85

پچاس برس کی رام کہانی

Spread the love

پچاس برس کا سفر کیا ہے گویا سرپٹ بھاگتی زندگی کی ریل گاڑی پچاس اسٹیشنوں پر پل بھر کر رُکی ہو۔

بہت سوں کی تو یاد بھی باقی نہیں، بس یہ ہوا کہ ہر پڑاؤ پر سامان میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
اب جب طوق گلےتک آن پہنچے تو سوچنا پڑ گیا کہ اگلے کسی بھی اسٹیشن پر اترنا پڑ گیا توکس بوجھ

سےکس طور جان چھوٹے گی اور کیا سامان ساتھ رہ جائے گا۔ حد ہو گئی۔
زندگی خواہ کتنی ہی بےکار اور لاحاصل ہی کیوں نہ گذرے،واپسی کی گھٹیاں سنائی دینے لگیں تو اُداسی اور مایوسی کی دُھول یوں قدموں سے لپٹتی ہے جیسے کچھ سانسیں اُدھار کی ملنے سےنہ جانے عظمت وکامیابی کا کون سا ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا جا سکے گا۔

شمائلہ رنجیت سلطان پور، لکھنئو کے گائوں پرتاپ نگر میں 1975 کو پیدا ہوئیں۔ پڑھنے لکھنے کا شوق بچپن سے ہی تھا، کم عمری میں گھر والوں نے اپنے کزن سے شادی کردی اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ لزبن پُرتگال آ گئیں، جہاں چند سالوں بعد شوہر نے طلاق دے دی، دو سال وہاں اکیلی جدوجہد کرتی رہیں اور زندگی کی گاڑی کو چلاتی رہیں، پھر رنجیت سنگھ نے جو کہ بٹالہ سے تعلق رکھتے تھے اور لزبن میں ایک اچھے کاروباری کی حیثیت رکھتے ہیں، شمائلہ کو اپنا جیون ساتھی بنا لیا، اور شمائلہ نے بھی رنجیت کو اپنا سب کُچھ مانتے ہوئے اپنا جیون ساتھی بنا لیا اور سکھ مزہب قبول کر لیا۔ شمائلہ اب رنجیت کے دو بچوں کی ماں ہی نہیں بلکہ ایم فِل کی طالبہ بھی ہیں اور پی ایچ ڈی کا ارادہ رکھتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں