جڑے شخص کوبھارت میں واٹس ایپ کا

اعلی افسر بنا رکھا ہے انہوں نے کہا کہ ‘ بین الاقوامی میڈیا نے بھارت کی جمہوریت اور سماجی ہم

آہنگی پر فیس بک اور واٹس ایپ کے حملے کو پوری طرح سے بے نقاب کردیا ہے ‘راہول گاندھی

آسٹریلیا کا جلد کورونا ویکسین بنا کر مفت فراہم کرنے کا اعلان

نے ٹویٹ کیا کہ ’کسی کو بھی نہیں‘ کسی غیر ملکی کمپنی کو بھی ہمارے ملک کے اندرونی معاملات

میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ان کی فوری طور پر تفتیش کی جانی چاہئے اور

جب اسے قصوروار پایا جاتا ہے تو سزا بھی دی جائے۔’امریکی سوشل میڈیا کمپنی فیس بک نے اپنی

صفائی پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ کمپنی منافرت انگیز تقریروں یا تشدد کو فرو غ دینے والے مواد

پر پابندی عائد کرتی ہے اوراس پالیسی کو عالمی سطح پر نافذ کرتے وقت یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس

کا تعلق سیاسی حالات یا کسی سیاسی جماعت سے ہے دریں اثنا ء آئی ٹی کے مرکزی وزیر روی

شنکر پرساد نے فیس بک کے چیف ایگزیکیوٹیو مارک زکربرگ کو لکھے گئے تین صفحات پر

مشتمل خط میں فیس بک انڈیا ٹیم میں مامور افراد کے ذریعہ مرکزی حکومت کے نظریات کی تشہیر

کرنے کی شکایات اور تعصب برتنے کا الزام عائد کیا ہے زکربرگ کو پرساد کے خط کو ٹیگ کرتے

ہوئے کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والا نے دعوی کیا کہ مودی حکومت فیس بک انڈیا

کے مجرموں کو بچانے کے لئے آتی ہے کیونکہ بدصورت گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا ہے ۔

فیس بک مودی کو

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے توشیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں